LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا زبردست تیزی پر اختتام سوئی گیس کا عید الاضحیٰ کے لیے نیا شیڈول جاری، صارفین کو سہولت دینے کا اعلان پاکستان میں گردشی قرض، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان

سپیکٹرم شیئرنگ پالیسی تیار، نظرثانی کیلئے پی ٹی اے کو معاملہ ارسال

Web Desk

31 March 2026

اسلام آباد: وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ملک میں ٹیلی کام سروسز کے معیار کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کے لیے “سپیکٹرم شیئرنگ پالیسی” تیار کر کے حتمی نظرثانی کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کو بھجوا دی ہے۔ وزارتِ آئی ٹی کے مطابق، اس پالیسی کا بنیادی مقصد ٹیلی کام آپریٹرز کو ایک دوسرے کے ساتھ فریکوئنسی سپیکٹرم شیئر کرنے کی اجازت دینا ہے، جس سے نیٹ ورک کی گنجائش اور کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

اس نئی پالیسی کے تحت نہ صرف سپیکٹرم بلکہ انفراسٹرکچر شیئرنگ پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ اب ایک ہی موبائل ٹاور کو مختلف ٹیلی کام کمپنیاں مشترکہ طور پر استعمال کر سکیں گی، جس سے آپریٹرز کے اخراجات میں کمی آئے گی اور نیٹ ورک کی رسائی ان علاقوں تک ممکن ہو سکے گی جہاں اب تک سگنلز کا مسئلہ درپیش ہے۔

وزارتِ آئی ٹی کا کہنا ہے کہ نئے بینڈز پر پی ٹی اے کی نظرثانی مکمل ہوتے ہی اس پالیسی پر عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔ اس اقدام سے خاص طور پر دور دراز اور دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی کوریج میں بہتری متوقع ہے، جو ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرے گی۔