جنسی تشدد کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے,عاصم افتخار
Web Desk
9 July 2026
پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کی تمام اقسام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کے خاتمے کے لیے مزید مؤثر عالمی اقدامات اور احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔ سلامتی کونسل کے کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ جنسی تشدد جنگ کا ناگزیر نتیجہ نہیں بلکہ اسے اکثر جان بوجھ کر جنگی حکمتِ عملی، دہشت اور اجتماعی سزا کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، بالخصوص غیر ملکی قبضے کی صورتحال میں خواتین اور بچے اس کا سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کسی بھی مجرم کو استثنیٰ دیے بغیر سیکریٹری جنرل کے فہرست سازی کے نظام کا اطلاق سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود تمام مسلح تنازعات پر کرے اور متاثرین کو طبی، نفسیاتی اور قانونی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انسدادِ تشدد کے لیے بین الاقوامی انسانی قوانین پر مکمل عملدرآمد اور تنازعات کی بنیادی وجوہات، بشمول غیر ملکی قبضہ اور حقِ خودارادیت سے انکار، کا مستقل حل ناگزیر ہے
متعلقہ عنوانات
اسرائیل نے پورے مشرق وسطیٰ میں بدامنی پھیلا رکھی ہے: مسعود پزشکیان
16 August 2026
حج 2027 کی درخواستوں کی وصولی 18 اگست سے شروع ہوگی، وزارت مذہبی امور
16 August 2026
نیویارک کے میئر زہران ممدانی کی اہلیہ کے دورۂ شام و لبنان اور سیکیورٹی تنازع پر ’غلط فہمی‘ کی وضاحت
16 August 2026
14 اگست کو احتجاج کرنے والے ہم میں سے نہیں: اختیار ولی پی ٹی آئی پر برس پڑے
16 August 2026
امریکا اور پاکستان کےدرمیان دوطرفہ تجارت 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی: نیٹلی بیکر
16 August 2026
سندھ میں نئے صوبے بنانے کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط ہے: ایم کیو ایم
16 August 2026
پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع مواقع ہیں: ہسپانوی سفیر
16 August 2026
وزیراعلیٰ مریم نواز سے اٹک کے ارکان اسمبلی کی ملاقات، ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال
16 August 2026