LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا: میساچوسٹس کے تعلیمی اداروں میں ریچھ داخل، طلبہ کلاس رومز تک محدود رہے پاکستان ون ڈے کرکٹ میں 1000میچ کھیلنے والی تیسری ٹیم بن گئی وزیراعلیٰ نے ستھرا پنجاب ورکرز کیلئے 10ہزار فی کس انعام کا اعلان کیا ہے: مریم اورنگزیب پاکستان ایک مخلص دوست، ایران کے ساتھ اچھی ڈیل ہوگی: امریکی وزیر جنگ جیٹ فیول اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں بڑی کمی، نوٹیفکیشن جاری آئی ایم ایف کا گاڑیوں اور سولر پینلز پر سیلز ٹیکس چھوٹ برقرار رکھنے سے انکار پاکستان کی شاندار کامیابی: مسلسل پانچویں سال بھی ایراسمس منڈس اسکالرشپ حاصل کرنے میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر برقرار امریکی صدر کے نام کی شمولیت غیر قانونی قرار: کینیڈی سینٹر بند کرنے کا ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ امریکی عدالت نے معطل کر دیا حاجیوں کی وطن واپسی کے لیے سعودی عرب سے پروازوں کا آغاز کل ہوگا امریکا کا امیر ممالک کے دفاعی اخراجات کا مزید بوجھ اٹھانے سے انکار ملک بھر میں 74 لاکھ 70 ہزار جانور قربان کیے گئے، ٹینریز ایسوسی ایشن ٹیکس وصولی کے لیے ایف بی آر کے تمام دفاتر 30 مئی کو کھلے رہیں گے اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی واشنگٹن میں ملاقات، پاک امریکا تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ابراہیمی معاہدے سے متعلق افواہیں بے بنیاد، فلسطین پر مؤقف میں کوئی لچک نہیں: اسحاق ڈار راولپنڈی: پاکستان اور آسٹریلیا آج پہلے ون ڈے میں آمنے سامنے

25 سال بعد شوہر کی اچانک واپسی، بیوی سمیت پورا خاندان پریشان

Web Desk

13 April 2026

بھارتی پنجاب کے ایک گاؤں میں ایک ایسا جذباتی اور پیچیدہ واقعہ پیش آیا ہے جس نے فلمی کہانیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ہنسا سنگھ نامی شخص، جو تقریباً 25 سال قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہو گیا تھا، اچانک زندہ سلامت واپس لوٹ آیا، لیکن اس کی واپسی نے خاندان کے لیے خوشی کے بجائے ایک سنگین سماجی اور جذباتی بحران پیدا کر دیا ہے۔ ہنسا سنگھ کی گمشدگی کے بعد اہل خانہ نے برسوں اسے تلاش کیا، تاہم کوئی سراغ نہ ملنے پر اسے مردہ تصور کر لیا گیا تھا اور اس کی بیوی وملہ کی شادی خاندان کی رضامندی سے ہنسا کے چھوٹے بھائی سکھ سنگھ سے کر دی گئی تھی۔

ہنسا سنگھ کی واپسی کا سفر اس وقت شروع ہوا جب اتر پردیش کے علاقے نارتھور میں پولیس نے ایک ذہنی پریشان حال شخص کو بھیک مانگتے ہوئے پایا۔ پوچھ گچھ کے دوران اس نے اپنا نام ہنسا سنگھ بتایا، جس پر یوپی پولیس نے پنجاب پولیس کے ذریعے اس کے خاندان سے رابطہ کیا۔ ابتدا میں شکل و صورت میں تبدیلی کے باعث اس کا بھائی بھی اسے پہچان نہ سکا، لیکن بچپن کی یادوں اور خاندانی واقعات کے تذکرے پر ہنسا سنگھ کے آنسو نکل آئے، جس سے اس کی شناخت کی تصدیق ہو گئی۔

گھر واپسی پر سب سے بڑا قانونی اور اخلاقی سوال وملہ کے مستقبل کا تھا۔ ایک طرف اس کا پہلا شوہر تھا جو ڈھائی دہائیوں بعد لوٹا، جبکہ دوسری طرف سکھ سنگھ تھا جس کے ساتھ وہ گزشتہ 22 برسوں سے ازدواجی زندگی گزار رہی تھی اور ان کے بچے بھی ہیں۔ اس مشکل گھڑی میں وملہ نے ایک انتہائی کٹھن فیصلہ کرتے ہوئے ہنسا سنگھ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اپنے موجودہ شوہر، بچوں اور خاندان کو ترجیح دی۔ اس فیصلے کے بعد ہنسا سنگھ کی واپسی نے پورے گاؤں میں ایک بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ہر کوئی اس انسانی المیے پر حیران و پریشان ہے۔