LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
تہران نے ثالثوں کے ذریعے مذاکرات میں امریکی تجاویز مسترد کردیں استحکام پاکستان پارٹی کے ایل اے 6 کے امیدوار علی شان سونی گرفتار سعودی عرب پر حملہ: عراقی وزیراعظم نے تحقیقات کا حکم دیدیا امریکا کی غیر قانونی بحری ناکہ بندی مزید کشیدگی تصور ہوگی: ایرانی فوج حوثی گروہ کے ساتھ تنازع کا پرامن حل چاہتے ہیں: یمنی وزیر خارجہ صدر ٹرمپ کے پاس ایران کے معاملے پر آپشنز محدود ہیں: امریکی میڈیا نائجیریا میں مسلح افراد کا گاؤں پر حملہ، 30 افراد ہلاک، متعدد مکان نذر آتش گزشتہ پانچ برس روس کیلئے انتہائی مشکل اور تاریخ ساز رہے، صدر پوتن صدر پوتن نے روسی فوج میں 25 ہزار اہلکاروں کے اضافے کی منظوری دے دی اسرائیلی فوج کا انروا کے دفتر پر دھاوا، عملے کو حراست میں لے لیا پاکستان کی سعودیہ پر ڈرون حملوں کی مذمت، امن کیلئے سنگین خطرہ قرار دیدیا اسرائیلیوں کی آباد کاری، صیہونی فورسز نے فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضے تیز کردیئے اقوام متحدہ کی مقبوضہ مغربی کنارے اسرائیلی بستیوں کے توسیعی منصوبے کی شدید مذمت انتخابی عمل کا پہلا مرحلہ آزادانہ اور شفافیت سے مکمل ہوا:چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر شہباز شریف سے چینی سفیر کی ملاقات، سٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

اقوام متحدہ کی مقبوضہ مغربی کنارے اسرائیلی بستیوں کے توسیعی منصوبے کی شدید مذمت

Web Desk

28 July 2026

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے غیر قانونی منصوبوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اپنے ایک اہم بیان میں سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاروں کی قائم کردہ یہ بستیاں بین الاقوامی قانون کی شدید اور کھلی خلاف ورزی ہیں۔

انتونیو گوتریس نے زور دے کر کہا کہ مقبوضہ علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور یہ خطے میں پائیدار امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی مسلسل آبادکاری کی پالیسی نہ صرف ‘دو ریاستی حل’ کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ یہ اسرائیلی اور فلسطینی عوام کے درمیان ایک منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کو ناممکن بنا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے ایک بار پھر عام شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی انسانی حقوق و انسانی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کا بلا تفریق احتساب کیا جانا چاہیے۔