LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
زمینی کارروائی کی تو ایران حملہ آوروں کا قبرستان بن جائے گا: پاسداران انقلاب ترکیہ نے ایران جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات ہی واحد حل قرار دیدیا جنوبی مغربی کنارے کے شہرالخلیل میں فائرنگ، 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 3زخمی ایران نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی سے دوہرا معیار ختم کرنے کا مطالبہ مظاہرین اپنے مؤقف پر قائم رہیں، احتساب کے مطالبے سے پیچھے نہ ہٹیں: باقر قالیباف امریکی صدر کی ایران کیخلاف ایک اور بڑے آپریشن کی دھمکی آر فور ممالک کا اجلاس، سعودیہ کیساتھ اظہار یکجہتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ این سی سی آئی اے کے نوٹس پر جاوید ہاشمی کا ردعمل: اپنے لفظوں پر قائم ہوں، گرفتاری سے نہیں ڈرتا وزیراعلیٰ بلوچستان نے چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر قرار دیدیا ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید کا یونان کا سرکاری دورہ مکمل امارات میں پاکستانیوں کیلئے ای پاسپورٹ کا اجرا، کم از کم فیس 145 درہم مقرر اسحاق ڈار سمیت آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ کی ترک صدر اردوان سے ملاقات روس اور یوکرین کے درمیان 540 جنگی قیدیوں کا تبادلہ، 270 روسی فوجی ماسکو پہنچ گئے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی آئین اور قانون کے مطابق لگائی گئی: گورنر سندھ ماسکو میں ڈرون حملوں کا خطرہ، فضائی آپریشن کئی بار متاثر ہونے کے بعد دوبارہ بحال

گوگل اے آئی کے مشوروں نے صارفین کی صحت کو خطرے میں ڈال دیا؟

Web Desk

8 January 2026

گوگل کے سرچ نتائج میں شامل اے آئی اوورویوز کے بارے میں ماہرین صحت اور فلاحی اداروں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان میں موجود بعض غلط طبی معلومات مریضوں کی صحت کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اے آئی اوورویوز صارفین کیلئے مددگار اور قابلِ اعتماد ہیں، تاہم ماہرین نے متعدد ایسی مثالیں سامنے لائی ہیں جنہیں انہوں نے نہ صرف غلط بلکہ خطرناک بھی قرار دیا۔ ایک کیس میں گوگل کے اے آئی خلاصے میں لبلبے کے کینسر کے مریضوں کو زیادہ چکنائی والی غذاؤں سے پرہیز کا مشورہ دیا گیا، جسے ماہرین کے مطابق بالکل غلط اور مریض کی صحت کیلئے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔

اسی طرح جگر کے فنکشن ٹیسٹس سے متعلق فراہم کی گئی معلومات بھی درست نہیں تھیں، جس کے نتیجے میں شدید بیماری میں مبتلا افراد خود کو صحت مند سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ خواتین کے کینسر ٹیسٹس، خصوصاً پیپ ٹیسٹ کے حوالے سے بھی سرچ نتائج میں غلط معلومات سامنے آئیں، جہاں بعض اوقات اسے اندام نہانی کے کینسر کا ٹیسٹ ظاہر کیا گیا، حالانکہ یہ حقیقت کے منافی ہے۔

صحت کے ماہرین اور مختلف چیریٹیز نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کی غلط معلومات لوگوں کو بروقت علاج سے دور رکھ سکتی ہیں اور بعض صورتوں میں جان لیوا نتائج کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔ مریضوں کے حقوق کے فورم کی ڈائریکٹر صوفی رینڈل نے کہا کہ گوگل کے اے آئی اوورویوز آن لائن سرچز میں غلط معلومات دے کر صارفین کی صحت کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

میری کیوری چیریٹی کی اسٹیفنی پارکر نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگ پریشانی کے عالم میں انٹرنیٹ پر انحصار کرتے ہیں اور اگر اس دوران انہیں غلط معلومات ملیں تو یہ ان کیلئے شدید نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گوگل کے اے آئی اوورویوز نے نفسیاتی بیماریوں اور کھانے پینے کی عادات کے حوالے سے بھی بعض خطرناک اور گمراہ کن مشورے دیے، جس سے لوگ ضروری طبی مدد لینے سے گریز کر سکتے ہیں۔