LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی جیل سے پنجاب کارڈیالوجی منتقل وزیراعظم نے مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کا اہم اجلاس آج طلب کر لیا پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی حکومت سے مذاکرات کی حامی، طریقہ کار پر رہنما تقسیم اردوان کا ٹرمپ سے رابطہ، ترکیہ کی امن بحالی کی کوششوں سے آگاہ کیا امریکا کی امن مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا ایرانی عہدیدار کو خط تھرپارکر: ایمبولینس میں سلنڈر دھماکا، 8 افراد جاں بحق، 4 شدید زخمی راولاکوٹ میں فائرنگ سے پولیس اہلکار اور شہری زخمی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج گاڑی سمیت اغوا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، نئی قیمتیں مقرر اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کا اتحاد واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام، دھاندلی کے الزامات پاک افغان سرحد پر فائرنگ سے متعلق افغان طالبان کا بیان جھوٹا، من گھڑت قرار میر رضا کیس: سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی ہدایت پر جے آئی ٹی تشکیل دے دی ٹرمپ کے تعاون سے ایران کا خطرہ ہمیشہ کیلئے ختم کرنا چاہتے ہیں، نیتن یاہو لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا

امریکا کی جانب سے پابندیوں میں چھوٹ ختم، ایران کا 6 کروڑ 30 لاکھ بیرل خام تیل سمندر میں پھنس گیا

Web Desk

9 July 2026

امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران پر تیل کی فروخت سے متعلق پابندیوں میں دی گئی عارضی چھوٹ کو اچانک منسوخ کیے جانے کے بعد، ایران کا تقریباً 6 کروڑ 30 لاکھ بیرل خام تیل سمندر میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ امریکی معاشی جریدے ‘بلومبرگ’ کی ایک حالیہ تزویراتی رپورٹ کے مطابق، ویسل ٹریکنگ ڈیٹا (بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار) سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاکھوں بیرل ایرانی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات سے لدے ہوئے دیو ہیکل بحری ٹینکرز خلیجِ فارس سے لے کر آبنائے ملاکا تک کے وسیع سمندری پانیوں میں یا تو انتہائی سست رفتاری سے رواں دواں ہیں یا پھر بغیر کسی خریدار کے کھلے سمندر میں رکنے پر مجبور ہیں۔ بلومبرگ کا مزید کہنا ہے کہ اگر خطے میں جاری اس شدید فوجی کشیدگی کے باعث امریکہ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی کا عمل دوبارہ مکمل طور پر شروع ہوتا ہے، تو ایران کا مزید 5 کروڑ بیرل خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات مستقل طور پر پھنس جائیں گی جس سے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ واشنگٹن نے آبنائے ہرمز جیسے اہم ترین عالمی بحری راستے میں کمرشل اور تجارتی جہازوں پر ہونے والے حالیہ حملوں کا ذمہ دار براہِ راست تہران کو ٹھہرایا ہے، جس کے فوری ردعمل میں امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر تیل بیچنے پر دوبارہ سخت ترین پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حال ہی میں طے پانے والی ایک عبوری مفاہمتی یادداشت کے تحت واشنگٹن نے ایران کو 21 اگست تک عالمی مارکیٹ میں تیل بیچنے کے لیے 60 دنوں کی ایک عارضی مہلت اور اجازت دی تھی، تاہم خطے میں پیدا ہونے والی نئی عسکری صورتحال کے بعد امریکی محکمہ خزانہ نے ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے اس رعایتی مدت کو یکسر محدود کر کے اب صرف 17 جولائی تک کر دیا ہے۔ اس اچانک امریکی فیصلے اور پابندیوں کی واپسی نے جہاں ایرانی معیشت کے لیے سنگین مشکلات کھڑی کر دی ہیں، وہاں بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں بھی اچانک تیز رفتاری سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔