LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر انتخابات: ملتان میں دوسرے مرحلے کی پولنگ کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل، کانٹے دار مقابلے کا امکان شمالی وزیرستان: سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 5 دہشت گرد ہلاک، میجر شہید ہر گھرغریب، معیشت بدترین بحران کا شکار ہے: شاہد خاقان عباسی حکومت پر برس پڑے عرفان صادق تارڑ پراسکیوٹر جنرل پنجاب تعینات افواجِ پاکستان اور پیپلز لبریشن آرمی حقیقی شراکت دار، امن و استحکام کیلئے پرعزم ہیں: فیلڈ مارشل امن منصوبے پر مثبت پیش رفت: 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے: دفتر خارجہ سندھ میں نئے صوبے کی ضرورت نہیں، یہ پنجاب کی عوام کا مطالبہ ہے، سعید غنی خطے کے ممالک امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کریں: ایرانی فوج پنجاب میں ماتحت عدلیہ کے ججز پر مونیٹائزیشن پالیسی نافذ آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: 21 نشستوں پر پولنگ کل، 12 لاکھ سے زائد ووٹرز شامل پیٹرول پر لیوی بھتہ ٹیکس، فارم 45 کی بنیاد پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے,حافظ نعیم الرحمٰن امریکا اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ میں ایران کامیاب رہا: باقر قالیباف وزیراعلیٰ پنجاب کی امریکی اعلیٰ سطحی کاروباری وفد کو سرمایہ کاری کی دعوت کشمیر کی حکومت و مستقبل کے فیصلے کشمیری عوام خود کریں: بلاول بھٹو زرداری سورینج کان حادثہ: 45 گھنٹے بعد ریسکیو آپریشن مکمل، 34 لاشیں نکال لی گئیں

گرم گرم چائے اور کافی پینے سے کینسر کا خطرہ، طبی تحقیق میں ہوشربا انکشاف

Web Desk

1 January 2026

گرم مشروبات عموماً ذہنی سکون کا باعث سمجھے جاتے ہیں، تاہم اگر انہیں حد سے زیادہ گرم حالت میں پیا جائے تو یہ صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر افراد چائے یا کافی اس وقت نوش کرتے ہیں جب اس میں سے تیز دھواں نکل رہا ہوتا ہے، لیکن یہ عادت گلے اور غذا کی نالی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

برطانیہ کے بائیو بینک میں کیے گئے ایک ریویو شدہ سائنسی مطالعے کے مطابق، جو افراد مسلسل بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پیتے ہیں، ان میں وقت کے ساتھ گلے کے سرطان (Esophageal Cancer) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خطرے کی بنیادی وجہ مشروب کی زیادہ حرارت ہے، نہ کہ کوئی کیمیائی عنصر۔

ماہرین کے مطابق غذا کی نالی معدے کی طرح مضبوط حفاظتی تہہ نہیں رکھتی بلکہ یہ نرم اور حساس ہوتی ہے۔ بار بار انتہائی گرم مشروبات پینے سے گلے کی اندرونی تہہ میں جلن پیدا ہوتی ہے، جو وقتی طور پر ٹھیک ہو جاتی ہے، مگر مسلسل یہ عمل خلیوں کے رویے میں تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے اور سرطان کے امکانات بڑھا دیتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ وہ ممالک جہاں چائے یا دیگر مشروبات ابال کر یا دھواں نکلتے ہوئے پینے کا رواج عام ہے، وہاں گلے کے سرطان کی شرح نسبتاً زیادہ پائی جاتی ہے۔ یو کے میں ہونے والے مطالعے کے نتائج بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے گھونٹ زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں کیونکہ گرم مشروب زیادہ دیر تک گلے کے اندر رہتا ہے۔ تحقیق کے مطابق روزانہ آٹھ یا اس سے زیادہ انتہائی گرم مشروبات پینے سے گلے کے سرطان کا خطرہ کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین صحت نے مشورہ دیا ہے کہ چائے یا کافی کو کچھ دیر ٹھنڈا ہونے دیا جائے اور نیم گرم حالت میں پیا جائے تاکہ اس ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔