LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور سیاسی جماعتیں عوامی ریلیف اور عملی اقدامات پر توجہ دیں: شرجیل میمن پولٹری سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کیلئے پاکستان اور ڈنمارک کے ادارے میں معاہدہ چار ملکی اجلاس خطے میں امن و سلامتی کے لیے اہم موقع ہے، عباس عراقچی وزیراعظم آزاد کشمیر کا وادی سیماری میں ایکو ٹورازم منصوبے کا دورہ، حکومتی سرپرستی کا اعلان نیتن یاہو فتح کے قریب، میری حمایت نے بہت مدد کی: ٹرمپ کا دعویٰ اسحاق ڈار کا عمانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ملکی ترقی کا راز مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن میں مضمر ہے: شہباز شریف سپین میں دو تیز رفتار ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں، 30 افراد ہلاک وزیراعلیٰ مریم نواز کے کاشتکاروں کیلئے بڑے اعلانات، اپنا کسان بینک قائم کرنے کا فیصلہ پی سی بی اور الائیڈ بینک میں سکولز ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کیلئے 10 کروڑ روپے کا معاہدہ امریکا مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران پر بڑے حملے کیلئے تیار، خلیجی ممالک کو آگاہ کر دیا ماسکو میں گیس برآمد کرنیوالے ممالک کے آٹھویں سربراہی اجلاس کا اعلامیہ منظور جام کمال خان کا دوحہ میں پاکستانی مصنوعات کے ایکسپورٹ ڈسپلے سینٹر کا افتتاح

بیشتر معمر افراد 8 گھنٹے تک سونے کے باوجود پُر سکون نیند سے محروم

Web Desk

30 July 2026

برطانیہ میں کی گئی ایک جدید طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ 10 میں سے 9 معمر افراد ماہرین کی تجویز کردہ 6 سے 8 گھنٹے کی نیند لینے کے باوجود معیاری اور پرسکون نیند سے محروم رہتے ہیں۔ نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق برطانیہ میں ہر 3 میں سے 1 فرد بے خوابی کا شکار ہے، جبکہ 50 سے 66 سال کی عمر کے ملازمین پر کی گئی تحقیق کے مطابق تقریباً 90% شرکا رات کو باقاعدگی سے کئی بار جاگتے ہیں۔ ڈیٹا سائنسدان پروفیسر ایتھاناسیوس ساناس کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق میں معلوم ہوا کہ اصلی مسئلہ نیند کا دورانیہ نہیں بلکہ رات بھر نیند میں آنے والا خلل ہے، جو کہ زیادہ تر ورک اسٹریس (کام کے ذہنی دباؤ) کے باعث ہوتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غیر معیاری نیند آگے چل کر ڈیمنشیا، ڈپریشن اور کینسر جیسے موذی امراض کا سبب بن سکتی ہے، لہٰذا آجروں اور پالیسی سازوں کو ورک لائف بیلنس بہتر بنانے پر فوری توجہ دینی چاہیے۔