LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار کا موریطانیہ کے وزیر خارجہ سے رابطہ، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال پاکستان کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق امریکی بیان پر ناظم الامور کو ڈی مارش اقتصادی رابطہ کمیٹی نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی وزیراعظم سے پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر کی الوداعی ملاقات بلاول بھٹو کا پارلیمان کو فعال بنانے پر زور، اپوزیشن کو کمیٹیوں میں واپسی کی دعوت ایران کا متحدہ عرب امارات کا ٹینکر قبضے میں لینے کا دعویٰ غیر قانونی کال سینٹر چلانے پر 275 غیر ملکی گرفتار، 76 کو واپس بھیجنے کا فیصلہ بلاول بھٹو کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات، پارلیمانی امور، ملکی سیاست پر گفتگو عمران خان کو جیل مینوئل کے مطابق علاج کی سہولتیں ملتی رہیں گی:عطا تارڑ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر ریٹیلر ایپ کا اجراء، چھوٹے دکانداروں کیلئے ٹیکس سکیم آسان بنا دی: وزیر خزانہ محسن نقوی کا پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاؤن کا دورہ، شہریوں کی شکایات پر برہم اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان SCO اجلاس کی میزبانی کرے گا، اسحاق ڈار کا تیاریوں پر اظہارِ اطمینان جنگ کے دوران امریکا نے مذاکرات کی درخواست کی: ایرانی وزیر خارجہ

یوپین اسپیس ایجنسی نے جولائی کی پکچر آف دی منتھ جاری

Web Desk

12 July 2026

یورپی خلائی ایجنسی (ESA) نے جولائی 2026 کی ’پکچر آف دی منتھ‘ کے طور پر جیمز ویب خلائی دوربین کی جانب سے لی گئی ایک انتہائی حیرت انگیز تصویر جاری کی ہے، جس میں کائنات کے طاقتور ترین مظاہر میں سے ایک کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق، تصویر میں برج کولمبا میں واقع MACS J0553.4−3342 نامی دو دیوہیکل کہکشانی جھرمٹوں کے باہمی انضمام (Collision) کو دکھایا گیا ہے، جو زمین سے تقریباً 4.4 ارب نوری سال کی مسافت پر واقع ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ خلا میں طویل فاصلوں کا مشاہدہ دراصل کائنات کے ماضی میں جھانکنے کے مترادف ہے، اس لیے جیمز ویب نے اس جھرمٹ کو اس حالت میں دیکھا ہے جب اس کی روشنی نے اربوں سال پہلے زمین کی طرف اپنا سفر شروع کیا تھا۔ اس تصویر میں ‘گریویٹیشنل لینسنگ’ (Gravitational Lensing) کا اثر بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں شدید کششِ ثقل کے باعث پس منظر کی دور دراز کہکشاؤں کی روشنی مڑ گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے مشاہدات سے کائنات کی ابتدائی تاریخ، کہکشاؤں کی تشکیل اور ان کے ارتقائی سفر کو سمجھنے میں غیر معمولی مدد ملے گی۔