اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا چھوٹے کاروبار کی فنانسنگ ڈیڑھ کھرب تک بڑھانے کا ہدف
Web Desk
9 July 2026
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی ترقی کے لیے ایک جامع عزم کا اظہار کرتے ہوئے جون 2028 تک ایس ایم ای فنانسنگ کے حجم کو بڑھا کر ڈیڑھ کھرب (1.5 ٹریلین) روپے تک پہنچانے کا اہم ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، مرکزی بینک نے قرض لینے والے چھوٹے کاروباری اداروں کی مجموعی تعداد کو 7 لاکھ 50 ہزار تک لے جانے کا اسٹریٹجک منصوبہ بھی تشکیل دیا ہے۔ پاکستان بینکنگ سمٹ 2026 سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے واضح کیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، زراعت اور کم لاگت رہائش جیسے ترجیحی شعبوں کو مناسب مالی سہولتوں کی فراہمی بینکاری کے شعبے کے لیے جہاں ایک بڑا چیلنج ہے، وہاں یہ ترقی کا ایک بہترین موقع بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ایک ایسا فعال بینکاری نظام ناگزیر ہے جو پیداواری سرمایہ کاری کی بھرپور اور بلا تعطل حمایت کرے۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے زراعت، ایس ایم ایز اور کم لاگت رہائشی اسکیموں کو ملکی روزگار، برآمدات اور مجموعی معاشی استحکام کے اہم ترین ستون قرار دیتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ان اہم شعبوں کو اب بھی مالی وسائل کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے ماضی کے مثبت اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ جون 2021 سے دسمبر 2025 کے دوران مرکزی بینک کی پالیسیوں کے باعث ایس ایم ای فنانسنگ کا حجم دو گنا سے بھی زائد ہو چکا ہے، جبکہ قرض لینے والے کاروباروں کی تعداد میں بھی تقریباً 75 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گورنر نے ان نتائج کو انتہائی حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کمرشل بینکوں پر زور دیا کہ وہ اب روایتی بینکاری سے ہٹ کر جدید ٹیکنالوجی اور نئی کاروباری حکمت عملی کے ذریعے اس شعبے کو مزید وسعت دیں۔
اسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بینک آف پنجاب کے صدر، چیف ایگزیکٹو آفیسر اور چیئرمین پاکستان بینکس ایسوسی ایشن ظفر مسعود نے نجی شعبے کو درپیش عملی مشکلات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے میں بینکنگ قرضوں کی راہ میں اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ ملک میں کاروباری اداروں کا بڑے پیمانے پر غیر دستاویزی (ان ڈاکیومنٹڈ) ہونا ہے۔ ظفر مسعود نے واضح کیا کہ جب تک یہ چھوٹے کاروبار باقاعدہ رجسٹرڈ نہیں ہوں گے اور ملکی ٹیکس نیٹ کا حصہ نہیں بنیں گے، تب تک بینک ان کی مالی حیثیت کا درست اندازہ لگا کر انہیں تجارتی قرضے فراہم کرنے سے قاصر رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی نئی طویل المیعاد حکمت عملی کے تحت اب ہدایت یافتہ قرضوں پر انحصار کم کیا جا رہا ہے، اور ایک ایسا جدید نظام تشکیل دیا جا رہا ہے جس میں ریگولیٹری اصلاحات، ڈیجیٹل جدت، رسک شیئرنگ اور بینکاری عملے کی صلاحیت سازی کو مستقل بنیادوں پر فروغ دیا جائے گا۔
متعلقہ عنوانات
وزیراعلیٰ مریم نواز نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح کر دیا
21 August 2026
وزیراعظم کا گوگل ٹیم کے اعزاز میں استقبالیہ، اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط
21 August 2026
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن واستحکام کی ضمانت
21 August 2026
پاکستان میں پہلا ڈی پی آر پروگرام متعارف، جدید مالیاتی نظام کی جانب اہم پیش رفت
21 August 2026
حکومت اپوزیشن ہاتھ ملائیں ایکدوسرے کے ساتھ ہاتھ نہ کریں: لیاقت بلوچ
21 August 2026
آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ 2026 کے طلبہ کا قلعہ بالاحصار پشاور کا دورہ
21 August 2026
جو کچھ ہوا اس کی توقع نہیں تھی، بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال سے واپس منتقل کرنا بدقسمتی ہے: چیئرمین پی ٹی آئی
21 August 2026
ملک بھر میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ
21 August 2026