LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی صدر ٹرمپ نیٹو اجلاس میں شرکت کیلئے ترکیہ پہنچ گئے وفاقی حکومت نے نیشنل پاپولیشن کونسل تشکیل دے دی، وزیر اعظم چیئرمین اور آرمی چیف رکن مقرر پاکستان، کرغزستان کا تجارت، سرمایہ کاری اور سٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق شام میں فرانسیسی صدر کی قیام گاہ کے قریب دو دھماکے، 18 افراد زخمی وفاقی وزیرِ خزانہ کا بڑا اقدام؛ اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں ‘ایس ایم ای فنانس ٹاسک فورس’ قائم چین: 325 ملین ڈالرز رشوت لینے پر سرکاری عہدیدار کو سزائے موت کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، بی ایل اے کے 2 دہشت گرد گرفتار حکومت پیٹرول پر لیوی کا بھتہ وصول کر رہی ہے، قیمت 225 روپے ہونی چاہیے؛ حافظ نعیم الرحمن ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی آسان بنائی جائے؛ وزیرِ اعظم معیشت مضبوط استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جی ڈی پی 3.7 فیصد ریکارڈ؛ وزیرِ خزانہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان کے باعث ریکارڈ ٹوٹنے کا سلسلہ برقرار اقوام متحدہ کا ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید یو اے ای میں ‘ویزا آن ارائیول’ کی شرائط تبدیل، کیا اب آپ اہل ہیں؟ انسانی سمگلنگ کیخلاف 59 ممالک میں عالمی کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد ملزم گرفتار

آرٹیمس II مشن: خلا بازوں نے چاند کے نادیدہ رخ کا منفرد منظر دیکھ لیا

Web Desk

6 April 2026

ناسا کے تاریخی آرٹیمس II (Artemis II) مشن کے خلا بازوں نے چاند کے اس پچھلے حصے (Far Side) کا براہِ راست مشاہدہ کر کے اسے ایک مسحور کن تجربہ قرار دیا ہے جو زمین سے کبھی دکھائی نہیں دیتا۔ اورائن کیپسول سے این بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے خلا باز کرسٹینا کوچ نے بتایا کہ چاند کا یہ رخ بالکل مختلف اور اچھوتا محسوس ہو رہا تھا، جہاں چاند کے سیاہ دھبے اور نشانات اپنی معمول کی جگہوں پر نظر نہیں آ رہے تھے۔ 10 روزہ مشن پر روانہ ہونے والے چار رکنی عملے، جس میں ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈین خلا باز جیریمی ہینسن شامل ہیں، نے چاند کے سفر کا آدھے سے زیادہ مرحلہ کامیابی سے طے کر لیا ہے۔ اگرچہ مشن کے دوران ای میل سسٹم اور خلائی ٹوائلٹ جیسی چھوٹی تکنیکی مشکلات پیش آئیں، تاہم خلا بازوں نے زمین اور چاند کو ایک ساتھ دیکھنے کو ایک ایسا تجربہ قرار دیا جس نے انہیں عاجزی کے جذبات سے بھر دیا۔ یہ مشن 50 سال بعد چاند کے گرد انسانی رسائی کا سنگ میل ہے، جس کے مشاہدات چاند کی ساخت اور نظامِ شمسی کے ارتقاء کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے