LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی آنکھوں کے امراض کی بروقت تشخیص سے بینائی کے نقصان سے بچا جا سکتا ہے: گورنر سندھ لوڈشیڈنگ کیس: لاہور ہائیکورٹ نے 15 ستمبر کو جواب طلب کرلیا پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست: اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ میں اہم سماعت وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں نئی آٹو پالیسی اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی مراعات کی منظوری حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹس پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ میر رضا کیس: وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجھار جوڈیشل کمیشن میں پیش سیف گیمز کے کامیاب انعقاد کیلئے اسپورٹس انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کا بڑا فیصلہ پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین کرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر حل طلب مسئلہ، بھارت حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا: دفتر خارجہ حوثی باغیوں کا سعودیہ کے 3 شہروں پر حملہ، یمنی وزیر دفاع کو یرغمال بنا لیا اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ پر پابندی اور توہینِ عدالت کیس کی سماعت، پارٹی سے موقف طلب پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران منفی رجحان برقرار امریکی اڈے پر ایرانی حملے میں 9 جنگی طیارے نشانہ بن گئے بھاری ٹیکس و مارجن وصولی: پانچ روز میں پٹرول 21.88 روپے فی لیٹر مہنگا

25 سال بعد شوہر کی اچانک واپسی، بیوی سمیت پورا خاندان پریشان

Web Desk

13 April 2026

بھارتی پنجاب کے ایک گاؤں میں ایک ایسا جذباتی اور پیچیدہ واقعہ پیش آیا ہے جس نے فلمی کہانیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ہنسا سنگھ نامی شخص، جو تقریباً 25 سال قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہو گیا تھا، اچانک زندہ سلامت واپس لوٹ آیا، لیکن اس کی واپسی نے خاندان کے لیے خوشی کے بجائے ایک سنگین سماجی اور جذباتی بحران پیدا کر دیا ہے۔ ہنسا سنگھ کی گمشدگی کے بعد اہل خانہ نے برسوں اسے تلاش کیا، تاہم کوئی سراغ نہ ملنے پر اسے مردہ تصور کر لیا گیا تھا اور اس کی بیوی وملہ کی شادی خاندان کی رضامندی سے ہنسا کے چھوٹے بھائی سکھ سنگھ سے کر دی گئی تھی۔

ہنسا سنگھ کی واپسی کا سفر اس وقت شروع ہوا جب اتر پردیش کے علاقے نارتھور میں پولیس نے ایک ذہنی پریشان حال شخص کو بھیک مانگتے ہوئے پایا۔ پوچھ گچھ کے دوران اس نے اپنا نام ہنسا سنگھ بتایا، جس پر یوپی پولیس نے پنجاب پولیس کے ذریعے اس کے خاندان سے رابطہ کیا۔ ابتدا میں شکل و صورت میں تبدیلی کے باعث اس کا بھائی بھی اسے پہچان نہ سکا، لیکن بچپن کی یادوں اور خاندانی واقعات کے تذکرے پر ہنسا سنگھ کے آنسو نکل آئے، جس سے اس کی شناخت کی تصدیق ہو گئی۔

گھر واپسی پر سب سے بڑا قانونی اور اخلاقی سوال وملہ کے مستقبل کا تھا۔ ایک طرف اس کا پہلا شوہر تھا جو ڈھائی دہائیوں بعد لوٹا، جبکہ دوسری طرف سکھ سنگھ تھا جس کے ساتھ وہ گزشتہ 22 برسوں سے ازدواجی زندگی گزار رہی تھی اور ان کے بچے بھی ہیں۔ اس مشکل گھڑی میں وملہ نے ایک انتہائی کٹھن فیصلہ کرتے ہوئے ہنسا سنگھ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اپنے موجودہ شوہر، بچوں اور خاندان کو ترجیح دی۔ اس فیصلے کے بعد ہنسا سنگھ کی واپسی نے پورے گاؤں میں ایک بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ہر کوئی اس انسانی المیے پر حیران و پریشان ہے۔