LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی کا لانگ مارچ، مرکزی قیادت نے تاریخ کے تعین کا اختیار حافظ نعیم کو دے دیا نیتن یاہو کی ٹرمپ کو ایران کیخلاف ناکہ بندی اور معاشی دباؤ پر مبارکباد نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام مولانا سے ملاقات میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن پر اتفاق ہوا: بیرسٹر گوہر موخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئے پوزیشن کا اہم اجلاس: 27 ستمبر احتجاج کی تیاریوں کی ہدایت، ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ محسن نقوی سے رابطہ رہتا ہے، تفصیلات نہیں بتائیں گے، بیرسٹر گوہر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، حکومت اور حزب اختلاف میں مشاورت کا آغاز

گرم گرم چائے اور کافی پینے سے کینسر کا خطرہ، طبی تحقیق میں ہوشربا انکشاف

Web Desk

1 January 2026

گرم مشروبات عموماً ذہنی سکون کا باعث سمجھے جاتے ہیں، تاہم اگر انہیں حد سے زیادہ گرم حالت میں پیا جائے تو یہ صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر افراد چائے یا کافی اس وقت نوش کرتے ہیں جب اس میں سے تیز دھواں نکل رہا ہوتا ہے، لیکن یہ عادت گلے اور غذا کی نالی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

برطانیہ کے بائیو بینک میں کیے گئے ایک ریویو شدہ سائنسی مطالعے کے مطابق، جو افراد مسلسل بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پیتے ہیں، ان میں وقت کے ساتھ گلے کے سرطان (Esophageal Cancer) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خطرے کی بنیادی وجہ مشروب کی زیادہ حرارت ہے، نہ کہ کوئی کیمیائی عنصر۔

ماہرین کے مطابق غذا کی نالی معدے کی طرح مضبوط حفاظتی تہہ نہیں رکھتی بلکہ یہ نرم اور حساس ہوتی ہے۔ بار بار انتہائی گرم مشروبات پینے سے گلے کی اندرونی تہہ میں جلن پیدا ہوتی ہے، جو وقتی طور پر ٹھیک ہو جاتی ہے، مگر مسلسل یہ عمل خلیوں کے رویے میں تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے اور سرطان کے امکانات بڑھا دیتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ وہ ممالک جہاں چائے یا دیگر مشروبات ابال کر یا دھواں نکلتے ہوئے پینے کا رواج عام ہے، وہاں گلے کے سرطان کی شرح نسبتاً زیادہ پائی جاتی ہے۔ یو کے میں ہونے والے مطالعے کے نتائج بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے گھونٹ زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں کیونکہ گرم مشروب زیادہ دیر تک گلے کے اندر رہتا ہے۔ تحقیق کے مطابق روزانہ آٹھ یا اس سے زیادہ انتہائی گرم مشروبات پینے سے گلے کے سرطان کا خطرہ کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین صحت نے مشورہ دیا ہے کہ چائے یا کافی کو کچھ دیر ٹھنڈا ہونے دیا جائے اور نیم گرم حالت میں پیا جائے تاکہ اس ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔