LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عائشہ وہاب امریکی کانگریس کی پہلی افغان نژاد خاتون رکن منتخب روس کے یوکرین میں مزید فضائی حملے، 17 افراد ہلاک، 40 زخمی دشمن کی دھمکیوں، حملوں کے باعث اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا دیا: ایران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن 9 ماہ بعد مشرق وسطیٰ سے روانہ عراق کا آبنائے ہرمز سے تیل برآمد کرنے کیلئے ایران سے خصوصی رعایت کا مطالبہ شام میں کرد انتظامیہ کو ریاستی اداروں میں ضم کرنے کا عمل مکمل فرانس، جرمنی، برطانیہ اور اٹلی کی اسرائیلی آبادکاری منصوبے کی شدید مذمت نائیجیریا کے علاقے سوکوٹو میں کشتی حادثہ، 50 افراد ہلاک ایران کے ساتھ جنگ نئے مرحلے میں داخل ہوچکی: جے ڈی وینس جنوبی امریکا کے ملک پیرو میں 6.7 شدت کا زلزلہ امریکا نے حزب اللہ کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا افغانستان میں حراست میں لیے گئے اقوام متحدہ کے 2 اہلکار رہا ترکیہ، مصر اور قطر کی غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا روسی جوہری توانائی کارپوریشن کا ایران میں جوہری منصوبے جاری رکھنے کا اعلان

یورپ پہنچنے کی خواہش: آذربائیجان انسانی سمگلروں کا نیا روٹ بن گیا

Web Desk

9 July 2026

غیر قانونی طور پر یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے شہریوں کے لیے آذربائیجان انسانی سمگلروں کا ایک نیا اور خطرناک روٹ بن چکا ہے، جہاں سادہ لوح پاکستانیوں کو سیاحت کے نام پر یورپ منتقلی کے جھوٹے جھانسے دیے جا رہے ہیں۔ سامنے آنے والی دستاویزات کے مطابق، انسانی سمگلر شہریوں کو یہ لالچ دیتے ہیں کہ وہ پہلے وزٹ ویزا پر آذربائیجان کی سیر کریں اور پھر وہاں سے غیر قانونی راستوں (ڈنکی) کے ذریعے یورپ پہنچ کر مستقل سکونت اختیار کر سکتے ہیں۔ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں مجموعی طور پر 1 لاکھ 66 ہزار 634 پاکستانیوں نے آذربائیجان کا سفر کیا۔

دستاویزات کے حیران کن اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سال 2024 میں 44 ہزار 943 پاکستانیوں میں سے 2 ہزار 676 افراد واپس نہیں آئے، جبکہ 2025 میں سفر کرنے والے 47 ہزار 491 افراد میں سے 2 ہزار 495 افراد نے وطن واپسی کا رخ نہیں کیا۔ اسی طرح، رواں سال 2026 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران ہی 14 ہزار 200 پاکستانی آذربائیجان گئے، جن میں سے 2 ہزار 550 افراد کی واپسی ریکارڈ پر موجود نہیں ہے۔ واپس نہ لوٹنے والے شہریوں کی اس بڑی تعداد نے حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں انسانی سمگلنگ کے اس نئے انٹرنیشنل روٹ کے استعمال کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔