پاکستان کا خطے میں کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین سے وعدوں کی پاسداری کی اپیل
Web Desk
12 July 2026
پاکستان نے امریکا اور ایران کے مابین حالیہ فوجی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین کو صبر و تحمل اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔ یہ بیان امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایران کے خلاف تیسرے مرحلے کے حملوں میں 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا کہا گیا، جبکہ دوسری جانب ایران نے امریکی مداخلت کے خاتمے تک آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بدلتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس سے قبل، اسحاق ڈار نے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی سے بھی ایک اہم ملاقات کی، جس میں علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ سفارتی کوششوں کو مزید مستحکم کرنے اور پاک-سعودی برادرانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے اور تنازعات کے حل کا واحد قابلِ عمل راستہ صرف مذاکرات ہیں۔
متعلقہ عنوانات
ماسکو میں پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی کی پروقار تقریب، روسی نائب وزیر خارجہ کی خصوصی شرکت
12 August 2026
امریکا اور ایران کا 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق
12 August 2026
مغرب ممالک نے روسی تجارتی جہاز قبضے میں لئے تو بھرپور جواب دیں گے: پوتن
12 August 2026
مال روڈ واقعہ اس بات کا اشارہ ہے کہ 27 ستمبر کو بھی ایسا ہی ہوسکتا ہے، طلال چوہدری
12 August 2026
پاکستان، بیلاروس کا اقتصادی و تجارتی تعاون نئی سطح پر لے جانے پر اتفاق
12 August 2026
امریکی فوج ہماری توقع سے کہیں زیادہ کمزور نکلی: مشیر ایرانی کمانڈر کا بڑا دعویٰ
12 August 2026
اسحاق ڈار کی حوثیوں کے حملے میں 3 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق
12 August 2026
مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، باب المندب میں تجارتی جہاز پر حوثی حملہ قابلِ مذمت: ترجمان دفتر خارجہ
12 August 2026