LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سپین میں دو تیز رفتار ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں، 30 افراد ہلاک وزیراعلیٰ مریم نواز کے کاشتکاروں کیلئے بڑے اعلانات، اپنا کسان بینک قائم کرنے کا فیصلہ پی سی بی اور الائیڈ بینک میں سکولز ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کیلئے 10 کروڑ روپے کا معاہدہ امریکا مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران پر بڑے حملے کیلئے تیار، خلیجی ممالک کو آگاہ کر دیا ماسکو میں گیس برآمد کرنیوالے ممالک کے آٹھویں سربراہی اجلاس کا اعلامیہ منظور جام کمال خان کا دوحہ میں پاکستانی مصنوعات کے ایکسپورٹ ڈسپلے سینٹر کا افتتاح مولانا فضل الرحمٰن کی راجہ ناصر عباس اور پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کمانڈر کویت نیول فورس کی نیول ہیڈکوارٹرز آمد، نیول چیف سے ملاقات 9 مئی کیس: سہیل آفریدی سمیت پانچ ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری پاکستان ہاکی فیڈریشن کا ملک بھر میں اسکولز ہاکی لیگ شروع کرنےکا فیصلہ ایبٹ آباد پبلک سکول کے مسائل حل کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں، گورنر فیصل کریم الیکشن کمیشن کا خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم: انتخابی شیڈول مانگ لیا گیا ایران کا قطر سے ثالثی کے تقاضوں پر عمل اور محتاط بیانات کا مطالبہ گورنر راج کا مقصد معدنی ذخائر پر قبضہ ہے، ملک کسی جرنیل کی جاگیر نہیں:مولانا فضل الرحمان جماعت اسلامی کا اسلام آباد مارچ نومبر کے وسط میں ہوگا: حافظ نعیم

بیشتر معمر افراد 8 گھنٹے تک سونے کے باوجود پُر سکون نیند سے محروم

Web Desk

30 July 2026

برطانیہ میں کی گئی ایک جدید طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ 10 میں سے 9 معمر افراد ماہرین کی تجویز کردہ 6 سے 8 گھنٹے کی نیند لینے کے باوجود معیاری اور پرسکون نیند سے محروم رہتے ہیں۔ نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق برطانیہ میں ہر 3 میں سے 1 فرد بے خوابی کا شکار ہے، جبکہ 50 سے 66 سال کی عمر کے ملازمین پر کی گئی تحقیق کے مطابق تقریباً 90% شرکا رات کو باقاعدگی سے کئی بار جاگتے ہیں۔ ڈیٹا سائنسدان پروفیسر ایتھاناسیوس ساناس کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق میں معلوم ہوا کہ اصلی مسئلہ نیند کا دورانیہ نہیں بلکہ رات بھر نیند میں آنے والا خلل ہے، جو کہ زیادہ تر ورک اسٹریس (کام کے ذہنی دباؤ) کے باعث ہوتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غیر معیاری نیند آگے چل کر ڈیمنشیا، ڈپریشن اور کینسر جیسے موذی امراض کا سبب بن سکتی ہے، لہٰذا آجروں اور پالیسی سازوں کو ورک لائف بیلنس بہتر بنانے پر فوری توجہ دینی چاہیے۔