LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات: ڈائریکٹر سی آئی اے کا فعال کردار ادا کرنے کا امکان ایران کا امریکا سے خطے میں امن کیلئے عدم استحکام پر مبنی مداخلت بند کرنے کا مطالبہ دبئی: ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی ٹوئنٹی سیزن 5 کی لانچ تقریب، ایونٹ کا آغاز 22 نومبر سے ہوگا یو اے ای میں عالمی کرکٹ ستاروں کی موجودگی مقامی ٹیلنٹ کیلئے اہم موقع قرار قطر کی سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر حوثی حملوں کی شدید مذمت اردن میں امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز متبادل مقامات پر منتقل یمن میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ، وزیر دفاع کے قافلے پر حملہ، حراست میں لے لیا جوہری توانائی ایجنسی نے امریکا، اتحادیوں کے دباؤ پر قرارداد منظور کی: ایران یورپ میں قدرتی گیس کی قیمتیں 3 سال کی بدترین سطح پر پہنچ گئیں امریکی صدر کی قطر کی جانب سے دیئے گئے ایئر فورس ون طیارے پر ٹیکساس روانگی برطانوی فضائی ٹریفک کنٹرول میں بڑی فنی خرابی، حکومت کا ایک ہفتے میں تحقیقات کا حکم حسینہ واجد کی بیٹی صائمہ واجد ڈبلیو ایچ او کے عہدے سے مستعفی ایران کے جزیرے قشم اور سیریک میں متعدد دھماکوں کی آوازیں، ایرانی میڈیا ایران کی جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق ذمہ داریوں کی خلاف ورزی، معاملہ سلامتی کونسل میں جائے گا آبی مسئلے سمیت پاک بھارت کشیدگی کے دیگر پہلوؤں پر بھی تشویش ہے، ماریہ زخارووا

یوپین اسپیس ایجنسی نے جولائی کی پکچر آف دی منتھ جاری

Web Desk

12 July 2026

یورپی خلائی ایجنسی (ESA) نے جولائی 2026 کی ’پکچر آف دی منتھ‘ کے طور پر جیمز ویب خلائی دوربین کی جانب سے لی گئی ایک انتہائی حیرت انگیز تصویر جاری کی ہے، جس میں کائنات کے طاقتور ترین مظاہر میں سے ایک کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق، تصویر میں برج کولمبا میں واقع MACS J0553.4−3342 نامی دو دیوہیکل کہکشانی جھرمٹوں کے باہمی انضمام (Collision) کو دکھایا گیا ہے، جو زمین سے تقریباً 4.4 ارب نوری سال کی مسافت پر واقع ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ خلا میں طویل فاصلوں کا مشاہدہ دراصل کائنات کے ماضی میں جھانکنے کے مترادف ہے، اس لیے جیمز ویب نے اس جھرمٹ کو اس حالت میں دیکھا ہے جب اس کی روشنی نے اربوں سال پہلے زمین کی طرف اپنا سفر شروع کیا تھا۔ اس تصویر میں ‘گریویٹیشنل لینسنگ’ (Gravitational Lensing) کا اثر بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں شدید کششِ ثقل کے باعث پس منظر کی دور دراز کہکشاؤں کی روشنی مڑ گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے مشاہدات سے کائنات کی ابتدائی تاریخ، کہکشاؤں کی تشکیل اور ان کے ارتقائی سفر کو سمجھنے میں غیر معمولی مدد ملے گی۔