LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی تیاری، بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج کی نگرانی میں طبی معائنہ مکمل حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا امریکا کا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کیلئے خفیہ شپنگ کوریڈور قائم کرنے کا دعویٰ حوثیوں کے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے اسحاق ڈار سے برازیلی وزیر خارجہ کا رابطہ، عالمی امن پر تبادلہ خیال فضل الرحمان کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات، متحدہ اپوزیشن کے قیام کا اعلان شہباز شریف نے پنشنرز کیلئے ’پروف آف لائف‘ کے جدید نظام کا افتتاح کر دیا پیپلزپارٹی کے وفد کی سپیکر سردار ایاز صادق سے ملاقات, قانون سازی پر تبادلہ خیال وزیراعظم سے شامی وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم اور ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 منظور پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن

آنکھوں کے معمولی مرض سے پیدا ہونیوالی خطرناک بیماری

Web Desk

30 December 2025

گلوکوما، جسے عام طور پر کالا موتیا کہا جاتا ہے، کو ایک خاموش بیماری سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے ابتدائی مراحل میں کوئی واضح علامات سامنے نہیں آتیں۔ تاہم وقت کے ساتھ یہ آنکھ کے بصری عصب (Optic Nerve) کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جو نظر کی معلومات دماغ تک پہنچاتا ہے، اور اگر علاج نہ ہو تو بینائی کے مستقل ضیاع کا سبب بن سکتا ہے۔

عام طور پر گلوکوما آنکھ کے اندر دباؤ بڑھنے سے ہوتا ہے، مگر اس کی ایک نایاب قسم نارمل ٹینشن گلوکوما بھی ہے، جس میں دباؤ معمول پر رہنے کے باوجود بصری عصب متاثر ہوتا رہتا ہے۔

دوسری جانب الزائمر ایک سنگین دماغی بیماری ہے جو یادداشت میں کمی، ذہنی الجھن اور رویّوں میں تبدیلی کا باعث بنتی ہے، اور وقت کے ساتھ مریض روزمرہ کے کام انجام دینے کی صلاحیت بھی کھو بیٹھتا ہے۔

تائیوان کے محققین نے گلوکوما اور الزائمر کے ممکنہ تعلق کا جائزہ لینے کے لیے ایک طویل المدتی تحقیق کی۔ اس تحقیق میں 15 ہزار سے زائد نارمل ٹینشن گلوکوما کے مریضوں کے ڈیٹا کا موازنہ 61 ہزار ایسے افراد سے کیا گیا جنہیں گلوکوما لاحق نہیں تھا۔ تمام شرکاء کی صحت کو 12 سال تک مانیٹر کیا گیا۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق:

  • نارمل ٹینشن گلوکوما کے مریضوں میں الزائمر کا خطرہ 52 فیصد زیادہ پایا گیا

  • یہ خطرہ بزرگ خواتین اور فالج کے شکار افراد میں نسبتاً زیادہ تھا

ماہرین کا کہنا ہے کہ نارمل ٹینشن گلوکوما کے مریضوں میں صرف بینائی ہی نہیں بلکہ ذہنی صحت پر بھی خاص توجہ دینا ضروری ہے۔ الزائمر کی ابتدائی علامات کی بروقت شناخت سے بہتر علاج، مؤثر نگہداشت اور مریض کے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

یہ تحقیق اس بات کی اہم یاددہانی ہے کہ آنکھوں کی صحت اور دماغی صحت ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہو سکتی ہیں۔