امتحانات میں نقل کرنے کے لئے سمارٹ چشمے کرائے پر دستیاب
Web Desk
2 April 2026
بیجنگ: چین میں تعلیمی نظام کو ایک جدید اور پیچیدہ چیلنج کا سامنا ہے جہاں طلبہ امتحانات میں نقل کے لیے مصنوعی ذہانت سے لیس ‘اسمارٹ گلاسز’ کا سہارا لے رہے ہیں۔ فیوچریزیم (Futurism) کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ جدید عینکیں چینی سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ پلیس ’شیان یو‘ پر محض 40 سے 80 یوآن (تقریباً 1,500 سے 3,000 پاکستانی روپے) روزانہ کے عوض کرایے پر دستیاب ہیں۔
یہ اسمارٹ گلاسز دیکھنے میں بالکل عام نظر آنے والی عینکوں جیسے ہوتے ہیں، لیکن ان کے فریم میں انتہائی باریک خفیہ کیمرے، آڈیو سسٹم اور اے آئی ماڈلز نصب ہوتے ہیں۔ طلبہ ان کے ذریعے امتحانی پرچے کو اسکین کرتے ہیں، جس کے بعد سسٹم فوری طور پر ریاضی کے پیچیدہ فارمولے حل کر دیتا ہے یا انگریزی پیراگراف کا ترجمہ کر کے عینک کے اندر لگی چھوٹی ہائی ٹیک اسکرین پر دکھا دیتا ہے۔ شینزین کے ایک تاجر نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے صرف چار ماہ میں ایک ہزار سے زائد طلبہ کو یہ آلات فراہم کیے۔
حیرت انگیز طور پر، جہاں ایک طرف ان کا غلط استعمال ہو رہا ہے، وہیں چینی حکومت اپنی قومی سبسڈی اسکیم کے ذریعے ژیومی اور علی بابا جیسے مقامی برانڈز کے اسمارٹ گلاسز کو فروغ دے رہی ہے۔ ماہرینِ تعلیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر امتحانی طریقہ کار میں فوری تبدیلی نہ لائی گئی تو ٹیکنالوجی کی یہ ‘جاسوسی’ محنت اور قابلیت کی جگہ لے لے گی۔
متعلقہ عنوانات
مغربی تھائی لینڈ میں 2000 سال پرانی سونے کی انگوٹھیاں دریافت
7 July 2026
اٹلی: طالب علموں نے دنیا کا سب سے بڑا کاغذی جہاز تیار کرلیا
6 July 2026
دنیا کے سب سے چھوٹے قد کے جوڑے کا منفرد گھر مرکزِ توجہ
6 July 2026
اٹلی: طالب علموں نے دنیا کا سب سے بڑا کاغذی جہاز تیار کرلیا
6 July 2026
ڈزنی لینڈ: 70 سال میں ایک ارب مہمانوں کا تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا
6 July 2026
زرافے بھی بنیادی ریاضی سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تحقین میں انکشاف
4 July 2026
کاکروچ کے لیے ڈائیونگ سُوٹ تیار
4 July 2026
چوری کی انوکھی واردات، 13 کلومیٹر طویل ہائی ٹینشن بجلی کی تاریں غائب
4 July 2026