LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی آنکھوں کے امراض کی بروقت تشخیص سے بینائی کے نقصان سے بچا جا سکتا ہے: گورنر سندھ لوڈشیڈنگ کیس: لاہور ہائیکورٹ نے 15 ستمبر کو جواب طلب کرلیا پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست: اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ میں اہم سماعت وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں نئی آٹو پالیسی اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی مراعات کی منظوری حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹس پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ میر رضا کیس: وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجھار جوڈیشل کمیشن میں پیش سیف گیمز کے کامیاب انعقاد کیلئے اسپورٹس انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کا بڑا فیصلہ پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین کرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر حل طلب مسئلہ، بھارت حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا: دفتر خارجہ حوثی باغیوں کا سعودیہ کے 3 شہروں پر حملہ، یمنی وزیر دفاع کو یرغمال بنا لیا اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ پر پابندی اور توہینِ عدالت کیس کی سماعت، پارٹی سے موقف طلب پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران منفی رجحان برقرار امریکی اڈے پر ایرانی حملے میں 9 جنگی طیارے نشانہ بن گئے بھاری ٹیکس و مارجن وصولی: پانچ روز میں پٹرول 21.88 روپے فی لیٹر مہنگا

ہزاروں ٹن آلو مفت کیوں بانٹنے پڑے؟ دلچسپ وجہ سامنے آگئی

Web Desk

25 April 2026

یورپ کے ترقی یافتہ ملک جرمنی میں خوراک کے ضیاع کو روکنے کی ایک شاندار مثال قائم کی گئی ہے، جہاں ایک تجارتی بحران کو عوامی بھلائی کے منصوبے میں بدل دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق، ایک تاجر کی جانب سے 4 ہزار ٹن آلو کا آرڈر منسوخ کیے جانے کے بعد، ہزاروں ٹن خوراک کے ضائع ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا، جسے ایک بروقت حکمتِ عملی کے ذریعے محفوظ بنا لیا گیا۔

یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ملک میں آلو کی غیر معمولی پیداوار کے باعث قیمتیں گر گئیں اور خریدار نے اپنا بڑا آرڈر لینے سے معذرت کر لی۔ جرمنی کے سخت قوانین کے تحت کچرے میں ڈالی گئی خوراک دوبارہ استعمال کرنا غیر قانونی ہے، اس لیے ان آلوؤں کو تلف کرنا ماحول کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا تھا کیونکہ سڑنے والی خوراک سے میتھین گیس خارج ہوتی ہے۔

اس مسئلے کے حل کے لیے ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم (NGO) اور ایک اخبار نے مل کر برلن کے مختلف حصوں میں ‘پوٹیٹو پک اپ اسٹیشنز’ قائم کیے۔ شہریوں کو دعوت دی گئی کہ وہ آئیں اور مفت آلو لے جائیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا تانتا بندھ گیا اور 800 ہاتھیوں کے وزن کے برابر آلوؤں کی یہ بڑی مقدار کامیابی سے عوام میں تقسیم ہو گئی۔ اس اقدام کو نہ صرف جرمنی بلکہ عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، کیونکہ اس نے ثابت کیا کہ مثبت سوچ اور بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے خوراک کے ضیاع جیسے بڑے عالمی مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔