LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کی نجکاری اہداف مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت: PIA کی فنانشل کلوزنگ مکمل آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کا الزام، وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہونے کا دعویٰ,شرجیل میمن بانی پی ٹی آئی سے کل جیل میں وکلا کی ملاقات کا دن، 6 نام جیل حکام کو ارسال پاک ایران تجارتی تعاون میں اہم پیشرفت، اعلیٰ سطح کا ایرانی وفد آج اسلام آباد پہنچے گا پٹرول پمپس پر کارڈ ادائیگی، سٹیٹ بینک نے بڑی رعایت دے دی شکست خوردہ جماعتیں نتائج تسلیم کرنے کے بجائے انتشار کی سیاست کر رہی ہیں:عظمیٰ بخاری گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کا 8 اگست سے غیر معینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان سرکاری حج اسکیم 2027 کی درخواستوں کی وصولی رواں ہفتے شروع ہونے کا امکان پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول پر، 5 اگست تک بارش کی پیشگوئی ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی تردید کر دی وزیراعظم کی آزاد کشمیر الیکشن میں برتری پر نوازشریف، کامیاب امیدواروں کو مبارکباد خلیجی ممالک ٹرمپ کی ایران پالیسی سے سخت پریشان اور مایوس ہیں: امریکی اخبار آزاد کشمیر الیکشن کا دوسرا مرحلہ بھی ن لیگ کے نام، 14 سیٹیں جیت لیں، پیپلزپارٹی 5 پر کامیاب تربیلا ڈیم کے سپل ویز کھول دیے گئے: دریائے سندھ میں 245,000 کیوسِک تک بہاؤ کا امکان، نان و نفقے کا تعین والد کی مالی استطاعت کے مطابق ہوگا: سپریم کورٹ

پیدائش کے فوری بعد بچھڑ جانے والی بچی 28 سال بعد والدین سے ملنے میں کامیاب

Web Desk

22 March 2026

نان چانگ، چین: انسانی جذبوں اور تقدیر کے کھیل کی ایک حیران کن مثال چین کے صوبہ جانگشی میں سامنے آئی ہے، جہاں 28 سالہ ہونگ یانگ لی تقریباً تین دہائیوں بعد اپنے ان والدین سے ملنے میں کامیاب ہو گئی ہیں جن سے انہیں پیدائش کے فوراً بعد جدا کر دیا گیا تھا۔

ہونگ یانگ لی کی پیدائش 1996 میں ہوئی تھی، لیکن ان کے دادا، جو پوتے کے خواہش مند تھے، نوزائیدہ بچی کو والدین سے یہ کہہ کر لے گئے کہ وہ اس کا خیال رکھیں گے، مگر خاموشی سے اسے دوسرے گاؤں کے ایک ٹوائلٹ میں چھوڑ آئے۔ بچی کی والدہ یانگ شیاؤننگ اس وقت شدید علیل تھیں اور والد ملازمت کے سلسلے میں شہر سے باہر تھے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دادا نے یہ قدم اٹھایا اور مرتے دم تک اس راز کو سینے سے لگائے رکھا۔

خوش قسمتی سے ایک راہگیر نے ٹوائلٹ سے بچی کو برآمد کیا اور بعد ازاں ایک ڈچ (Dutch) خاندان نے اسے گود لے کر نیدرلینڈز منتقل کر دیا۔ نیدرلینڈز میں پرورش پانے والی ہونگ یانگ لی نے ہمیشہ اپنے اصل خاندان کی تلاش جاری رکھی اور دسمبر 2024 میں چین کے ‘گمشدہ بچوں کے ڈیٹا بیس’ میں اپنا ڈی این اے (DNA) نمونہ جمع کرایا۔

پولیس کی مدد سے والدین کی شناخت ہونے کے بعد، 14 مارچ کو ہونگ یانگ لی اپنے آبائی علاقے پہنچی جہاں آتش بازی اور پھولوں کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا۔ اگرچہ وہ چینی زبان نہیں بول سکتی تھیں، لیکن مترجم کے ذریعے والدین کی باتیں سن کر وہ اپنے آنسو نہ روک سکیں۔ اب ان کے حقیقی والدین نیدرلینڈز جا کر اس جوڑے کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے ان کی بیٹی کی پرورش کی، جبکہ والد کا کہنا ہے کہ وہ بیٹی کے ہر فیصلے کا احترام کریں گے کہ وہ کہاں رہنا چاہتی ہے۔