LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ترکیہ سے پابندیاں ہٹانے جارہے ہیں، ہم دوستوں پر پابندیاں نہیں لگاتے: ڈونلڈ ٹرمپ ایشیا کپ 2027ء کیلئے ڈھاکا سمیت وینیوز زیر غور ہیں، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو طیارہ لاپتا ہوگیا جس کی تلاش شروع کر دی گئی۔ بلاول بھٹو کی گلگت بلتستان کی نومنتخب حکومت کو 100 روزہ ترقیاتی پلان تیار کرنے کی ہدایت وفاقی وزیر احسن اقبال کا یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو کا دورہ، جناح میڈیکل کمپلیکس اور پی کے ایل آئی کے ساتھ طبی و تحقیقی تعاون پر تبادلہ خیال سندھ میں پاکستان رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع، صوبائی کابینہ نے منظوری دے دی خاتون کی جان بچاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے گروپ کیپٹن عاصم طارق کی نمازِ جنازہ ادا، فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا وقت ختم، بیرسٹر گوہر سمیت کوئی بھی رہنما نہ مل سکا قیدِ تنہائی کے الزامات سنگین، نظر انداز نہیں کر سکتے، اسلام آباد ہائیکورٹ کا بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر تحریری حکم نامہ جاری امریکی صدر ٹرمپ نیٹو اجلاس میں شرکت کیلئے ترکیہ پہنچ گئے وفاقی حکومت نے نیشنل پاپولیشن کونسل تشکیل دے دی، وزیر اعظم چیئرمین اور آرمی چیف رکن مقرر پاکستان، کرغزستان کا تجارت، سرمایہ کاری اور سٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق شام میں فرانسیسی صدر کی قیام گاہ کے قریب دو دھماکے، 18 افراد زخمی وفاقی وزیرِ خزانہ کا بڑا اقدام؛ اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں ‘ایس ایم ای فنانس ٹاسک فورس’ قائم چین: 325 ملین ڈالرز رشوت لینے پر سرکاری عہدیدار کو سزائے موت

بچپن کی ایک پرانی تصویر سے 33 سال بعد گمشدہ بھائی کو تلاش کرنیوالی خاتون

Web Desk

4 April 2026

وسطی چین سے تعلق رکھنے والی ایک ہمت والی خاتون نے اپنی زندگی کے 33 برس جدوجہد اور تلاش میں گزارنے کے بعد بالآخر بچپن کی ایک تصویر کے ذریعے اپنے گمشدہ چھوٹے بھائی کو تلاش کر لیا۔

بکھرتا ہوا خاندان اور المناک جدائی: صوبہ ہوبی (Hubei) کے علاقے شنتاؤ (Xiantao) سے تعلق رکھنے والی 44 سالہ لی لین کی زندگی بچپن میں ہی بکھر گئی تھی۔ والدہ کا کینسر سے انتقال اور والد کے ذہنی توازن کھو کر لاپتہ ہو جانے کے بعد 11 سالہ لی لین اور ان کا 7 سالہ بھائی لی شین کباڑ خانے میں رہنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ ایک بارشی دن، ٹرک کے پچھلے حصے میں سوئے ہوئے یہ دونوں بہن بھائی ایک دوسرے شہر جا پہنچے، جہاں بھوک اور بے بسی کے دوران ایک معمر خاتون نے لی شین کو کھانے کا لالچ دے کر اپنی بہن سے جدا کر دیا۔

ظلم، پچھتاوا اور طویل تلاش: لی لین نے بتایا کہ وہ پوری زندگی اس پچھتاوے کے ساتھ جیتی رہیں کہ ان کا بھائی ان سے چھین لیا گیا۔ دوسری جانب، لی شین کو اغوا کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ایک تاریک کمرے میں بند رکھا گیا، تاہم وہ وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا اور بھیک مانگ کر گزارا کرنے کے بعد جنوبی چین کے صوبے گوانگ ڈونگ پہنچا، جہاں ایک خاندان نے اسے گود لے لیا۔

لی لین نے بھائی کی تلاش میں اینٹیں لگائیں، برتن دھوئے اور کارخانوں میں کام کیا، جبکہ تلاش پر تقریباً 10 لاکھ یوآن خرچ کیے۔ ان کے پاس بھائی کی ایک پرانی تصویر کے علاوہ کچھ نہ تھا، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔

ٹیکنالوجی نے کرشمہ کر دکھایا: رواں سال اس کہانی میں اس وقت اہم موڑ آیا جب صوبہ جیانگشی کے ایک پولیس اہلکار نے چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی (Facial Recognition) کا استعمال کرتے ہوئے گوانگ ڈونگ میں مقیم ‘ہان’ نامی شخص کی شناخت لی شین کے طور پر کی۔ ڈی این اے ٹیسٹ نے بھی اس حقیقت کی تصدیق کر دی۔

جذباتی ملاپ: گزشتہ 23 مارچ کو جیانگشی کے پولیس اسٹیشن میں دونوں بہن بھائی 33 سال بعد ایک دوسرے کے گلے لگ کر زار و قطار رو پڑے۔ اگلے دن لی لین اپنے بھائی کو آبائی قصبے واپس لے گئیں جہاں اہل علاقہ نے آتشبازی اور کیک کے ساتھ ان کا شاندار استقبال کیا۔ لی شین کا کہنا تھا کہ “میں ہمیشہ سے جانتا تھا کہ میری ایک بڑی بہن ہے اور میں نے اسے ڈھونڈنے کی امید کبھی نہیں چھوڑی تھی۔”