LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
علیم خان صرف بیان نہ دیں، استعفیٰ دے کر اپوزیشن بینچوں پر بیٹھیں: سوشل میڈیا صارفین کا شدید ردِعمل امریکا نے چین، بھارت، روس اور ایران کے اداروں پر نئی پابندیاں لگا دیں سینٹ کام نے ایران کے امریکی طیارے تباہ کرنے کے دعوے مسترد کر دیئے ہمارے مخالفین آپس میں کسی بات پر متفق نہیں، ہماری سیاست صرف ترقی ہے: احسن اقبال بھارت کی موجودہ قیادت نفرت کی سیاست سے اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے: سفیر فیصل نیاز ترمذی پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، نوٹیفکیشن جاری خضدار میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 دہشت گرد جہنم واصل بھارت فلسطین کیخلاف اسرائیل کو اسلحہ اور دفاعی پرزے فراہم کرتا رہا: ایمنسٹی انٹرنیشنل ترک وزیر خارجہ کی حماس کے نئے سربراہ خلیل الحیہ سے ملاقات، امن مذاکرات پر زور اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا رابطہ، علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال وفاقی آئینی عدالت کا ریٹائرڈ ملازمین کے حق میں بڑا فیصلہ وزیراعظم کی بجلی چوری کے خاتمے کیلئے سخت اقدامات کی ہدایت کشمیر میں انتخابات کا فیصلہ بیلٹ سے ہونا چاہئے، بلٹ سے نہیں: بلاول بھٹو نئے انتظامی یونٹس ہی مسائل کا حل، معاملہ عوام کے پاس لے جانا ہوگا: محسن نقوی ایران کا اردن میں امریکی ایئربیس پر حملہ، تین ایف 35 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ

بھارت کی موجودہ قیادت نفرت کی سیاست سے اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے: سفیر فیصل نیاز ترمذی

Web Desk

30 July 2026

روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے ماسکو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں، اس لیے دونوں ممالک کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات، عوامی روابط، ثقافتی تبادلوں اور پرامن تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم موجودہ بھارتی قیادت کی پالیسیاں اور ہمسایہ ممالک پر دباؤ ڈالنے کی روش خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پانی کو سیاسی ہتھیار نہ بنایا جائے کیونکہ یہ پاکستان کی زراعت اور زندگی کا بنیادی ذریعہ ہے، اور بین الاقوامی معاہدوں پر پاسداری ضروری ہے۔

افغانستان اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے واضح کیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ پاکستان ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کا حامی ہے لیکن دہشت گردی کو قبول نہیں کر سکتا۔ ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے حوالے سے انہوں نے خبردار کیا کہ خلیجی خطے میں کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات عالمی معیشت، توانائی اور خوراک کی فراہمی پر منفی انداز میں مرتب ہوں گے، اس لیے تمام فریقین کو سفارت کاری اور تحمل کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔

پاک روس دوطرفہ تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے فیصل نیاز ترمذی نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا متوقع دورۂ روس منسوخ نہیں بلکہ مؤخر ہوا ہے اور دونوں ممالک جلد نئی تاریخوں پر اتفاق کریں گے۔ انہوں نے پاکستان اور روس کے درمیان براہِ راست پروازوں کی شروعات، ویزا سہولیات، تعلیم، سیاحت اور ثقافتی تبادلوں کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ اور عوامی روابط کو مزید استحکام حاصل ہو سکے۔