LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی صدر ٹرمپ نیٹو اجلاس میں شرکت کیلئے ترکیہ پہنچ گئے وفاقی حکومت نے نیشنل پاپولیشن کونسل تشکیل دے دی، وزیر اعظم چیئرمین اور آرمی چیف رکن مقرر پاکستان، کرغزستان کا تجارت، سرمایہ کاری اور سٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق شام میں فرانسیسی صدر کی قیام گاہ کے قریب دو دھماکے، 18 افراد زخمی وفاقی وزیرِ خزانہ کا بڑا اقدام؛ اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں ‘ایس ایم ای فنانس ٹاسک فورس’ قائم چین: 325 ملین ڈالرز رشوت لینے پر سرکاری عہدیدار کو سزائے موت کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، بی ایل اے کے 2 دہشت گرد گرفتار حکومت پیٹرول پر لیوی کا بھتہ وصول کر رہی ہے، قیمت 225 روپے ہونی چاہیے؛ حافظ نعیم الرحمن ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی آسان بنائی جائے؛ وزیرِ اعظم معیشت مضبوط استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جی ڈی پی 3.7 فیصد ریکارڈ؛ وزیرِ خزانہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان کے باعث ریکارڈ ٹوٹنے کا سلسلہ برقرار اقوام متحدہ کا ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید یو اے ای میں ‘ویزا آن ارائیول’ کی شرائط تبدیل، کیا اب آپ اہل ہیں؟ انسانی سمگلنگ کیخلاف 59 ممالک میں عالمی کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد ملزم گرفتار

سائنس دانوں کے دستانوں سے متعلق ہوشربا انکشاف

Web Desk

31 March 2026

مشیگن: مائیکرو پلاسٹکس (5 ملی میٹر سے چھوٹے ذرات) کی انسانی خون، دماغ اور ماں کے دودھ میں موجودگی کے حوالے سے حالیہ برسوں میں سامنے آنے والی تشویشناک رپورٹس کے پیچھے ایک ‘تکنیکی غلطی’ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کی جانب سے شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق، سائنس دانوں نے لیبارٹری میں نمونوں کی جانچ کے دوران پہنے جانے والے دستانوں کے ایک مرکب کو مائیکرو پلاسٹک سمجھ لیا۔

یونیورسٹی آف مشیگن کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ لیبارٹری دستانوں سے خارج ہونے والی نہایت معمولی باقیات، جنہیں اسٹیریٹ سالٹس (Stearate Salts) کہا جاتا ہے، کیمیائی طور پر مائیکرو پلاسٹک پولی ایتھائلین (Polyethylene) سے اس قدر مشابہت رکھتی ہیں کہ انہیں آسانی سے پلاسٹک سمجھ لیا جاتا ہے۔ تحقیق میں اشارہ دیا گیا ہے کہ انسانی دماغ میں ‘چائے کے چمچ کے برابر پلاسٹک’ جیسی رپورٹس دراصل نمونوں کے دستانوں سے آلودہ ہونے کا نتیجہ ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق، اگرچہ ماحول میں مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی ایک حقیقت ہے، لیکن انسانی اعضا اور خون میں اس کی مقدار کو شاید ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ اس دریافت کے بعد اب سائنس دانوں کو مائیکرو پلاسٹکس کی جانچ کے لیے زیادہ درست اور آلودگی سے پاک طریقے اپنانے کی ضرورت ہوگی تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔