LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دریائے سندھ میں پانی کی آمد میں اضافہ، سیلاب، کئی دیہات زیر آب، زمینی رابطہ منقطع امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز کی بندش کا ایرانی دعویٰ مسترد کر دیا بیلاروس کے وفد کا نیول ہیڈ کوارٹرز کا دورہ، چیف آف نیول سٹاف سے ملاقات شہدا پر سیاست نا قابل قبول، سیاست کو دہشتگردی سے نہ جوڑا جائے: سرفراز بگٹی کشمیری عوام کے صبر اور برداشت کو سلام پیش کرتا ہوں، تحریک دنیا بھر میں پھیل رہی ہے: مولانا فضل الرحمان امریکا کا چین پر اے آئی ٹیکنالوجی چرانے کا الزام، “ماڈل ڈسٹلیشن” تنازع کیا ہے؟ ایران کا کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: انتخابی مہم کا وقت ختم، دنگل کل سجے گا ارشد ندیم جیولن تھرو فائنل میں میڈل کی دوڑ سے باہر خاتون باکسر فاطمہ زہرہ نے کامن ویلتھ گیمز میں تاریخ رقم کر دی مؤقف پر قائم ہوں، کشمیری مہاجرین کی نشستیں ختم نہیں ہونے دیں گے: خواجہ آصف سعودیہ کا حماس کی تخفیفِ اسلحہ پر آمادگی کا خیرمقدم، ٹرمپ کے کردار کو سراہا حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کا اعلان حماس کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ امن کی جانب اہم پیش رفت ہو سکتا ہے، کایا کالاس ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا

ہزاروں ٹن آلو مفت کیوں بانٹنے پڑے؟ دلچسپ وجہ سامنے آگئی

Web Desk

25 April 2026

یورپ کے ترقی یافتہ ملک جرمنی میں خوراک کے ضیاع کو روکنے کی ایک شاندار مثال قائم کی گئی ہے، جہاں ایک تجارتی بحران کو عوامی بھلائی کے منصوبے میں بدل دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق، ایک تاجر کی جانب سے 4 ہزار ٹن آلو کا آرڈر منسوخ کیے جانے کے بعد، ہزاروں ٹن خوراک کے ضائع ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا، جسے ایک بروقت حکمتِ عملی کے ذریعے محفوظ بنا لیا گیا۔

یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ملک میں آلو کی غیر معمولی پیداوار کے باعث قیمتیں گر گئیں اور خریدار نے اپنا بڑا آرڈر لینے سے معذرت کر لی۔ جرمنی کے سخت قوانین کے تحت کچرے میں ڈالی گئی خوراک دوبارہ استعمال کرنا غیر قانونی ہے، اس لیے ان آلوؤں کو تلف کرنا ماحول کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا تھا کیونکہ سڑنے والی خوراک سے میتھین گیس خارج ہوتی ہے۔

اس مسئلے کے حل کے لیے ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم (NGO) اور ایک اخبار نے مل کر برلن کے مختلف حصوں میں ‘پوٹیٹو پک اپ اسٹیشنز’ قائم کیے۔ شہریوں کو دعوت دی گئی کہ وہ آئیں اور مفت آلو لے جائیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا تانتا بندھ گیا اور 800 ہاتھیوں کے وزن کے برابر آلوؤں کی یہ بڑی مقدار کامیابی سے عوام میں تقسیم ہو گئی۔ اس اقدام کو نہ صرف جرمنی بلکہ عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، کیونکہ اس نے ثابت کیا کہ مثبت سوچ اور بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے خوراک کے ضیاع جیسے بڑے عالمی مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔