سائنس دانوں کے دستانوں سے متعلق ہوشربا انکشاف
Web Desk
31 March 2026
مشیگن: مائیکرو پلاسٹکس (5 ملی میٹر سے چھوٹے ذرات) کی انسانی خون، دماغ اور ماں کے دودھ میں موجودگی کے حوالے سے حالیہ برسوں میں سامنے آنے والی تشویشناک رپورٹس کے پیچھے ایک ‘تکنیکی غلطی’ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کی جانب سے شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق، سائنس دانوں نے لیبارٹری میں نمونوں کی جانچ کے دوران پہنے جانے والے دستانوں کے ایک مرکب کو مائیکرو پلاسٹک سمجھ لیا۔
یونیورسٹی آف مشیگن کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ لیبارٹری دستانوں سے خارج ہونے والی نہایت معمولی باقیات، جنہیں اسٹیریٹ سالٹس (Stearate Salts) کہا جاتا ہے، کیمیائی طور پر مائیکرو پلاسٹک پولی ایتھائلین (Polyethylene) سے اس قدر مشابہت رکھتی ہیں کہ انہیں آسانی سے پلاسٹک سمجھ لیا جاتا ہے۔ تحقیق میں اشارہ دیا گیا ہے کہ انسانی دماغ میں ‘چائے کے چمچ کے برابر پلاسٹک’ جیسی رپورٹس دراصل نمونوں کے دستانوں سے آلودہ ہونے کا نتیجہ ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق، اگرچہ ماحول میں مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی ایک حقیقت ہے، لیکن انسانی اعضا اور خون میں اس کی مقدار کو شاید ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ اس دریافت کے بعد اب سائنس دانوں کو مائیکرو پلاسٹکس کی جانچ کے لیے زیادہ درست اور آلودگی سے پاک طریقے اپنانے کی ضرورت ہوگی تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔
متعلقہ عنوانات
غیر ملکی ہیکرز کا سی ڈی اے پر بڑا سائبر حملہ؛ اسلام آبادیوں کا ٹیکس و بلنگ ڈیٹا ہیک، بحالی کے لیے ایک ماہ کی مہلت
6 July 2026
گوگل میپس میں جلد کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرانے کا امکان
6 July 2026
ٹیلی کام بل سے کسی کی ذاتی زمین اور جائیداد پر زبردستی قبضہ نہیں ہوگا: شزا فاطمہ
6 July 2026
یوٹیوب نے تصاویر پر مبنی انقلابی فیچر متعارف کروا دیا
5 July 2026
مشہور کمپنی کا اسٹریمنگ پلیٹ فارم سے 551 فلمیں ہٹانے کا اعلان
4 July 2026
یوٹیوب نے شارٹس فارمیٹ میں نئے فیچر متعارف کرا دیے
3 July 2026
پاکستان میں انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کی سہولیات میں نمایاں اضافہ، عالمی درجہ بندی بھی بہتر
3 July 2026
انٹرنیٹ کو بھی بنیادی سروس قرار دینے پر غور، وزارت آئی ٹی کا قانونی جائزہ مکمل
3 July 2026