LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دریائے سندھ میں پانی کی آمد میں اضافہ، سیلاب، کئی دیہات زیر آب، زمینی رابطہ منقطع امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز کی بندش کا ایرانی دعویٰ مسترد کر دیا بیلاروس کے وفد کا نیول ہیڈ کوارٹرز کا دورہ، چیف آف نیول سٹاف سے ملاقات شہدا پر سیاست نا قابل قبول، سیاست کو دہشتگردی سے نہ جوڑا جائے: سرفراز بگٹی کشمیری عوام کے صبر اور برداشت کو سلام پیش کرتا ہوں، تحریک دنیا بھر میں پھیل رہی ہے: مولانا فضل الرحمان امریکا کا چین پر اے آئی ٹیکنالوجی چرانے کا الزام، “ماڈل ڈسٹلیشن” تنازع کیا ہے؟ ایران کا کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: انتخابی مہم کا وقت ختم، دنگل کل سجے گا ارشد ندیم جیولن تھرو فائنل میں میڈل کی دوڑ سے باہر خاتون باکسر فاطمہ زہرہ نے کامن ویلتھ گیمز میں تاریخ رقم کر دی مؤقف پر قائم ہوں، کشمیری مہاجرین کی نشستیں ختم نہیں ہونے دیں گے: خواجہ آصف سعودیہ کا حماس کی تخفیفِ اسلحہ پر آمادگی کا خیرمقدم، ٹرمپ کے کردار کو سراہا حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کا اعلان حماس کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ امن کی جانب اہم پیش رفت ہو سکتا ہے، کایا کالاس ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا

25 سال بعد شوہر کی اچانک واپسی، بیوی سمیت پورا خاندان پریشان

Web Desk

13 April 2026

بھارتی پنجاب کے ایک گاؤں میں ایک ایسا جذباتی اور پیچیدہ واقعہ پیش آیا ہے جس نے فلمی کہانیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ہنسا سنگھ نامی شخص، جو تقریباً 25 سال قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہو گیا تھا، اچانک زندہ سلامت واپس لوٹ آیا، لیکن اس کی واپسی نے خاندان کے لیے خوشی کے بجائے ایک سنگین سماجی اور جذباتی بحران پیدا کر دیا ہے۔ ہنسا سنگھ کی گمشدگی کے بعد اہل خانہ نے برسوں اسے تلاش کیا، تاہم کوئی سراغ نہ ملنے پر اسے مردہ تصور کر لیا گیا تھا اور اس کی بیوی وملہ کی شادی خاندان کی رضامندی سے ہنسا کے چھوٹے بھائی سکھ سنگھ سے کر دی گئی تھی۔

ہنسا سنگھ کی واپسی کا سفر اس وقت شروع ہوا جب اتر پردیش کے علاقے نارتھور میں پولیس نے ایک ذہنی پریشان حال شخص کو بھیک مانگتے ہوئے پایا۔ پوچھ گچھ کے دوران اس نے اپنا نام ہنسا سنگھ بتایا، جس پر یوپی پولیس نے پنجاب پولیس کے ذریعے اس کے خاندان سے رابطہ کیا۔ ابتدا میں شکل و صورت میں تبدیلی کے باعث اس کا بھائی بھی اسے پہچان نہ سکا، لیکن بچپن کی یادوں اور خاندانی واقعات کے تذکرے پر ہنسا سنگھ کے آنسو نکل آئے، جس سے اس کی شناخت کی تصدیق ہو گئی۔

گھر واپسی پر سب سے بڑا قانونی اور اخلاقی سوال وملہ کے مستقبل کا تھا۔ ایک طرف اس کا پہلا شوہر تھا جو ڈھائی دہائیوں بعد لوٹا، جبکہ دوسری طرف سکھ سنگھ تھا جس کے ساتھ وہ گزشتہ 22 برسوں سے ازدواجی زندگی گزار رہی تھی اور ان کے بچے بھی ہیں۔ اس مشکل گھڑی میں وملہ نے ایک انتہائی کٹھن فیصلہ کرتے ہوئے ہنسا سنگھ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اپنے موجودہ شوہر، بچوں اور خاندان کو ترجیح دی۔ اس فیصلے کے بعد ہنسا سنگھ کی واپسی نے پورے گاؤں میں ایک بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ہر کوئی اس انسانی المیے پر حیران و پریشان ہے۔