LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی صدر ٹرمپ نیٹو اجلاس میں شرکت کیلئے ترکیہ پہنچ گئے وفاقی حکومت نے نیشنل پاپولیشن کونسل تشکیل دے دی، وزیر اعظم چیئرمین اور آرمی چیف رکن مقرر پاکستان، کرغزستان کا تجارت، سرمایہ کاری اور سٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق شام میں فرانسیسی صدر کی قیام گاہ کے قریب دو دھماکے، 18 افراد زخمی وفاقی وزیرِ خزانہ کا بڑا اقدام؛ اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں ‘ایس ایم ای فنانس ٹاسک فورس’ قائم چین: 325 ملین ڈالرز رشوت لینے پر سرکاری عہدیدار کو سزائے موت کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، بی ایل اے کے 2 دہشت گرد گرفتار حکومت پیٹرول پر لیوی کا بھتہ وصول کر رہی ہے، قیمت 225 روپے ہونی چاہیے؛ حافظ نعیم الرحمن ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی آسان بنائی جائے؛ وزیرِ اعظم معیشت مضبوط استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جی ڈی پی 3.7 فیصد ریکارڈ؛ وزیرِ خزانہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان کے باعث ریکارڈ ٹوٹنے کا سلسلہ برقرار اقوام متحدہ کا ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید یو اے ای میں ‘ویزا آن ارائیول’ کی شرائط تبدیل، کیا اب آپ اہل ہیں؟ انسانی سمگلنگ کیخلاف 59 ممالک میں عالمی کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد ملزم گرفتار

ایران اسرائیل جنگ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا سبب بن سکتی ہے!

Web Desk

31 March 2026

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال نے اب عالمی سائبر اسپیس اور انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرینِ مواصلات نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ کار سمندری حدود تک پھیلا تو اس کا براہِ راست اثر آپ کے اسمارٹ فون اور کمپیوٹر کی اسکرین پر پڑے گا۔ دنیا کا 99 فیصد بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک سیٹلائٹ کے بجائے سمندر کی تہہ میں بچھی فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جن کا بڑا حصہ اس وقت جنگ زدہ علاقوں سے گزر رہا ہے۔

خلیجِ فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر (Red Sea) وہ اہم ترین پوائنٹس ہیں جہاں سے مشرق اور مغرب کو ملانے والی درجنوں سب میرین کیبلز گزرتی ہیں۔ جنگی جہازوں کے اینکرز، سمندری بارودی سرنگیں یا جان بوجھ کر کی جانے والی تخریب کاری ان کیبلز کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو عالمی انٹرنیٹ ٹریفک کو طویل اور پیچیدہ متبادل راستوں پر منتقل کرنا پڑے گا، جس کے نتیجے میں انٹرنیٹ کی رفتار میں شدید کمی (Latency) اور کئی ممالک میں مکمل بلیک آؤٹ کا سامنا ہو سکتا ہے۔

تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کا یہ نظام انتہائی حساس ہے اور ایک بھی بڑی کیبل کٹنے سے بینکنگ سسٹم، ایوی ایشن، اور آن لائن مواصلات مفلوج ہو کر رہ سکتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ سے ہزاروں میل دور بیٹھے صارفین بھی اس ‘ڈیجیٹل سونامی’ کی زد میں آ سکتے ہیں، کیونکہ ڈیٹا کی منتقلی کا عالمی توازن بگڑنے سے پورے کرہ ارض پر انٹرنیٹ سروسز متاثر ہوں گی۔