ایران اسرائیل جنگ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا سبب بن سکتی ہے!
Web Desk
31 March 2026
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال نے اب عالمی سائبر اسپیس اور انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرینِ مواصلات نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ کار سمندری حدود تک پھیلا تو اس کا براہِ راست اثر آپ کے اسمارٹ فون اور کمپیوٹر کی اسکرین پر پڑے گا۔ دنیا کا 99 فیصد بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک سیٹلائٹ کے بجائے سمندر کی تہہ میں بچھی فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جن کا بڑا حصہ اس وقت جنگ زدہ علاقوں سے گزر رہا ہے۔
خلیجِ فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر (Red Sea) وہ اہم ترین پوائنٹس ہیں جہاں سے مشرق اور مغرب کو ملانے والی درجنوں سب میرین کیبلز گزرتی ہیں۔ جنگی جہازوں کے اینکرز، سمندری بارودی سرنگیں یا جان بوجھ کر کی جانے والی تخریب کاری ان کیبلز کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو عالمی انٹرنیٹ ٹریفک کو طویل اور پیچیدہ متبادل راستوں پر منتقل کرنا پڑے گا، جس کے نتیجے میں انٹرنیٹ کی رفتار میں شدید کمی (Latency) اور کئی ممالک میں مکمل بلیک آؤٹ کا سامنا ہو سکتا ہے۔
تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کا یہ نظام انتہائی حساس ہے اور ایک بھی بڑی کیبل کٹنے سے بینکنگ سسٹم، ایوی ایشن، اور آن لائن مواصلات مفلوج ہو کر رہ سکتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ سے ہزاروں میل دور بیٹھے صارفین بھی اس ‘ڈیجیٹل سونامی’ کی زد میں آ سکتے ہیں، کیونکہ ڈیٹا کی منتقلی کا عالمی توازن بگڑنے سے پورے کرہ ارض پر انٹرنیٹ سروسز متاثر ہوں گی۔
متعلقہ عنوانات
روشنی سے دماغی خلیوں کو کنٹرول کرنے والی تحقیق پر 3 سائنس دانوں کو نوبیل انعام
5 October 2026
مریخ سے متعلق نئی تحقیق میں سائنس دانوں کا اہم انکشاف
5 October 2026
محمد ذوہیب خان ایشین-اوشینین کمپیوٹنگ انڈسٹری آرگنائزیشن کے وائس چیئرمین منتخب
5 October 2026
گاڑی کی USB پورٹ سے موبائل فون سست چارج کیوں ہوتا ہے؟ وجہ سامنے آگئی
5 October 2026
چیٹ جی پی ٹی صارفین کو نئے آن لائن فراڈ سے خبردار کردیا گیا
4 October 2026
انسان نما ریٹائرڈ روبوٹس کے لیے آرنلڈ شوارزنیگر کی انوکھی تجویز
4 October 2026
یوٹیوب پر ایک اور سائن اِن مسئلہ، صارفین کو اکاؤنٹ کھولنے مشکلات
4 October 2026
پاکستان کی پہلی فلائی گاڑی جناح ون 2028 میں چاند پر اترے گی: چیئرمین سپارکو
3 October 2026