LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر کی ترقیاتی ترجیحات کا جائزہ، اسحاق ڈار کی عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت ایران نے 27 ایئرلائنز پر امریکی پابندیوں کو معاشی دہشت گردی قرار دے دیا سہیل آفریدی، مینا خان سمیت 4 ملزموں کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی آنکھوں کے امراض کی بروقت تشخیص سے بینائی کے نقصان سے بچا جا سکتا ہے: گورنر سندھ لوڈشیڈنگ کیس: لاہور ہائیکورٹ نے 15 ستمبر کو جواب طلب کرلیا پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست: اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ میں اہم سماعت وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں نئی آٹو پالیسی اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی مراعات کی منظوری حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹس پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ میر رضا کیس: وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجھار جوڈیشل کمیشن میں پیش سیف گیمز کے کامیاب انعقاد کیلئے اسپورٹس انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کا بڑا فیصلہ پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین کرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر حل طلب مسئلہ، بھارت حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا: دفتر خارجہ حوثی باغیوں کا سعودیہ کے 3 شہروں پر حملہ، یمنی وزیر دفاع کو یرغمال بنا لیا اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ پر پابندی اور توہینِ عدالت کیس کی سماعت، پارٹی سے موقف طلب

بچپن کی ایک پرانی تصویر سے 33 سال بعد گمشدہ بھائی کو تلاش کرنیوالی خاتون

Web Desk

4 April 2026

وسطی چین سے تعلق رکھنے والی ایک ہمت والی خاتون نے اپنی زندگی کے 33 برس جدوجہد اور تلاش میں گزارنے کے بعد بالآخر بچپن کی ایک تصویر کے ذریعے اپنے گمشدہ چھوٹے بھائی کو تلاش کر لیا۔

بکھرتا ہوا خاندان اور المناک جدائی: صوبہ ہوبی (Hubei) کے علاقے شنتاؤ (Xiantao) سے تعلق رکھنے والی 44 سالہ لی لین کی زندگی بچپن میں ہی بکھر گئی تھی۔ والدہ کا کینسر سے انتقال اور والد کے ذہنی توازن کھو کر لاپتہ ہو جانے کے بعد 11 سالہ لی لین اور ان کا 7 سالہ بھائی لی شین کباڑ خانے میں رہنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ ایک بارشی دن، ٹرک کے پچھلے حصے میں سوئے ہوئے یہ دونوں بہن بھائی ایک دوسرے شہر جا پہنچے، جہاں بھوک اور بے بسی کے دوران ایک معمر خاتون نے لی شین کو کھانے کا لالچ دے کر اپنی بہن سے جدا کر دیا۔

ظلم، پچھتاوا اور طویل تلاش: لی لین نے بتایا کہ وہ پوری زندگی اس پچھتاوے کے ساتھ جیتی رہیں کہ ان کا بھائی ان سے چھین لیا گیا۔ دوسری جانب، لی شین کو اغوا کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ایک تاریک کمرے میں بند رکھا گیا، تاہم وہ وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا اور بھیک مانگ کر گزارا کرنے کے بعد جنوبی چین کے صوبے گوانگ ڈونگ پہنچا، جہاں ایک خاندان نے اسے گود لے لیا۔

لی لین نے بھائی کی تلاش میں اینٹیں لگائیں، برتن دھوئے اور کارخانوں میں کام کیا، جبکہ تلاش پر تقریباً 10 لاکھ یوآن خرچ کیے۔ ان کے پاس بھائی کی ایک پرانی تصویر کے علاوہ کچھ نہ تھا، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔

ٹیکنالوجی نے کرشمہ کر دکھایا: رواں سال اس کہانی میں اس وقت اہم موڑ آیا جب صوبہ جیانگشی کے ایک پولیس اہلکار نے چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی (Facial Recognition) کا استعمال کرتے ہوئے گوانگ ڈونگ میں مقیم ‘ہان’ نامی شخص کی شناخت لی شین کے طور پر کی۔ ڈی این اے ٹیسٹ نے بھی اس حقیقت کی تصدیق کر دی۔

جذباتی ملاپ: گزشتہ 23 مارچ کو جیانگشی کے پولیس اسٹیشن میں دونوں بہن بھائی 33 سال بعد ایک دوسرے کے گلے لگ کر زار و قطار رو پڑے۔ اگلے دن لی لین اپنے بھائی کو آبائی قصبے واپس لے گئیں جہاں اہل علاقہ نے آتشبازی اور کیک کے ساتھ ان کا شاندار استقبال کیا۔ لی شین کا کہنا تھا کہ “میں ہمیشہ سے جانتا تھا کہ میری ایک بڑی بہن ہے اور میں نے اسے ڈھونڈنے کی امید کبھی نہیں چھوڑی تھی۔”