یوٹیوب پر بچوں کیلئے اے آئی ویڈیوز بند کی جائیں: ماہرین کا گوگل سے مطالبہ
Web Desk
2 April 2026
کیلیفورنیا: گوگل کے سی ای او سندر پچائی اور یوٹیوب کے سی ای او نیل موہن کو لکھے گئے ایک مشترکہ خط میں ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو رہی ہیں۔ معروف سوشل سائیکولوجسٹ جوناتھن ہائیڈٹ اور ‘فیئر پلے’ جیسے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیوز تعلیمی معیار کے بجائے محض ‘مالی فائدے’ کے لیے بنائی جاتی ہیں، جو بچوں کے حقیقی دنیا کے تجربات کی جگہ لے رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق، چھوٹے بچے اتنے باشعور نہیں ہوتے کہ وہ یوٹیوب کی جانب سے لگائے گئے “مصنوعی مواد” کے لیبلز کو پڑھ سکیں یا سمجھ سکیں۔ اس کے نتیجے میں وہ حقیقت اور اے آئی کے تیار کردہ فریب میں تمیز کرنے کی صلاحیت کھو رہے ہیں، جس سے ان کی سماجی اور جذباتی مہارتیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
رپورٹ میں گوگل کی جانب سے اے آئی اینیمیشن سٹوڈیو Animaj میں سرمایہ کاری پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کا مواد بچوں کے اسکرین ٹائم کو “ایڈکشن” (لت) میں بدل رہا ہے، جس کے لیے حال ہی میں کئی عالمی عدالتوں نے گوگل اور میٹا کو ذمہ دار بھی قرار دیا ہے۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026