LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا زبردست تیزی پر اختتام سوئی گیس کا عید الاضحیٰ کے لیے نیا شیڈول جاری، صارفین کو سہولت دینے کا اعلان پاکستان میں گردشی قرض، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان

یوٹیوب پر بچوں کیلئے اے آئی ویڈیوز بند کی جائیں: ماہرین کا گوگل سے مطالبہ

Web Desk

2 April 2026

کیلیفورنیا: گوگل کے سی ای او سندر پچائی اور یوٹیوب کے سی ای او نیل موہن کو لکھے گئے ایک مشترکہ خط میں ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو رہی ہیں۔ معروف سوشل سائیکولوجسٹ جوناتھن ہائیڈٹ اور ‘فیئر پلے’ جیسے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیوز تعلیمی معیار کے بجائے محض ‘مالی فائدے’ کے لیے بنائی جاتی ہیں، جو بچوں کے حقیقی دنیا کے تجربات کی جگہ لے رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق، چھوٹے بچے اتنے باشعور نہیں ہوتے کہ وہ یوٹیوب کی جانب سے لگائے گئے “مصنوعی مواد” کے لیبلز کو پڑھ سکیں یا سمجھ سکیں۔ اس کے نتیجے میں وہ حقیقت اور اے آئی کے تیار کردہ فریب میں تمیز کرنے کی صلاحیت کھو رہے ہیں، جس سے ان کی سماجی اور جذباتی مہارتیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

رپورٹ میں گوگل کی جانب سے اے آئی اینیمیشن سٹوڈیو Animaj میں سرمایہ کاری پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کا مواد بچوں کے اسکرین ٹائم کو “ایڈکشن” (لت) میں بدل رہا ہے، جس کے لیے حال ہی میں کئی عالمی عدالتوں نے گوگل اور میٹا کو ذمہ دار بھی قرار دیا ہے۔