ہفتے میں محض 2 گھنٹے ویٹ لفٹنگ قبل از وقت موت کا خطرہ کم کرتی ہے، تحقیق
Web Desk
4 June 2026
بوسٹن: طبی سائنس کی دنیا سے ایک انتہائی اہم اور مفید تحقیق سامنے آئی ہے، جس کے مطابق ہفتے میں محض 90 سے 120 منٹ (تقریباً 1.5 سے 2 گھنٹے) تک وزن اٹھانے یا طاقت بڑھانے والی ورزشیں (Strength Training) کرنے سے انسان کی قبل از وقت موت کے خطرے میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
عالمی سطح پر معتبر برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تحقیقی رپورٹ کے لیے ہارورڈ یونیورسٹی کے مایہ ناز محققین نے امریکہ میں 1 لاکھ 47 ہزار 373 افراد کا مسلسل 30 سال تک گہرا مشاہدہ کیا۔ اس طویل ترین طبی جائزے کے بعد یہ ثابت ہوا کہ جو لوگ ہفتے میں تقریباً 2 گھنٹے طاقت بڑھانے والی ورزش کو اپنے معمول کا حصہ بناتے ہیں، ان میں کسی بھی وجہ سے ہونے والی قبل از وقت موت کا خطرہ 13 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔تحقیق کے دوران جب مختلف بیماریوں کے لحاظ سے اموات کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا تو حیران کن نتائج سامنے آئے: طاقت بڑھانے والی ورزشوں کے باعث دل کی بیماریوں یا فالج (Stroke) سے موت کے خطرے میں 19 فیصد تک واضح کمی دیکھی گئی۔ جو لوگ وزن اٹھانے یا ریزسٹنس بینڈز (Resistance Bands) جیسے فٹنس آلات کا باقاعدگی سے استعمال کرتے تھے، ان میں اعصابی بیماریوں (Neurological Diseases) سے موت کا خطرہ 27 فیصد تک کم پایا گیا، حتیٰ کہ اس جائزے کے دوران دیگر جسمانی سرگرمیوں جیسے کہ ایروبک ورزش (Aerobic Exercise) کو بھی مدنظر رکھا گیا تھا۔
تاہم محققین نے یہ واضح بھی کیا ہے کہ ہفتے میں 2 گھنٹے سے زیادہ طاقت بڑھانے والی ورزش کرنے سے صحت کو کوئی اضافی فوائد حاصل نہیں ہوتے۔ رپورٹ میں لمبی اور صحت مند زندگی گزارنے کے لیے ایروبک ورزش اور طاقت بڑھانے والی ورزشوں کے امتزاج کو اپنانے کی خصوصی تجویز دی گئی ہے۔سپورٹ انگلینڈ کے صحت اور فلاح و بہبود کی پالیسی کے سٹریٹجک لیڈ ‘ٹام برٹن’ نے بھی ہارورڈ یونیورسٹی کی اس تحقیق کی بھرپور تائید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طاقت پر مبنی جسمانی سرگرمیاں، خاص طور پر صحت مند بڑھاپے کے لیے ایک انتہائی مؤثر اور جادوئی ذریعہ ہیں۔ یہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ خراب صحت کو روکنے یا اسے مؤخر کرنے، جسمانی حرکت برقرار رکھنے اور انسان کی خودمختاری قائم رکھنے میں بے حد مدد دیتی ہیں، جس سے بالآخر صحت و نگہداشت کے سرکاری اداروں پر دباؤ بھی کم ہوتا ہے۔ٹام برٹن نے سپورٹ انگلینڈ کی اپنی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک متحرک اور فعال طرزِ زندگی (Active Lifestyle) ہر سال دنیا بھر میں لگ بھگ 33 لاکھ دائمی (سنگین) بیماریوں کے کیسز کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ فعال طرزِ زندگی صحت کی قومی خدمات کے شعبے کے لیے سالانہ 8 ارب پاؤنڈ کی خطیر رقم کی بچت کا باعث بھی بنتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارا بنیادی مقصد جسمانی سرگرمیوں اور ورزش کو ہر فرد کے لیے آسان اور قابلِ رسائی بنانا ہے، کیونکہ یہی ایک صحت مند، خوشحال اور خوشگوار معاشرے کی حقیقی بنیاد ہے
متعلقہ عنوانات
بچپن میں میٹھے مشروبات ادھیڑ عمری میں کن مسائل کا سبب بن سکتا ہے؟
24 June 2026
پاکستان میں جگر کی پیوندکاری کا عالمی ریکارڈ، 24 گھنٹے میں 10 کامیاب ٹرانسپلانٹس مکمل
24 June 2026
ایبولا وائرس سے متعلق سائنس دانوں کا انتباہ!
23 June 2026
بھارت میں خطرناک بیماری کا حملہ، ایک شخص ہلاک
23 June 2026
خواتین اچھی نیند کے باوجود خود کو زیادہ تھکا ہوا کیوں محسوس کرتی ہیں؟
23 June 2026
چیونگ گم دل کی صحت کے لیے مفید؟ نئی تحقیق سامنے آگئی
22 June 2026
پی ایم اینڈ ڈی سی میں ادارہ جاتی اصلاحات کا آغاز
22 June 2026
قصور میں گردے کی مبینہ غیر قانونی پیوندکاری پر8 افراد کے خلاف مقدمہ درج
22 June 2026