LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی صدر ٹرمپ نیٹو اجلاس میں شرکت کیلئے ترکیہ پہنچ گئے وفاقی حکومت نے نیشنل پاپولیشن کونسل تشکیل دے دی، وزیر اعظم چیئرمین اور آرمی چیف رکن مقرر پاکستان، کرغزستان کا تجارت، سرمایہ کاری اور سٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق شام میں فرانسیسی صدر کی قیام گاہ کے قریب دو دھماکے، 18 افراد زخمی وفاقی وزیرِ خزانہ کا بڑا اقدام؛ اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں ‘ایس ایم ای فنانس ٹاسک فورس’ قائم چین: 325 ملین ڈالرز رشوت لینے پر سرکاری عہدیدار کو سزائے موت کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، بی ایل اے کے 2 دہشت گرد گرفتار حکومت پیٹرول پر لیوی کا بھتہ وصول کر رہی ہے، قیمت 225 روپے ہونی چاہیے؛ حافظ نعیم الرحمن ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی آسان بنائی جائے؛ وزیرِ اعظم معیشت مضبوط استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جی ڈی پی 3.7 فیصد ریکارڈ؛ وزیرِ خزانہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان کے باعث ریکارڈ ٹوٹنے کا سلسلہ برقرار اقوام متحدہ کا ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید یو اے ای میں ‘ویزا آن ارائیول’ کی شرائط تبدیل، کیا اب آپ اہل ہیں؟ انسانی سمگلنگ کیخلاف 59 ممالک میں عالمی کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد ملزم گرفتار

یوٹیوب پر بچوں کیلئے اے آئی ویڈیوز بند کی جائیں: ماہرین کا گوگل سے مطالبہ

Web Desk

2 April 2026

کیلیفورنیا: گوگل کے سی ای او سندر پچائی اور یوٹیوب کے سی ای او نیل موہن کو لکھے گئے ایک مشترکہ خط میں ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو رہی ہیں۔ معروف سوشل سائیکولوجسٹ جوناتھن ہائیڈٹ اور ‘فیئر پلے’ جیسے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیوز تعلیمی معیار کے بجائے محض ‘مالی فائدے’ کے لیے بنائی جاتی ہیں، جو بچوں کے حقیقی دنیا کے تجربات کی جگہ لے رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق، چھوٹے بچے اتنے باشعور نہیں ہوتے کہ وہ یوٹیوب کی جانب سے لگائے گئے “مصنوعی مواد” کے لیبلز کو پڑھ سکیں یا سمجھ سکیں۔ اس کے نتیجے میں وہ حقیقت اور اے آئی کے تیار کردہ فریب میں تمیز کرنے کی صلاحیت کھو رہے ہیں، جس سے ان کی سماجی اور جذباتی مہارتیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

رپورٹ میں گوگل کی جانب سے اے آئی اینیمیشن سٹوڈیو Animaj میں سرمایہ کاری پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کا مواد بچوں کے اسکرین ٹائم کو “ایڈکشن” (لت) میں بدل رہا ہے، جس کے لیے حال ہی میں کئی عالمی عدالتوں نے گوگل اور میٹا کو ذمہ دار بھی قرار دیا ہے۔