LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی صدر ٹرمپ نیٹو اجلاس میں شرکت کیلئے ترکیہ پہنچ گئے وفاقی حکومت نے نیشنل پاپولیشن کونسل تشکیل دے دی، وزیر اعظم چیئرمین اور آرمی چیف رکن مقرر پاکستان، کرغزستان کا تجارت، سرمایہ کاری اور سٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق شام میں فرانسیسی صدر کی قیام گاہ کے قریب دو دھماکے، 18 افراد زخمی وفاقی وزیرِ خزانہ کا بڑا اقدام؛ اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں ‘ایس ایم ای فنانس ٹاسک فورس’ قائم چین: 325 ملین ڈالرز رشوت لینے پر سرکاری عہدیدار کو سزائے موت کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، بی ایل اے کے 2 دہشت گرد گرفتار حکومت پیٹرول پر لیوی کا بھتہ وصول کر رہی ہے، قیمت 225 روپے ہونی چاہیے؛ حافظ نعیم الرحمن ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی آسان بنائی جائے؛ وزیرِ اعظم معیشت مضبوط استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جی ڈی پی 3.7 فیصد ریکارڈ؛ وزیرِ خزانہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان کے باعث ریکارڈ ٹوٹنے کا سلسلہ برقرار اقوام متحدہ کا ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید یو اے ای میں ‘ویزا آن ارائیول’ کی شرائط تبدیل، کیا اب آپ اہل ہیں؟ انسانی سمگلنگ کیخلاف 59 ممالک میں عالمی کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد ملزم گرفتار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل میں بڑے پیمانے پر چھانٹیاں شروع،12 ہزار بھارتی فارغ

Web Desk

4 April 2026

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل (Oracle) میں حالیہ دنوں میں ہونے والی بڑے پیمانے کی برطرفیوں نے عالمی سطح پر ملازمین کو شدید بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ اس عمل سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں بھارت سرِ فہرست بتایا جا رہا ہے۔

مختلف رپورٹس کے مطابق، کمپنی نے اپنے کاروباری ڈھانچے میں تبدیلی اور مصنوعی ذہانت (AI) میں سرمایہ کاری بڑھانے کے پیش نظر ہزاروں ملازمین کو فارغ کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق، عالمی سطح پر تقریباً 30 ہزار ملازمین اس کٹوتی کی زد میں آئے ہیں، جو کمپنی کی مجموعی افرادی قوت کا ایک بڑا حصہ ہے۔ بھارت میں اس کے اثرات خاص طور پر نمایاں رہے، جہاں اندازاً 12 ہزار ملازمین اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

متاثرہ ملازمین نے سوشل میڈیا پر اپنے تلخ تجربات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں صبح سویرے، بعض صورتوں میں صبح 5 یا 6 بجے، ای میل کے ذریعے برطرفی کی اطلاع دی گئی اور فوری طور پر ان کی سسٹم تک رسائی (System Access) بھی ختم کر دی گئی۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے قبل انتظامیہ کی جانب سے نہ تو کوئی اشارہ دیا گیا اور نہ ہی کوئی پیشگی گفتگو کی گئی، جس کی وجہ سے یہ عمل انتہائی صدمہ خیز ثابت ہوا۔

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اندرونی پیغام میں کہا گیا ہے کہ تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کے باعث کچھ عہدے غیر ضروری ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے یہ قدم اٹھانا پڑا۔ کمپنی نے متاثرہ ملازمین کے لیے ایک مالی پیکج کا بھی ذکر کیا ہے جس میں ہر سال کی ملازمت کے بدلے 15 دن کی تنخواہ، ایک ماہ کا نوٹس پیریڈ اور دیگر مراعات شامل ہیں، تاہم ان کے ساتھ بعض کڑی شرائط بھی منسلک بتائی جا رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی کے شعبے میں اتنی بڑی تعداد میں برطرفیوں نے عالمی مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔