LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ضمنی انتخاب: پنجاب کے دونوں حلقوں کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کامیاب اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ: پمز کے ڈاکٹروں نے ٹیسٹ کیے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر و دفاتر پر چھاپوں اور ہراسانی کی پاکستان بار کونسل کے 8 اراکین کی شدید مذمت سینیگال کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 21 افراد ہلاک کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد

مصنوعی ذہانت نے فلم انڈسٹری کا انداز بدل دیا، کیا روایتی فلم سازی ختم ہوجائے گی؟

Web Desk

10 April 2026

فلم انڈسٹری اس وقت ایک تاریخی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے جہاں روایتی فلم سازی کے طریقے تیزی سے قصہ پارینہ بنتے جا رہے ہیں اور مصنوعی ذہانت (AI) کیمرہ ورک، ہدایت کاری اور موسیقی کے شعبوں میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ بنگلور میں قائم ‘کلیکٹیو آرٹسٹ نیٹ ورک’ جیسے ادارے اب ڈیجیٹل اداکار تخلیق کرنے پر کام کر رہے ہیں، جبکہ ‘رامائن’ اور ‘مہابھارت’ جیسی عظیم داستانوں کو بھی اے آئی کے ذریعے نئے انداز میں ڈھالا جا رہا ہے۔ بھارت، جو دنیا میں سب سے زیادہ فلمیں بنانے والا ملک ہے، وہاں اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کی مقبولیت اور سنیما گھروں میں شائقین کی کم ہوتی تعداد نے فلم سازوں کو جدید ٹیکنالوجی اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، 2019 کے مقابلے میں 2025 تک سنیما گھر جانے والے افراد کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کے حل کے طور پر اب اے آئی سے بنی فلمیں اور خودکار ڈبنگ کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ ایک حیران کن مثال ایروس میڈیا ورلڈ کی ہے جس نے 2013 کی مشہور فلم ’رانجھنا‘ کے اختتام کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تبدیل کر کے ہیرو کو زندہ دکھایا؛ اگرچہ اداکار دھنوش نے اس پر تنقید کی، مگر فلم تجارتی طور پر کامیاب رہی۔ اسی طرح ‘نیورل گیراج’ جیسی کمپنیاں ایسی ٹیکنالوجی متعارف کروا رہی ہیں جس سے مختلف زبانوں میں ڈبنگ کے دوران اداکاروں کے ہونٹوں کی حرکت (Lip-sync) بالکل قدرتی محسوس ہوتی ہے، جس میں مائیکروسافٹ اور گوگل جیسے عالمی ادارے بھی تعاون کر رہے ہیں۔

تاہم، اس تکنیکی ترقی نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ معروف ہدایت کار انوراگ کشیپ سمیت کئی ماہرین کا ماننا ہے کہ فلم سازی اب تخلیق کے بجائے محض ایک کاروبار بنتی جا رہی ہے، جس سے انسانی جذبات اور فلم کی اصل روح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ جہاں اے آئی لاگت میں کمی اور وقت کی بچت کا بہترین ذریعہ ثابت ہو رہی ہے، وہیں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا کمپیوٹر سے تیار کردہ مناظر اور کردار وہ جادوئی اثر پیدا کر پائیں گے جو امیتابھ بچن اور شاہ رخ خان جیسے بڑے ستاروں کی حقیقی اداکاری کا خاصہ رہا ہے۔ کیا ٹیکنالوجی کا یہ غلبہ فلموں کے معیار کو بہتر بنائے گا یا تخلیقی صلاحیتوں کو زنگ لگا دے گا؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔