LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دریائے سندھ میں پانی کی آمد میں اضافہ، سیلاب، کئی دیہات زیر آب، زمینی رابطہ منقطع امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز کی بندش کا ایرانی دعویٰ مسترد کر دیا بیلاروس کے وفد کا نیول ہیڈ کوارٹرز کا دورہ، چیف آف نیول سٹاف سے ملاقات شہدا پر سیاست نا قابل قبول، سیاست کو دہشتگردی سے نہ جوڑا جائے: سرفراز بگٹی کشمیری عوام کے صبر اور برداشت کو سلام پیش کرتا ہوں، تحریک دنیا بھر میں پھیل رہی ہے: مولانا فضل الرحمان امریکا کا چین پر اے آئی ٹیکنالوجی چرانے کا الزام، “ماڈل ڈسٹلیشن” تنازع کیا ہے؟ ایران کا کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: انتخابی مہم کا وقت ختم، دنگل کل سجے گا ارشد ندیم جیولن تھرو فائنل میں میڈل کی دوڑ سے باہر خاتون باکسر فاطمہ زہرہ نے کامن ویلتھ گیمز میں تاریخ رقم کر دی مؤقف پر قائم ہوں، کشمیری مہاجرین کی نشستیں ختم نہیں ہونے دیں گے: خواجہ آصف سعودیہ کا حماس کی تخفیفِ اسلحہ پر آمادگی کا خیرمقدم، ٹرمپ کے کردار کو سراہا حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کا اعلان حماس کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ امن کی جانب اہم پیش رفت ہو سکتا ہے، کایا کالاس ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا

امریکا کا چین پر اے آئی ٹیکنالوجی چرانے کا الزام، “ماڈل ڈسٹلیشن” تنازع کیا ہے؟

Web Desk

31 July 2026

مصنوعی ذہانت (AI) میں عالمی برتری حاصل کرنے کی دوڑ میں امریکا اور چین کے درمیان ‘ماڈل ڈسٹلیشن’ ایک نیا تکنیکی و سیاسی تنازع بن کر سامنے آیا ہے۔ امریکی حکومت اور اینتھروپک اور اوپن اے آئی جیسی بڑی تکنیکی کمپنیوں کا الزام ہے کہ چینی ادارے (بشمول ڈیپ سیک، مون شاٹ اور منی میکس) ان کے اربوں ڈالر کی لاگت سے تیار کردہ جدید ‘فرنٹیئر ماڈلز’ کی صلاحیتوں اور کوڈنگ کی قابلیتوں کو بغیر اجازت حاصل کرنے کے لیے اس تکنیک کا استعمال کر رہے ہیں۔ ماڈل ڈسٹلیشن ایک ایسی معروف تکنیک ہے جس میں ایک بڑے اور مہنگے ‘ٹیچر’ ماڈل کے ذریعے ایک چھوٹا، کم خرچ اور زیادہ مؤثر ‘اسٹوڈنٹ’ ماڈل تیار کیا جاتا ہے جو کم کمپیوٹنگ وسائل کے ساتھ کام کر سکتا ہے۔ اگرچہ ماہرین اسے تحقیق اور اے آئی کو سستا بنانے کا عام طریقہ قرار دیتے ہیں، لیکن امریکا اسے صرف تجارتی نقصان نہیں بلکہ قومی سلامتی، سائبر سیکیورٹی اور عالمی ٹیکنالوجی کی برتری کے لیے ایک بڑا خطرہ دیکھ رہا ہے۔