LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم شہباز شریف کی کویتی ولی عہد سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق اسرائیلی حکومت ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے: اردوان ایم ون اور ایم 14 سمیت اہم شاہراہیں کل شام سے بند کرنے کا اعلان ایران کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، اب مشرق وسطیٰ میں غنڈہ گردی نہیں کر سکتا: ٹرمپ 8 اسلامی ممالک کا غزہ میں فوری امداد اور اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ عالمی تقسیم تشویشناک، گوتریس کا جنگیں طاقت سے نہیں مذاکرات سے ختم کرنے پر زور امریکا کے پاس گولہ بارود کی کمی نہیں، ذخائر میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے: ٹرمپ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فرانسیسی سیکرٹری جنرل برائے دفاع و قومی سلامتی کی ملاقات سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن دوبارہ فعال کردی ایران نے امریکا کو سات روز میں آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش کردی این ایف سی میں خیبرپختونخوا کو انسداد دہشتگردی کیلئے ڈیڑھ سوارب سے زائد ملے: عطا تارڑ بیرسٹر گوہر کی راجہ ناصر عباس سے ملاقات: 27 ستمبر لانگ مارچ اور گرفتاریوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر تبادلہ خیال عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونا مزید سستا ہوگیا اسلام آباد: مفاہمت کا راستہ کبھی بند نہیں کیا، 27 ستمبر کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا: بیرسٹر گوہر جماعت اسلامی کا لانگ مارچ اکتوبر کے پہلے ہفتے تک موخر کرنے کا اعلان

امریکا کا چین پر اے آئی ٹیکنالوجی چرانے کا الزام، “ماڈل ڈسٹلیشن” تنازع کیا ہے؟

Web Desk

31 July 2026

مصنوعی ذہانت (AI) میں عالمی برتری حاصل کرنے کی دوڑ میں امریکا اور چین کے درمیان ‘ماڈل ڈسٹلیشن’ ایک نیا تکنیکی و سیاسی تنازع بن کر سامنے آیا ہے۔ امریکی حکومت اور اینتھروپک اور اوپن اے آئی جیسی بڑی تکنیکی کمپنیوں کا الزام ہے کہ چینی ادارے (بشمول ڈیپ سیک، مون شاٹ اور منی میکس) ان کے اربوں ڈالر کی لاگت سے تیار کردہ جدید ‘فرنٹیئر ماڈلز’ کی صلاحیتوں اور کوڈنگ کی قابلیتوں کو بغیر اجازت حاصل کرنے کے لیے اس تکنیک کا استعمال کر رہے ہیں۔ ماڈل ڈسٹلیشن ایک ایسی معروف تکنیک ہے جس میں ایک بڑے اور مہنگے ‘ٹیچر’ ماڈل کے ذریعے ایک چھوٹا، کم خرچ اور زیادہ مؤثر ‘اسٹوڈنٹ’ ماڈل تیار کیا جاتا ہے جو کم کمپیوٹنگ وسائل کے ساتھ کام کر سکتا ہے۔ اگرچہ ماہرین اسے تحقیق اور اے آئی کو سستا بنانے کا عام طریقہ قرار دیتے ہیں، لیکن امریکا اسے صرف تجارتی نقصان نہیں بلکہ قومی سلامتی، سائبر سیکیورٹی اور عالمی ٹیکنالوجی کی برتری کے لیے ایک بڑا خطرہ دیکھ رہا ہے۔