مصنوعی ذہانت: یورپ، امریکہ اور چین میں کون آگے؟
Web Desk
27 January 2026
ماہرین کے مطابق یورپ مصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا میں اپنی شاندار حکمت عملی کی وجہ سے پاور پلے کی دوڑ میں نمایاں ہے، مگر امریکہ اور چین اپنی رفتار اور سرمایہ کاری کی بدولت تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
ریاستہائے متحدہ امریکہ نے اب تک 40 سے زائد AI ماڈلز تیار کر لیے ہیں، جبکہ چین 15 ماڈلز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ یورپ نے اب تک صرف 3 ماڈلز پیش کیے ہیں اور زیادہ تر توجہ قوانین اور پالیسیوں پر مرکوز ہے۔ اس کے برعکس امریکہ اور چین ہر شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
تیسری دنیا کے ممالک جیسے بھارت، پاکستان، ملائشیا اور انڈونیشیا ابھی صرف AI کے صارف بننے کی صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اپنی مسابقت کو یقینی بنانے کے لیے AI کے لیے راہیں ہموار کر رہے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
گوگل کیلئے بری خبر، عدالت نے اپیل مسترد کر دی
7 July 2026
فولڈ ایبل آئی فون لانچ سے متعلق بڑی خبر!
7 July 2026
امریکا: چار ریاستوں کا میٹا کیخلاف مقدمہ، 1400 ارب ڈالر کے تاریخی جرمانے کا امکان
7 July 2026
غیر ملکی ہیکرز کا سی ڈی اے پر بڑا سائبر حملہ؛ اسلام آبادیوں کا ٹیکس و بلنگ ڈیٹا ہیک، بحالی کے لیے ایک ماہ کی مہلت
6 July 2026
گوگل میپس میں جلد کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرانے کا امکان
6 July 2026
ٹیلی کام بل سے کسی کی ذاتی زمین اور جائیداد پر زبردستی قبضہ نہیں ہوگا: شزا فاطمہ
6 July 2026
یوٹیوب نے تصاویر پر مبنی انقلابی فیچر متعارف کروا دیا
5 July 2026
مشہور کمپنی کا اسٹریمنگ پلیٹ فارم سے 551 فلمیں ہٹانے کا اعلان
4 July 2026