LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی عرب کا سیاحتی ویزا سے متعلق اہم فیصلہ ب مجھے نفسیاتی طور پر اسپرین کی ضرورت ہے، ٹرمپ تیل کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہوگئے، آرامکو سربراہ کا انتباہ خیبر پختونخوا کی صورتحال اور پی ٹی آئی کا لانگ مارچ، وزیراعظم کا صدر زرداری سے جلد دوبارہ ملاقات کا فیصلہ ایران سے براہِ راست مذاکرات کیلئے تیار ہیں : صدر ٹرمپ کا اعلان بھاگنے کی عادت پرانی، ہر مشکل میں کارکنوں کو آگے کرکے خود پیچھے ہٹ جاتے ہیں: فیصل کریم ریاست خیرپور کے آخری حکمران میر علی مراد خان تالپور انتقال کر گئے مالی سال 2026-27 کے پہلے تین ماہ کے دوران ترقیاتی اخراجات کی رپورٹ جاری لائیو سٹاک برآمدات بڑھانے کیلئے خصوصی فارم ہاؤسز قائم کرنے کی منظوری حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا دشمن کی اگلی غلطی نئے محاذ اور مزید حیران کن نتائج لائے گی، محسن رضائی مذاکرات ناکامی کی دو بنیادی وجوہات، اپوزیشن وفد بے اختیار تھا: طارق فضل چودھری ایمان اور ہادی چٹھہ ضمانت کیس: ریکارڈ پیش نہ کرنے پر جج برہم اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آج پاکستان پہنچیں گے، اہم ملاقاتیں شیڈول امن جرگہ مشترکہ اعلامیے پر عملدرآمد کیا جائے، سپیکر کے پی اسمبلی کا وزیراعظم کو خط

آرٹیمس II مشن: خلا بازوں نے چاند کے نادیدہ رخ کا منفرد منظر دیکھ لیا

Web Desk

6 April 2026

ناسا کے تاریخی آرٹیمس II (Artemis II) مشن کے خلا بازوں نے چاند کے اس پچھلے حصے (Far Side) کا براہِ راست مشاہدہ کر کے اسے ایک مسحور کن تجربہ قرار دیا ہے جو زمین سے کبھی دکھائی نہیں دیتا۔ اورائن کیپسول سے این بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے خلا باز کرسٹینا کوچ نے بتایا کہ چاند کا یہ رخ بالکل مختلف اور اچھوتا محسوس ہو رہا تھا، جہاں چاند کے سیاہ دھبے اور نشانات اپنی معمول کی جگہوں پر نظر نہیں آ رہے تھے۔ 10 روزہ مشن پر روانہ ہونے والے چار رکنی عملے، جس میں ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈین خلا باز جیریمی ہینسن شامل ہیں، نے چاند کے سفر کا آدھے سے زیادہ مرحلہ کامیابی سے طے کر لیا ہے۔ اگرچہ مشن کے دوران ای میل سسٹم اور خلائی ٹوائلٹ جیسی چھوٹی تکنیکی مشکلات پیش آئیں، تاہم خلا بازوں نے زمین اور چاند کو ایک ساتھ دیکھنے کو ایک ایسا تجربہ قرار دیا جس نے انہیں عاجزی کے جذبات سے بھر دیا۔ یہ مشن 50 سال بعد چاند کے گرد انسانی رسائی کا سنگ میل ہے، جس کے مشاہدات چاند کی ساخت اور نظامِ شمسی کے ارتقاء کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے