LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا خطے میں کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین سے وعدوں کی پاسداری کی اپیل آبنائے ہرمز مکمل بند، جہازرانوں کو اگلے نوٹس تک سفر نہ کرنے کی ہدایت وزیراعظم شہباز شریف کی کل قطر روانگی متوقع بنگلادیش میں طوفانی بارشوں کے باعث 44 افراد ہلاک،متعدد لاپتہ جماعت اسلامی کا آزاد کشمیر میں قیام امن کیلئے گرینڈ جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ قطر نے سمندری سرگرمیاں غیر معینہ مدت تک معطل کر دیں، ایرانی حملوں کی شدید مذمت نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات قطر میں سوگ کی فضا، سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی انتقال کر گئے امریکی حملوں کے ردعمل میں ایران کے خلیجی ممالک پر جوابی میزائل حملے، آبنائے ہرمز تاحکم ثانی بند ڈیرہ غازی خان: قبائلی علاقے میں 11 سالہ لڑکی مبینہ طور پر فروخت کر دی گئی امریکا میں تارکین وطن کے ’ورک پرمٹ‘ سے متعلق اہم خبر سامنے آگئی امریکی اہلکار عمان میں ایرانی حکام سے ذاتی حیثیت میں بات چیت میں شریک نہیں ہوں گے: روسی میڈیا امریکی صدر کی نائب صدر اور وزیرخارجہ کو عمان میں مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کردی: خبرایجنسی ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں

میٹا نے جذبات کی پیمائش کرنے والی نئی اے آئی ڈیوائس کا پیٹنٹ دائر کر دیا

Web Desk

12 July 2026

فیس بک اور انسٹاگرام کی بانی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ‘میٹا’ نے ایک ایسی جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) ڈیوائس کا پیٹنٹ دائر کیا ہے جو صارف کی ہنسی، آہ بھرنے، بولنے کے انداز اور دیگر زبانی و غیر زبانی اشاروں کا باریک بینی سے تجزیہ کر کے اس کی حقیقی جذباتی کیفیت کا اندازہ لگا سکے گی۔ امریکی پیٹنٹ اینڈ ٹریڈ مارک آفس میں دائر کی گئی اس دستاویز کے مطابق، مشین لرننگ ماڈلز پر مبنی یہ ٹیکنالوجی صارف کے مقام اور اس کے رویوں کو مانیٹر کرے گی اور بعد ازاں صارف کو اس کی ذاتی ‘جذباتی پیمائش’ (Emotional Metric) دکھائے گی تاکہ وہ اپنی ذہنی و نفسیاتی صورتحال کو بہتر طور پر سمجھ سکے۔ پیٹنٹ میں مثال دی گئی ہے کہ اگر کوئی صارف گھر بیٹھے ویڈیو کال کے دوران مایوس، اداس یا بے دلی سے گفتگو کر رہا ہوگا تو یہ اے آئی ڈیوائس اس کے اندازِ گفتگو اور چہرے کے تاثرات سے فوری طور پر اس کی ذہنی کیفیت کو شناخت کر لے گی۔ ماہرینِ ٹیکنالوجی اس ایجاد کو فیوچر ٹیک اور انسانی نفسیات کے ملاپ میں ایک بڑا مائل اسٹون قرار دے رہے ہیں، تاہم اس سے صارفین کی پرائیویسی سے متعلق نئے خدشات بھی جنم لے سکتے ہیں۔