LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
9مئی مقدمہ: نامزد ملزم کا نام پی سی ایل سے نکالنے کی درخواست خارج امریکا نے ایران اور روسی اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کا اسرائیل کو فوجی امداد بند کرنے کا مطالبہ امریکا اور اسرائیل اب ایران میں اندورنی تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں: مسعود پزشکیاں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر ناکام پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو امیگرینٹس کی تیسرے ملک بے دخلی کی اجازت دے دی اسنوکر کے سابق عالمی چیمپئن گریم ڈوٹ کو 2 بچوں سے جنسی زیادتی کے جر م میں 7 سال قید کی سزا وزیر اعظم شہباز شریف دورہ امریکا اور برطانیہ کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ایران کی صورتحال بہت خراب ہے، نہیں معلوم کہ وہ ابھی ہتھیار ڈالنے والے ہیں یا نہیں: صدر ٹرمپ سعودی ولی عہد کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس، مکہ دفاعی معاہدے کے سیکرٹریٹ کے قیام میں پیشرفت کا جائزہ خلیج کا بحران نہ پیدا ہوتا تو پاکستان دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کی طرح بہت آگے جا چکا ہوتا: وزیر اعظم اڈیالہ جیل میں قید بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ملاقات کرا دی گئی مراکش کے بادشاہ نے فاطمہ زہرا کو ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم مقرر کردیا بینظیر بھٹو شہیدیونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر نے سیاسی دباؤ بڑھنے پر عہدے سے استعفیٰ دے دیا

5 کروڑ نوری سال دور خم دار کہکشاں این جی سی 1511 کی شاندار تصویر جاری

Web Desk

11 November 2025

واشنگٹن/یورپ: ماہرینِ فلکیات نے ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ اور یورپین اسپیس ایجنسی کے آلات کا استعمال کرتے ہوئے خم دار کہکشاں این جی سی 1511 کی شاندار تصویر جاری کر دی ہے۔

این جی سی 1511 زمین سے تقریباً 5 کروڑ نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اور جھرمٹ ’ہائڈرس‘ کا حصہ ہے۔ یہ کہکشاں انگریز ماہرِ فلکیات جان ہرشل نے 2 نومبر 1834 کو دریافت کی تھی اور یہ این جی سی 1511 گروپ کی مرکزی کہکشاں بھی ہے۔

ہبل ٹیلی اسکوپ سے حاصل تصویر کے مطابق این جی سی 1511 خلا میں اکیلی سفر نہیں کرتی، بلکہ اس کے ساتھ دو دیگر کہکشائیں این جی سی 1511 اے اور این جی سی 1511 بی بھی حرکت کر رہی ہیں، جو اس تصویر کے فریم سے باہر ہیں۔
ماہرین نے بتایا کہ یہ کہکشائیں ہائیڈروجن کے ایک تنگ پٹی کے ذریعے جڑی ہوئی ہیں، جو کہکشاؤں کے باہمی تعلق اور کشش ثقل کو ظاہر کرتا ہے۔