LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا زبردست تیزی پر اختتام سوئی گیس کا عید الاضحیٰ کے لیے نیا شیڈول جاری، صارفین کو سہولت دینے کا اعلان پاکستان میں گردشی قرض، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان

سائنس دانوں کے دستانوں سے متعلق ہوشربا انکشاف

Web Desk

31 March 2026

مشیگن: مائیکرو پلاسٹکس (5 ملی میٹر سے چھوٹے ذرات) کی انسانی خون، دماغ اور ماں کے دودھ میں موجودگی کے حوالے سے حالیہ برسوں میں سامنے آنے والی تشویشناک رپورٹس کے پیچھے ایک ‘تکنیکی غلطی’ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کی جانب سے شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق، سائنس دانوں نے لیبارٹری میں نمونوں کی جانچ کے دوران پہنے جانے والے دستانوں کے ایک مرکب کو مائیکرو پلاسٹک سمجھ لیا۔

یونیورسٹی آف مشیگن کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ لیبارٹری دستانوں سے خارج ہونے والی نہایت معمولی باقیات، جنہیں اسٹیریٹ سالٹس (Stearate Salts) کہا جاتا ہے، کیمیائی طور پر مائیکرو پلاسٹک پولی ایتھائلین (Polyethylene) سے اس قدر مشابہت رکھتی ہیں کہ انہیں آسانی سے پلاسٹک سمجھ لیا جاتا ہے۔ تحقیق میں اشارہ دیا گیا ہے کہ انسانی دماغ میں ‘چائے کے چمچ کے برابر پلاسٹک’ جیسی رپورٹس دراصل نمونوں کے دستانوں سے آلودہ ہونے کا نتیجہ ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق، اگرچہ ماحول میں مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی ایک حقیقت ہے، لیکن انسانی اعضا اور خون میں اس کی مقدار کو شاید ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ اس دریافت کے بعد اب سائنس دانوں کو مائیکرو پلاسٹکس کی جانچ کے لیے زیادہ درست اور آلودگی سے پاک طریقے اپنانے کی ضرورت ہوگی تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔