LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بھارت سندھ طاس معاہدہ بحال کرے، پانی کو بطور ہتھیار بنانا قوانین کی خلاف ورزی ہے: اسحاق ڈار ظہران ممدانی کا ارجنٹینا و مصر کے میچ میں متنازع فیصلوں پر ردِعمل ستھرا پنجاب پراجیکٹ: مالی بد عنوانی اور ورکرز کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی متعدد شکایات لاہور اور کراچی میں امریکی قونصل خانے بحال، ویزا سروسز کا آغاز یورپی یونین پاکستان کا مضبوط تجارتی شراکت دار ہے: اسحاق ڈار بہتر کارکردگی سے میری ٹائم سیکٹر میں پاکستان کا درجہ 30 فیصد بلند ہوا: افتخار احمد راؤ وزیراعظم سے کروشین وزیر خارجہ کی ملاقات، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق حکومتِ پنجاب اور امریکن قونصلیٹ لاہور کا کلچر کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا اہم اجلاس، اقتصادی سفارت کاری اور فعال خارجہ پالیسی کو وقت کی ضرورت قرار دے دیا ملکی تاریخ کا نیا ریکارڈ: مالی سال 26ء میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41.6 ارب ڈالر وطن بھیج دیے حکومت کا رواں مالی سال سے ہائبرڈ سکوک بانڈز کے اجرا کا فیصلہ محکمہ ایکسائز کا 25 ارب 43 کروڑ روپے کا ریکارڈ ریونیو جمع آبنائے ہرمز صرف ایرانی انتظامات کے تحت ہی کھلے گی: باقر قالیباف کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس سروس معطل محسن نقوی کی یو این سیکرٹری جنرل سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

ستھرا پنجاب پراجیکٹ: مالی بد عنوانی اور ورکرز کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی متعدد شکایات

Web Desk

9 July 2026

لاہور: “صفائی نصف ایمان ہے”۔۔۔ مگر کیا حکومت پنجاب کے اربوں روپے کے فلگ شپ پراجیکٹ ‘ستھرا پنجاب’ میں صفائی کے ساتھ شفافیت بھی موجود ہے؟ سال 2024ء میں شروع ہونے والے اس منصوبے کا بجٹ جہاں اب بڑھ کر 170 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، वहीं دوسری جانب یہ منصوبہ مالی بے ضابطگیوں، ٹھیکیداروں کی من مانیوں، اور غریب سینیٹیشن ورکرز کے شدید معاشی استحصال کا گڑھ بن چکا ہے۔

پنجاب بھر سے سامنے آنے والی احتجاجی لہر، تنخواہوں میں کٹوتی اور ایک نوجوان ورکر کی خودکشی نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے اس ماڈل پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

اس منصوبے کے تحت ورکرز کے استحصال کی سب سے ہولناک مثال گوجرانوالہ میں سامنے آئی۔ 7 جون 2026ء کو ‘امپیرئل ویسٹ مینجمنٹ کمپنی’ کے دفتر میں ذیشان نامی ایک نوجوان نے پوری تنخواہ نہ ملنے اور احتجاج کرنے پر نوکری سے نکالے جانے کے بعد مایوس ہو کر خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا لی۔ ذیشان 20 روز تک ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑنے کے بعد دم توڑ گیا۔

کاغذات میں مقررہ سرکاری تنخواہ کے برعکس، ٹھیکیدار اس کی تنخواہ سے 21 ہزار روپے ماہانہ کٹوتی کر کے اسے صرف 19 ہزار روپے ادا کر رہا تھا۔ ذیشان کی موت نے پورے پنجاب میں کام کرنے والے ہزاروں کنٹریکٹ ملازمین کے پوشیدہ درد کو زبان دے دی ہے۔

ٹھیکیداری نظام (آؤٹ سورسنگ) کے باعث پنجاب کے لگ بھگ ہر ضلع میں ورکرز سڑکوں پر ہیں۔ ملازمین کو نہ تو ہفتہ وار چھٹیوں کے پیسے ملتے ہیں اور نہ ہی سوشل سیکیورٹی فنڈز جمع کیے جاتے ہیں، جبکہ دیر سے آنے یا پرفارمنس کا بہانہ بنا کر تنخواہیں آدھی کر دی جاتی ہیں۔یہاں 11,780 کنٹریکٹ ملازمین گزشتہ 3 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں، جن کی ذمہ داری ٹھیکیداروں پر ڈال کر ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے پلہ جھاڑ لیا ہے۔ 40 ہزار کے بجائے ورکرز کو صرف 15 سے 20 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں۔تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور عید بونس نہ ملنے پر یکم جولائی کو پنجاب بھر میں تاریخی ہڑتال کی گئی، جہاں فیصل آباد میں ورکرز نے احتجاجاً کچرا سڑکوں پر بکھیر دیا۔ ‘کیگلک اینڈ کمپنی’ کے ورکرز دو ماہ سے واجبات کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔ٹھیکیدار کمپنیاں نہ صرف مزدوروں کا خون چوس رہی ہیں بلکہ حکومتی خزانے کو بھی اربوں کا چونا لگا رہی ہیں۔ مئی 2026ء میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے فیصل آباد اور تاندلیانوالہ میں کام کرنے والی کمپنی ‘کیئرز کنسورشیم’ کے خلاف ایک ارب روپے کی کرپشن کی ایف آئی آر (FIR) درج کی۔

کرپشن کا شعبہ کاغذات میں دعویٰ زمین پر اصل حقیقت فراڈ کی نوعیت
ملازمین (اسٹاف) مجموعی نفری 633 گھوسٹ (جعلی) ملازمین بغیر کام کیے کروڑوں کی تنخواہیں وصول کیں
کچرا کنٹینرز 2,317 کنٹینرز صرف 1,717 کنٹینرز موجود 600 کنٹینرز کا کرایہ اور ڈیزل ہڑپ کیا گیا
ویسٹ انکلوئیرز 118 انکلوئیرز صرف 33 انکلوئیرز تعمیر ہوئے 85 انکلوئیرز کے فنڈز ہضم کر لیے گئے

اس کے علاوہ کچرا اٹھانے والی گاڑیوں کے روٹس اور مائلیج (ڈیزل خرچ) کے جعلی ریکارڈز بنا کر حکومت سے اضافی ادائیگیاں وصول کی گئیں۔ یاد رہے کہ یہ پنجاب بھر میں کام کرنے والی 140 پرائیویٹ کمپنیوں میں سے صرف ایک کمپنی کی کہانی ہے۔

‘ستھرا پنجاب’ منصوبے کا مقصد صوبے کو صاف کرنا اور ہزاروں بیروزگاروں کو باعزت روزگار دینا تھا، مگر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا یہ ماڈل اب مافیا کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ اگر حکومتِ پنجاب نے فوری طور پر ڈیجیٹل مانیٹرنگ، تھرڈ پارٹی آڈٹ اور ٹھیکیداروں کے بجائے ورکرز کو براہِ راست بینک اکاؤنٹس میں پوری تنخواہ کی ادائیگی یقینی نہ بنائی، تو کرپشن کے یہ ڈھیر مزید گہرے اور ذیشان جیسے المناک واقعات مستقبل کا مقدر بنتے رہیں گے۔