LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس کے کیف میں فضائی حملے، 6 افراد ہلاک، 59 زخمی برطانوی ایئربیس سے بی ون بمبار طیارے احتیاطی طور پر واپس بلائے: جے ڈی وینس روس میں طاعون کے ممکنہ کیس کا بغور جائزہ لے رہے ہیں: امریکی صدر سائبیریا میں سائنسی تجربہ گاہ میں خاتون محقق کی ہلاکت، علاقے میں شدید خوف و ہراس روشنی سے دماغی خلیوں کو کنٹرول کرنے والی تحقیق پر 3 سائنس دانوں کو نوبیل انعام اسرائیل کی فائرنگ اور گولہ باری سے 2 بچوں سمیت 6 فلسطینی زخمی عراقی شہر کرکوک میں داعش کے حملے، ایک پولیس اہلکار ہلاک، 4 زخمی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت مسلسل ریکارڈ کم سطح پر برقرار نیوزی لینڈ کی حکمران نیشنل پارٹی کی عوامی حمایت کم ہو کر 25.9 فیصد رہ گئی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اسلام آباد پہنچ گئے ملک میں بجلی کا شارٹ فال 4 ہزار میگا واٹ سے تجاوز کرگیا، بدترین لوڈشیڈنگ کا خدشہ سعودی آرامکو نے ایشیا کے لیے خام تیل سستا کردیا، قیمتیں 6 سال کی کم ترین سطح پر آگئیں آبنائے ہرمز میں بحری ٹینکر نامعلوم پروجیکٹائل کی زد میں آگیا، جہاز میں آگ بھڑک اٹھی حوثیوں کا سعودی دارالحکومت ریاض کے ائیرپورٹ اور آرامکو ریفائنری کو نشانہ بنانے کا دعویٰ میرا ذاتی خیال ہے اماراتی طیارہ واقعے کا ذمہ دار ایران ہے: ٹرمپ

یوٹیوب پر بچوں کیلئے اے آئی ویڈیوز بند کی جائیں: ماہرین کا گوگل سے مطالبہ

Web Desk

2 April 2026

کیلیفورنیا: گوگل کے سی ای او سندر پچائی اور یوٹیوب کے سی ای او نیل موہن کو لکھے گئے ایک مشترکہ خط میں ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو رہی ہیں۔ معروف سوشل سائیکولوجسٹ جوناتھن ہائیڈٹ اور ‘فیئر پلے’ جیسے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیوز تعلیمی معیار کے بجائے محض ‘مالی فائدے’ کے لیے بنائی جاتی ہیں، جو بچوں کے حقیقی دنیا کے تجربات کی جگہ لے رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق، چھوٹے بچے اتنے باشعور نہیں ہوتے کہ وہ یوٹیوب کی جانب سے لگائے گئے “مصنوعی مواد” کے لیبلز کو پڑھ سکیں یا سمجھ سکیں۔ اس کے نتیجے میں وہ حقیقت اور اے آئی کے تیار کردہ فریب میں تمیز کرنے کی صلاحیت کھو رہے ہیں، جس سے ان کی سماجی اور جذباتی مہارتیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

رپورٹ میں گوگل کی جانب سے اے آئی اینیمیشن سٹوڈیو Animaj میں سرمایہ کاری پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کا مواد بچوں کے اسکرین ٹائم کو “ایڈکشن” (لت) میں بدل رہا ہے، جس کے لیے حال ہی میں کئی عالمی عدالتوں نے گوگل اور میٹا کو ذمہ دار بھی قرار دیا ہے۔