LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
جموں و کشمیرنہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اورنہ ہوگا، پاکستان آن لائن گیمز کے منفی اثرات، برطانیہ پلٹ نوجوان نے لاہور میں بینک لوٹ لیا سعودی عرب کے شہر نجران میں حوثیوں کا داغا گیا میزائل سکول سے ٹکرا گیا آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے کے راستے پر گامزن آئل ٹینکر پر میزائل حملہ پاکستان کا غزہ میں عالمی قانون کی پاسداری یقینی بنانے، کشمیریوں کے حق خودارادیت کا اعادہ اب تحمل کی پالیسی مزید برقرار نہیں رکھی جا سکتی، شہزادہ ترکی الفیصل اسلام آباد میں کسی کو بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سپیکر پنجاب اسمبلی سسٹم ری سیٹ ہونے والا ہے، چیزیں بہت بہتر ہو جائیں گی: محسن نقوی یورپی ممالک بھاری مقدار میں ڈیزل جاری کرنے پر تیار ہوگئے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ دوران پرواز کپتان پر حملہ کرنے والا شریک پائلٹ انتہا پسند تھا: امریکی اخبارکا دعویٰ محسن رضائی نے ٹرمپ کے ایران کیخلاف جنگ میں فتح کے دعوؤں کو مسترد کر دیا پاسداران انقلاب کا چابہار بندرگاہ کے قریب مبینہ دہشت گرد سیل تباہ کرنے کا دعویٰ حماس کی مالی معاونت کا الزام: امریکا نے 5 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کردیں جی سیون ممالک نے ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کیلئے اتفاق کر لیا: فرانسیسی صدر برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ، 2 پاؤنڈ فی لٹر تک پہنچ گئی

یوپین اسپیس ایجنسی نے جولائی کی پکچر آف دی منتھ جاری

Web Desk

12 July 2026

یورپی خلائی ایجنسی (ESA) نے جولائی 2026 کی ’پکچر آف دی منتھ‘ کے طور پر جیمز ویب خلائی دوربین کی جانب سے لی گئی ایک انتہائی حیرت انگیز تصویر جاری کی ہے، جس میں کائنات کے طاقتور ترین مظاہر میں سے ایک کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق، تصویر میں برج کولمبا میں واقع MACS J0553.4−3342 نامی دو دیوہیکل کہکشانی جھرمٹوں کے باہمی انضمام (Collision) کو دکھایا گیا ہے، جو زمین سے تقریباً 4.4 ارب نوری سال کی مسافت پر واقع ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ خلا میں طویل فاصلوں کا مشاہدہ دراصل کائنات کے ماضی میں جھانکنے کے مترادف ہے، اس لیے جیمز ویب نے اس جھرمٹ کو اس حالت میں دیکھا ہے جب اس کی روشنی نے اربوں سال پہلے زمین کی طرف اپنا سفر شروع کیا تھا۔ اس تصویر میں ‘گریویٹیشنل لینسنگ’ (Gravitational Lensing) کا اثر بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں شدید کششِ ثقل کے باعث پس منظر کی دور دراز کہکشاؤں کی روشنی مڑ گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے مشاہدات سے کائنات کی ابتدائی تاریخ، کہکشاؤں کی تشکیل اور ان کے ارتقائی سفر کو سمجھنے میں غیر معمولی مدد ملے گی۔