LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا زبردست تیزی پر اختتام سوئی گیس کا عید الاضحیٰ کے لیے نیا شیڈول جاری، صارفین کو سہولت دینے کا اعلان پاکستان میں گردشی قرض، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان

مصنوعی ذہانت نے فلم انڈسٹری کا انداز بدل دیا، کیا روایتی فلم سازی ختم ہوجائے گی؟

Web Desk

10 April 2026

فلم انڈسٹری اس وقت ایک تاریخی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے جہاں روایتی فلم سازی کے طریقے تیزی سے قصہ پارینہ بنتے جا رہے ہیں اور مصنوعی ذہانت (AI) کیمرہ ورک، ہدایت کاری اور موسیقی کے شعبوں میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ بنگلور میں قائم ‘کلیکٹیو آرٹسٹ نیٹ ورک’ جیسے ادارے اب ڈیجیٹل اداکار تخلیق کرنے پر کام کر رہے ہیں، جبکہ ‘رامائن’ اور ‘مہابھارت’ جیسی عظیم داستانوں کو بھی اے آئی کے ذریعے نئے انداز میں ڈھالا جا رہا ہے۔ بھارت، جو دنیا میں سب سے زیادہ فلمیں بنانے والا ملک ہے، وہاں اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کی مقبولیت اور سنیما گھروں میں شائقین کی کم ہوتی تعداد نے فلم سازوں کو جدید ٹیکنالوجی اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، 2019 کے مقابلے میں 2025 تک سنیما گھر جانے والے افراد کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کے حل کے طور پر اب اے آئی سے بنی فلمیں اور خودکار ڈبنگ کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ ایک حیران کن مثال ایروس میڈیا ورلڈ کی ہے جس نے 2013 کی مشہور فلم ’رانجھنا‘ کے اختتام کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تبدیل کر کے ہیرو کو زندہ دکھایا؛ اگرچہ اداکار دھنوش نے اس پر تنقید کی، مگر فلم تجارتی طور پر کامیاب رہی۔ اسی طرح ‘نیورل گیراج’ جیسی کمپنیاں ایسی ٹیکنالوجی متعارف کروا رہی ہیں جس سے مختلف زبانوں میں ڈبنگ کے دوران اداکاروں کے ہونٹوں کی حرکت (Lip-sync) بالکل قدرتی محسوس ہوتی ہے، جس میں مائیکروسافٹ اور گوگل جیسے عالمی ادارے بھی تعاون کر رہے ہیں۔

تاہم، اس تکنیکی ترقی نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ معروف ہدایت کار انوراگ کشیپ سمیت کئی ماہرین کا ماننا ہے کہ فلم سازی اب تخلیق کے بجائے محض ایک کاروبار بنتی جا رہی ہے، جس سے انسانی جذبات اور فلم کی اصل روح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ جہاں اے آئی لاگت میں کمی اور وقت کی بچت کا بہترین ذریعہ ثابت ہو رہی ہے، وہیں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا کمپیوٹر سے تیار کردہ مناظر اور کردار وہ جادوئی اثر پیدا کر پائیں گے جو امیتابھ بچن اور شاہ رخ خان جیسے بڑے ستاروں کی حقیقی اداکاری کا خاصہ رہا ہے۔ کیا ٹیکنالوجی کا یہ غلبہ فلموں کے معیار کو بہتر بنائے گا یا تخلیقی صلاحیتوں کو زنگ لگا دے گا؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔