LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور چینی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف، مکمل اعتماد کا اظہار آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی حج فلائٹ آپریشن میں تیزی، مزید 3510 عازمین آج سعودی عرب روانہ ہوں گے امریکا کا تجارتی جہاز پر قبضہ،ایران نے اقوام متحدہ میں شکایت درج کروا دی عالمی سفارت کاری کا مرکز اسلام آباد: ایران امریکہ مذاکرات کے لیے ریڈ زون سیل سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مزید 1 ارب ڈالر کے فنڈز موصول پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر تیزی کا رجحان خیبرپختونخوا کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں: باقر قالیباف ایران سے ہونے والا معاہدہ جلد اور اوباما دور کے معاہدے سے بہتر ہوگا: امریکی صدر اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن مذاکرات جمعرات کو واشنگٹن میں ہوں گے ریڈ زون کے اداروں میں 21 اپریل کو ورک فرام ہوم کا فیصلہ : نوٹیفکیشن جاری ایرانی وفد کا امریکاسے مذاکرات کیلیے اسلام آبادآنے کاامکان، برطانوی نیوزایجنسی

آرٹیمس II مشن: خلا بازوں نے چاند کے نادیدہ رخ کا منفرد منظر دیکھ لیا

Web Desk

6 April 2026

ناسا کے تاریخی آرٹیمس II (Artemis II) مشن کے خلا بازوں نے چاند کے اس پچھلے حصے (Far Side) کا براہِ راست مشاہدہ کر کے اسے ایک مسحور کن تجربہ قرار دیا ہے جو زمین سے کبھی دکھائی نہیں دیتا۔ اورائن کیپسول سے این بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے خلا باز کرسٹینا کوچ نے بتایا کہ چاند کا یہ رخ بالکل مختلف اور اچھوتا محسوس ہو رہا تھا، جہاں چاند کے سیاہ دھبے اور نشانات اپنی معمول کی جگہوں پر نظر نہیں آ رہے تھے۔ 10 روزہ مشن پر روانہ ہونے والے چار رکنی عملے، جس میں ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈین خلا باز جیریمی ہینسن شامل ہیں، نے چاند کے سفر کا آدھے سے زیادہ مرحلہ کامیابی سے طے کر لیا ہے۔ اگرچہ مشن کے دوران ای میل سسٹم اور خلائی ٹوائلٹ جیسی چھوٹی تکنیکی مشکلات پیش آئیں، تاہم خلا بازوں نے زمین اور چاند کو ایک ساتھ دیکھنے کو ایک ایسا تجربہ قرار دیا جس نے انہیں عاجزی کے جذبات سے بھر دیا۔ یہ مشن 50 سال بعد چاند کے گرد انسانی رسائی کا سنگ میل ہے، جس کے مشاہدات چاند کی ساخت اور نظامِ شمسی کے ارتقاء کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے