LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی کا لانگ مارچ، مرکزی قیادت نے تاریخ کے تعین کا اختیار حافظ نعیم کو دے دیا نیتن یاہو کی ٹرمپ کو ایران کیخلاف ناکہ بندی اور معاشی دباؤ پر مبارکباد نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام مولانا سے ملاقات میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن پر اتفاق ہوا: بیرسٹر گوہر موخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئے پوزیشن کا اہم اجلاس: 27 ستمبر احتجاج کی تیاریوں کی ہدایت، ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ محسن نقوی سے رابطہ رہتا ہے، تفصیلات نہیں بتائیں گے، بیرسٹر گوہر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، حکومت اور حزب اختلاف میں مشاورت کا آغاز

وہ معمر شخص جس نے آئی سی یو میں زیر علاج بیوی کیلئے 105 دنوں تک روزانہ 12 گھنٹے سفر کیا

Web Desk

25 March 2026

زوشان/ننگبو: چین کے صوبے ژجیانگ (Zhejiang) سے تعلق رکھنے والے 82 سالہ چِن اکونگ نے اپنی اہلیہ شوئی کے لیے ایسی محبت کی مثال قائم کی ہے جس نے انٹرنیٹ صارفین کی آنکھیں نم کر دی ہیں۔ چِن اکونگ گزشتہ 105 دنوں سے روزانہ 12 گھنٹے کا طویل سفر طے کر کے اسپتال پہنچتے رہے تاکہ آئی سی یو میں زیرِ علاج اپنی اہلیہ کے ساتھ صرف 30 منٹ گزار سکیں۔

چِن اور شوئی کی شادی کو 50 سال سے زائد عرصہ ہو چکا تھا۔ ایک سال قبل شوئی کو فالج اور پھر نمونیا نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے باعث انہیں ننگبو (Ningbo) کے ایک اسپتال منتقل کرنا پڑا۔ اپنے بیٹے کی ملازمت کی مصروفیات کے باعث، چِن اکونگ نے خود اہلیہ کی نگہداشت کا بیڑہ اٹھایا۔ وہ روزانہ صبح ساڑھے 4 بجے بیدار ہو کر کھانا تیار کرتے اور دو بسیں بدل کر اسپتال پہنچتے، جہاں ملاقات کا وقت صرف صبح 10:30 سے 11 بجے تک تھا۔

اس آدھے گھنٹے کے دوران وہ اپنی اہلیہ کا ہاتھ تھام کر پرانی یادیں تازہ کرتے اور ان کا خیال رکھتے۔ چِن نے اہلیہ کے علاج کے لیے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی (ایک لاکھ یوآن سے زائد) خرچ کر دی، یہاں تک کہ ان کے بیٹے نے بھی اپنی ماں کی زندگی بچانے کے لیے اپنا گھر فروخت کر دیا۔ ان کی اس لگن کو دیکھ کر بس ڈرائیورز نے ان سے کرایہ لینا بند کر دیا اور نیک دل شہریوں نے لاکھوں یوآن کے عطیات بھی دیئے۔

انتہائی دکھ کی بات یہ ہے کہ 13 مارچ کو شوئی کا انتقال ہو گیا، لیکن ان کے آخری لمحات میں بھی چِن اکونگ ان کا ہاتھ تھامے الوداع کہنے کے لیے وہاں موجود تھے۔ غم زدہ چِن کا کہنا تھا کہ “میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ہے، وہ دنیا کی سب سے اچھی بیوی تھی، اب میں اس کی قبر پر جا کر وقت گزارا کروں گا۔”