LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی تیاری، بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج کی نگرانی میں طبی معائنہ مکمل حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا امریکا کا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کیلئے خفیہ شپنگ کوریڈور قائم کرنے کا دعویٰ حوثیوں کے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے اسحاق ڈار سے برازیلی وزیر خارجہ کا رابطہ، عالمی امن پر تبادلہ خیال فضل الرحمان کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات، متحدہ اپوزیشن کے قیام کا اعلان شہباز شریف نے پنشنرز کیلئے ’پروف آف لائف‘ کے جدید نظام کا افتتاح کر دیا پیپلزپارٹی کے وفد کی سپیکر سردار ایاز صادق سے ملاقات, قانون سازی پر تبادلہ خیال وزیراعظم سے شامی وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم اور ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 منظور پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن

بیشتر معمر افراد 8 گھنٹے تک سونے کے باوجود پُر سکون نیند سے محروم

Web Desk

30 July 2026

برطانیہ میں کی گئی ایک جدید طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ 10 میں سے 9 معمر افراد ماہرین کی تجویز کردہ 6 سے 8 گھنٹے کی نیند لینے کے باوجود معیاری اور پرسکون نیند سے محروم رہتے ہیں۔ نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق برطانیہ میں ہر 3 میں سے 1 فرد بے خوابی کا شکار ہے، جبکہ 50 سے 66 سال کی عمر کے ملازمین پر کی گئی تحقیق کے مطابق تقریباً 90% شرکا رات کو باقاعدگی سے کئی بار جاگتے ہیں۔ ڈیٹا سائنسدان پروفیسر ایتھاناسیوس ساناس کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق میں معلوم ہوا کہ اصلی مسئلہ نیند کا دورانیہ نہیں بلکہ رات بھر نیند میں آنے والا خلل ہے، جو کہ زیادہ تر ورک اسٹریس (کام کے ذہنی دباؤ) کے باعث ہوتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غیر معیاری نیند آگے چل کر ڈیمنشیا، ڈپریشن اور کینسر جیسے موذی امراض کا سبب بن سکتی ہے، لہٰذا آجروں اور پالیسی سازوں کو ورک لائف بیلنس بہتر بنانے پر فوری توجہ دینی چاہیے۔