LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ سہ روزہ دورہ پر سعودی عرب روانہ PMDC کا ایم ڈی کیٹ امتحانات کے شیڈول میں تبدیلی کا اعلان، ٹیسٹ اب 20 ستمبر کو ہو گا راولپنڈی میں رواں سال ڈینگی کے 6 کیسز سامنے آ گئے، 67 ہزار سے زائد لاروا تلف، ہیلتھ اتھارٹی کی رپورٹ جاری ہم افغانستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے، افغان طالبان کو پاکستان یا دہشت گردوں میں سے ایک کو چننا ہوگا: دفترِ خارجہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کے تاثر کی تردید,اڈیالہ جیل حکام کی رپورٹ پیش پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز نے میٹرک 2026 کے نتائج کا اعلان کر دیا حافظ نعیم الرحمن کی 7 اگست کو ملک گیر احتجاج کی اپیل براڈ پیک حادثہ: جاں بحق ہونے والے پانچ غیرملکی کوہ پیماؤں کی میتیں سکردو پہنچا دی گئیں پاکستان جلد یوریشین اکنامک یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ کرے گا، فیصل نیاز ترمذی ٹرمپ نے امریکی اسلحے کے ذخائر میں کمی کی خبروں کو مسترد کر دیا اسلام آباد ہائیکورٹ: گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک کے افسران کے الاؤنس میں اضافہ وزیراعظم کا آج سے 8 اگست تک سعودی عرب کا دورہ، فیلڈ مارشل بھی ہمراہ ہوں گے: دفتر خارجہ ایران کیخلاف جنگ کیلئے اسلحہ کمی پر ٹرمپ اپنے وزیر دفاع پر پھٹ پڑے: امریکی اخبار جولائی 2026 میں تجارتی خسارہ 3.94 ارب ڈالر تک پہنچ گیا وزیراعظم نے سعودی عرب روانگی سے قبل ہنگامی اجلاس طلب کر لیا

ہم افغانستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے، افغان طالبان کو پاکستان یا دہشت گردوں میں سے ایک کو چننا ہوگا: دفترِ خارجہ

Web Desk

6 August 2026

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ پاکستان، افغانستان کے ساتھ کسی قسم کی جنگ یا محاذ آرائی نہیں چاہتا، کیونکہ افغانستان میں ہمارے بہن بھائی رہتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تاریخی و برادرانہ تعلقات ہیں۔

ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کو اب یہ واضح انتخاب کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اچھے اور پائیدار تعلقات استوار رکھنا چاہتے ہیں یا پھر دہشت گرد عناصر کی حمایت جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پڑوسی ملک میں دہشت گردوں کی موجودگی اور ان کی سرپرستی خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہے۔

ترجمان نے بین الاقوامی برادری اور عالمی امدادی اداروں کا حوالہ دیتے ہوئے شدید امید ظاہر کی کہ افغانستان کو امداد فراہم کرنے والے تمام ڈونرز اس بات کو ہر صورت یقینی بنائیں گے کہ ان کی فراہم کردہ مالی امداد کسی بھی صورت میں دہشت گردانہ سرگرمیوں یا کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت میں استعمال نہ ہو۔