LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس کے کیف میں فضائی حملے، 6 افراد ہلاک، 59 زخمی برطانوی ایئربیس سے بی ون بمبار طیارے احتیاطی طور پر واپس بلائے: جے ڈی وینس روس میں طاعون کے ممکنہ کیس کا بغور جائزہ لے رہے ہیں: امریکی صدر سائبیریا میں سائنسی تجربہ گاہ میں خاتون محقق کی ہلاکت، علاقے میں شدید خوف و ہراس روشنی سے دماغی خلیوں کو کنٹرول کرنے والی تحقیق پر 3 سائنس دانوں کو نوبیل انعام اسرائیل کی فائرنگ اور گولہ باری سے 2 بچوں سمیت 6 فلسطینی زخمی عراقی شہر کرکوک میں داعش کے حملے، ایک پولیس اہلکار ہلاک، 4 زخمی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت مسلسل ریکارڈ کم سطح پر برقرار نیوزی لینڈ کی حکمران نیشنل پارٹی کی عوامی حمایت کم ہو کر 25.9 فیصد رہ گئی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اسلام آباد پہنچ گئے ملک میں بجلی کا شارٹ فال 4 ہزار میگا واٹ سے تجاوز کرگیا، بدترین لوڈشیڈنگ کا خدشہ سعودی آرامکو نے ایشیا کے لیے خام تیل سستا کردیا، قیمتیں 6 سال کی کم ترین سطح پر آگئیں آبنائے ہرمز میں بحری ٹینکر نامعلوم پروجیکٹائل کی زد میں آگیا، جہاز میں آگ بھڑک اٹھی حوثیوں کا سعودی دارالحکومت ریاض کے ائیرپورٹ اور آرامکو ریفائنری کو نشانہ بنانے کا دعویٰ میرا ذاتی خیال ہے اماراتی طیارہ واقعے کا ذمہ دار ایران ہے: ٹرمپ

سپیکٹرم شیئرنگ پالیسی تیار، نظرثانی کیلئے پی ٹی اے کو معاملہ ارسال

Web Desk

31 March 2026

اسلام آباد: وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ملک میں ٹیلی کام سروسز کے معیار کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کے لیے “سپیکٹرم شیئرنگ پالیسی” تیار کر کے حتمی نظرثانی کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کو بھجوا دی ہے۔ وزارتِ آئی ٹی کے مطابق، اس پالیسی کا بنیادی مقصد ٹیلی کام آپریٹرز کو ایک دوسرے کے ساتھ فریکوئنسی سپیکٹرم شیئر کرنے کی اجازت دینا ہے، جس سے نیٹ ورک کی گنجائش اور کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

اس نئی پالیسی کے تحت نہ صرف سپیکٹرم بلکہ انفراسٹرکچر شیئرنگ پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ اب ایک ہی موبائل ٹاور کو مختلف ٹیلی کام کمپنیاں مشترکہ طور پر استعمال کر سکیں گی، جس سے آپریٹرز کے اخراجات میں کمی آئے گی اور نیٹ ورک کی رسائی ان علاقوں تک ممکن ہو سکے گی جہاں اب تک سگنلز کا مسئلہ درپیش ہے۔

وزارتِ آئی ٹی کا کہنا ہے کہ نئے بینڈز پر پی ٹی اے کی نظرثانی مکمل ہوتے ہی اس پالیسی پر عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔ اس اقدام سے خاص طور پر دور دراز اور دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی کوریج میں بہتری متوقع ہے، جو ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرے گی۔