LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

مندانا کریمی نے 16 سال بعد ایران واپسی کا اعلان کردیا

Web Desk

13 May 2026

’بگ باس‘ سیزن 9 سے شہرت پانے والی ایرانی نژاد بھارتی اداکارہ مندانا کریمی نے 16 سال بھارت میں گزارنے کے بعد اپنے آبائی ملک ایران واپس جانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اداکارہ کے اس اچانک اعلان نے بھارتی شوبز انڈسٹری اور سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مندانا کریمی نے حالیہ علاقائی کشیدگی اور ایران پر امریکہ و اسرائیل کی جانب سے جنگ کے خطرات کے تناظر میں یہ جذباتی فیصلہ کیا ہے۔

اداکارہ نے انسٹاگرام پر اپنے پیغام میں انکشاف کیا کہ ممبئی میں ایک احتجاج میں شرکت کے بعد انہیں شدید سماجی مشکلات اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی قریبی دوستوں نے ان سے کنارہ کشی اختیار کر لی، جس نے انہیں ذہنی طور پر توڑ کر رکھ دیا۔ مندانا کریمی نے ایئرپورٹ سے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے “گڈ بائے انڈیا” کہا اور بتایا کہ گزشتہ دو ماہ ان کی زندگی کے مشکل ترین اور تنہا ترین دن تھے، جہاں کسی نے ان کے موقف کا ساتھ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ اس احساسِ تنہائی سے نکل کر اپنے وطن واپس لوٹ جائیں۔