LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پوتن، ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ممکنہ تاریخی ملاقات سے عالمی استحکام کی امیدیں وابستہ ملک بھر کے سکول و مدارس کے 5 لاکھ ہونہار طلبہ میں کروم بکس کی تقسیم کا آغاز پاکستان اور قطر کا تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق ترکیہ میں عالمی ملٹری ڈرون مقابلے میں پاکستان کی دوسری پوزیشن اسحاق ڈار سے چینی سفیر کی ملاقات، خطے میں پائیدار امن کیلئے مذاکرات پر زور مریم نواز کا جون 2027 تک 5734 واٹرفلٹریشن پلانٹ مکمل کرنے کا ہدف شکاگو میں پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کا انعقاد: پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے امریکی مارکیٹ کے ساتھ شراکت داری بڑھانے پر زور ریاض ایئرپورٹ پر دو ہفتے بعد پروازیں بحال، حوثیوں کی دوبارہ حملوں کی دھمکی ایران کے ایٹمی پروگرام کو جنگ کی اصل وجہ بتایا گیا، ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود نہیں تھے: اوباما نے ٹرمپ کا بیانیہ مسترد کردیا امریکا اور اسرائیل کے انتخابات کے بعد ٹرمپ ایران پر بڑے حملوں کا حکم دے سکتے ہیں، بلومبرگ امریکا اور اسرائیل کی جارحیت پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتی ہے، پاسداران انقلاب اسرائیل کے مقبوضہ علاقے ایک گھنٹے میں ناقابل رہائش بن جائیں گے، ایران نے خبردار کر دیا ایران پر نئے حملے پر غور کر رہے ہیں، شاید کل ہی شروع کر دیں: امریکی صدر نائیجیریا میں مسلح افراد کے ایک گاؤں پر حملے میں کم از کم 40 افراد ہلاک یوکرین میں سٹار لنک اور سٹار شیلڈ کی سروس بحال، فوجی آپریشنز میں بہتری کی امید

5 کروڑ نوری سال دور خم دار کہکشاں این جی سی 1511 کی شاندار تصویر جاری

Web Desk

11 November 2025

واشنگٹن/یورپ: ماہرینِ فلکیات نے ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ اور یورپین اسپیس ایجنسی کے آلات کا استعمال کرتے ہوئے خم دار کہکشاں این جی سی 1511 کی شاندار تصویر جاری کر دی ہے۔

این جی سی 1511 زمین سے تقریباً 5 کروڑ نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اور جھرمٹ ’ہائڈرس‘ کا حصہ ہے۔ یہ کہکشاں انگریز ماہرِ فلکیات جان ہرشل نے 2 نومبر 1834 کو دریافت کی تھی اور یہ این جی سی 1511 گروپ کی مرکزی کہکشاں بھی ہے۔

ہبل ٹیلی اسکوپ سے حاصل تصویر کے مطابق این جی سی 1511 خلا میں اکیلی سفر نہیں کرتی، بلکہ اس کے ساتھ دو دیگر کہکشائیں این جی سی 1511 اے اور این جی سی 1511 بی بھی حرکت کر رہی ہیں، جو اس تصویر کے فریم سے باہر ہیں۔
ماہرین نے بتایا کہ یہ کہکشائیں ہائیڈروجن کے ایک تنگ پٹی کے ذریعے جڑی ہوئی ہیں، جو کہکشاؤں کے باہمی تعلق اور کشش ثقل کو ظاہر کرتا ہے۔