LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعلیٰ مریم نواز نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح کر دیا وزیراعظم کا گوگل ٹیم کے اعزاز میں استقبالیہ، اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن واستحکام کی ضمانت حکومت اپوزیشن ہاتھ ملائیں ایکدوسرے کے ساتھ ہاتھ نہ کریں: لیاقت بلوچ جو کچھ ہوا اس کی توقع نہیں تھی، بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال سے واپس منتقل کرنا بدقسمتی ہے: چیئرمین پی ٹی آئی ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کیلئے سو مرتبہ جنگ کرنے کو تیار ہوں: ٹرمپ ملک بھر میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز عمران خان کا شفا ہسپتال میں تفصیلی معائنہ، صحت مند قرار، دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا: عطا تارڑ بلوچستان میں دشمن عناصر ریاست اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں: فیلڈ مارشل پاکستان اور شام کا دفاعی شعبوں میں تعاون اور روابط بڑھانے پر اتفاق ایران کے خلاف امریکی پابندیاں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ عائشہ وہاب امریکی کانگریس کی پہلی افغان نژاد خاتون رکن منتخب روس کے یوکرین میں مزید فضائی حملے، 17 افراد ہلاک، 40 زخمی دشمن کی دھمکیوں، حملوں کے باعث اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا دیا: ایران

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا چھوٹے کاروبار کی فنانسنگ ڈیڑھ کھرب تک بڑھانے کا ہدف

Web Desk

9 July 2026

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی ترقی کے لیے ایک جامع عزم کا اظہار کرتے ہوئے جون 2028 تک ایس ایم ای فنانسنگ کے حجم کو بڑھا کر ڈیڑھ کھرب (1.5 ٹریلین) روپے تک پہنچانے کا اہم ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، مرکزی بینک نے قرض لینے والے چھوٹے کاروباری اداروں کی مجموعی تعداد کو 7 لاکھ 50 ہزار تک لے جانے کا اسٹریٹجک منصوبہ بھی تشکیل دیا ہے۔ پاکستان بینکنگ سمٹ 2026 سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے واضح کیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، زراعت اور کم لاگت رہائش جیسے ترجیحی شعبوں کو مناسب مالی سہولتوں کی فراہمی بینکاری کے شعبے کے لیے جہاں ایک بڑا چیلنج ہے، وہاں یہ ترقی کا ایک بہترین موقع بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ایک ایسا فعال بینکاری نظام ناگزیر ہے جو پیداواری سرمایہ کاری کی بھرپور اور بلا تعطل حمایت کرے۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے زراعت، ایس ایم ایز اور کم لاگت رہائشی اسکیموں کو ملکی روزگار، برآمدات اور مجموعی معاشی استحکام کے اہم ترین ستون قرار دیتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ان اہم شعبوں کو اب بھی مالی وسائل کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے ماضی کے مثبت اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ جون 2021 سے دسمبر 2025 کے دوران مرکزی بینک کی پالیسیوں کے باعث ایس ایم ای فنانسنگ کا حجم دو گنا سے بھی زائد ہو چکا ہے، جبکہ قرض لینے والے کاروباروں کی تعداد میں بھی تقریباً 75 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گورنر نے ان نتائج کو انتہائی حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کمرشل بینکوں پر زور دیا کہ وہ اب روایتی بینکاری سے ہٹ کر جدید ٹیکنالوجی اور نئی کاروباری حکمت عملی کے ذریعے اس شعبے کو مزید وسعت دیں۔

اسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بینک آف پنجاب کے صدر، چیف ایگزیکٹو آفیسر اور چیئرمین پاکستان بینکس ایسوسی ایشن ظفر مسعود نے نجی شعبے کو درپیش عملی مشکلات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے میں بینکنگ قرضوں کی راہ میں اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ ملک میں کاروباری اداروں کا بڑے پیمانے پر غیر دستاویزی (ان ڈاکیومنٹڈ) ہونا ہے۔ ظفر مسعود نے واضح کیا کہ جب تک یہ چھوٹے کاروبار باقاعدہ رجسٹرڈ نہیں ہوں گے اور ملکی ٹیکس نیٹ کا حصہ نہیں بنیں گے، تب تک بینک ان کی مالی حیثیت کا درست اندازہ لگا کر انہیں تجارتی قرضے فراہم کرنے سے قاصر رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی نئی طویل المیعاد حکمت عملی کے تحت اب ہدایت یافتہ قرضوں پر انحصار کم کیا جا رہا ہے، اور ایک ایسا جدید نظام تشکیل دیا جا رہا ہے جس میں ریگولیٹری اصلاحات، ڈیجیٹل جدت، رسک شیئرنگ اور بینکاری عملے کی صلاحیت سازی کو مستقل بنیادوں پر فروغ دیا جائے گا۔