LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمان سے مذاکرات: ایران نے موجودہ جنوبی بحری راستہ ناقابل قبول قرار دیدیا یونان میں جنگلاتی آگ بجھاتے 2 ہیلی کاپٹر ٹکرا گئے، عملے کے 2 افراد ہلاک راولپنڈی سے اڑھائی سالہ بچہ اغوا کر لیا گیا ملک کے سیاسی و معاشی بحرانوں کا حل صرف شفاف انتخابات ہیں: اسد قیصر آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: ن لیگ 10 اور پی پی 2 نشست پر کامیاب سوات میں دہشتگردی ناقابل برداشت، حکومت شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے: حافظ نعیم الرحمان پیپلزپارٹی جمہوری رویہ اپنائے، دھاندلی کا شور بے بنیاد ہے: احسن اقبال سینٹکام کا ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی میں 35 جہازوں کا رخ موڑنے کا دعویٰ ایران، پاکستان تعلقات دماوند اور کے ٹو کی چوٹیوں جتنے بلند ہیں: ایرانی سفیر اوپیک پلس نے ستمبر میں تیل کی پیداوار بڑھانے کی منظوری دے دی سوات: کبل تھانے کے قریب خودکش دھماکہ، 5 اہلکاروں سمیت 14 افراد جاں بحق، 23 زخمی پشاور میں مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر نے ہماری کسی ایک شکایت کا بھی جواب نہیں دیا: راجہ پرویز اشرف ہم آزادکشمیر میں جیت رہے تو کہا جا رہا دھاندلی ہوگئی: مریم اورنگزیب آزاد کشمیر انتخابات: نیئر بخاری کے ن لیگ پر دھاندلی کے الزامات، نتائج مسترد

سبزیوں سے بھرپور غذا پروسٹیٹ کینسر سے بچاؤ میں مدد دے سکتی ہے: تحقیق

Web Desk

8 January 2026

ایک نئی سائنسی تحقیق میں محققین نے پیٹ اور پروسٹیٹ کے درمیان تعلق کا جائزہ لیتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا فائٹوکیمیکل سے بھرپور غذائیں، جیسے پتوں والی سبزیاں اور بیریز، اور لیکٹوبیکائلس پروبائیوٹکس (پیٹ کے مفید بیکٹیریا) کی مقدار میں اضافہ پروسٹیٹ کینسر پر اثر انداز ہو سکتا ہے یا نہیں۔

مطالعے کے نتائج کے مطابق 90 فیصد سے زائد ایسے مرد جنہوں نے مخصوص سپلیمنٹس کا استعمال کیا—جن میں بروکلی، ہلدی، انار، سبز چائے، ادرک، کرین بیری اور خاص طور پر تیار کردہ پروبائیوٹک شامل تھے—ان میں بیماری یا تو کم ہو گئی یا اس کی بڑھوتری رک گئی۔

تحقیق کے مرکزی مصنف پروفیسر رابرٹ تھامس نے بتایا کہ یہ پہلی بار ثابت ہوا ہے کہ پیٹ میں موجود بیکٹیریا کا متوازن نظام پروسٹیٹ کینسر کے بڑھنے کی رفتار کو سست کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں پروسٹیٹ کینسر کے علاج اور روک تھام کے لیے غذائی حکمتِ عملیوں کی بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔