LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا زبردست تیزی پر اختتام سوئی گیس کا عید الاضحیٰ کے لیے نیا شیڈول جاری، صارفین کو سہولت دینے کا اعلان پاکستان میں گردشی قرض، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان ٹانک: چیسن کچ میں دہشت گردی، نامعلوم افراد نے مڈل اسکول اور بنیادی ہیلتھ مرکز (BHU) کو دھماکے سے اڑا دیا

میٹا کا ہزاروں ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کرنے کا اعلان

Web Desk

27 April 2026

فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی مجموعی افرادی قوت میں سے تقریباً 10 فیصد ملازمین کو فارغ کرے گی، جس کے تحت تقریباً 8,000 ملازمین متاثر ہوں گے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلے کمپنی کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کے باعث کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق میٹا نے مزید 6,000 خالی آسامیوں کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ کمپنی اپنے اخراجات میں کمی اور کارکردگی میں بہتری لا سکے۔
کمپنی کی چیف پیپل آفیسر جینیل گیل کے مطابق یہ اقدامات تنظیمی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور اے آئی ٹیکنالوجی میں جاری بڑی سرمایہ کاری کو متوازن کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
میٹا پہلے ہی 2025 میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کے بعد 2026 میں بھی مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز پر مزید بھاری اخراجات کا منصوبہ رکھتی ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ تبدیلیاں اس کے طویل مدتی ٹیکنالوجی وژن، خصوصاً اے آئی اور “سپر انٹیلی جنس” کی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔