LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی کا لانگ مارچ، مرکزی قیادت نے تاریخ کے تعین کا اختیار حافظ نعیم کو دے دیا نیتن یاہو کی ٹرمپ کو ایران کیخلاف ناکہ بندی اور معاشی دباؤ پر مبارکباد نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام مولانا سے ملاقات میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن پر اتفاق ہوا: بیرسٹر گوہر موخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئے پوزیشن کا اہم اجلاس: 27 ستمبر احتجاج کی تیاریوں کی ہدایت، ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ محسن نقوی سے رابطہ رہتا ہے، تفصیلات نہیں بتائیں گے، بیرسٹر گوہر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، حکومت اور حزب اختلاف میں مشاورت کا آغاز

گوگل اے آئی کے مشوروں نے صارفین کی صحت کو خطرے میں ڈال دیا؟

Web Desk

8 January 2026

گوگل کے سرچ نتائج میں شامل اے آئی اوورویوز کے بارے میں ماہرین صحت اور فلاحی اداروں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان میں موجود بعض غلط طبی معلومات مریضوں کی صحت کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اے آئی اوورویوز صارفین کیلئے مددگار اور قابلِ اعتماد ہیں، تاہم ماہرین نے متعدد ایسی مثالیں سامنے لائی ہیں جنہیں انہوں نے نہ صرف غلط بلکہ خطرناک بھی قرار دیا۔ ایک کیس میں گوگل کے اے آئی خلاصے میں لبلبے کے کینسر کے مریضوں کو زیادہ چکنائی والی غذاؤں سے پرہیز کا مشورہ دیا گیا، جسے ماہرین کے مطابق بالکل غلط اور مریض کی صحت کیلئے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔

اسی طرح جگر کے فنکشن ٹیسٹس سے متعلق فراہم کی گئی معلومات بھی درست نہیں تھیں، جس کے نتیجے میں شدید بیماری میں مبتلا افراد خود کو صحت مند سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ خواتین کے کینسر ٹیسٹس، خصوصاً پیپ ٹیسٹ کے حوالے سے بھی سرچ نتائج میں غلط معلومات سامنے آئیں، جہاں بعض اوقات اسے اندام نہانی کے کینسر کا ٹیسٹ ظاہر کیا گیا، حالانکہ یہ حقیقت کے منافی ہے۔

صحت کے ماہرین اور مختلف چیریٹیز نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کی غلط معلومات لوگوں کو بروقت علاج سے دور رکھ سکتی ہیں اور بعض صورتوں میں جان لیوا نتائج کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔ مریضوں کے حقوق کے فورم کی ڈائریکٹر صوفی رینڈل نے کہا کہ گوگل کے اے آئی اوورویوز آن لائن سرچز میں غلط معلومات دے کر صارفین کی صحت کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

میری کیوری چیریٹی کی اسٹیفنی پارکر نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگ پریشانی کے عالم میں انٹرنیٹ پر انحصار کرتے ہیں اور اگر اس دوران انہیں غلط معلومات ملیں تو یہ ان کیلئے شدید نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گوگل کے اے آئی اوورویوز نے نفسیاتی بیماریوں اور کھانے پینے کی عادات کے حوالے سے بھی بعض خطرناک اور گمراہ کن مشورے دیے، جس سے لوگ ضروری طبی مدد لینے سے گریز کر سکتے ہیں۔