LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کے پاس ایسا کوئی نہیں ہے جس سے مذاکرات کیے جائیں: ٹرمپ امارات نے اسرائیل جانے والی پرواز کی ہنگامی لینڈنگ کو دہشتگردی قرار دیدیا برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال سیاسی جماعتوں سےامید نہیں رہی، اصلاح نہ ہوئی تو کاکروچ باہر آئیں گے: سعد رفیق پاکستانی شہریوں کے قتل پر بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، باضابطہ احتجاج ایف سی بلوچستان کے درجنوں میڈیکل کیمپس، ہزاروں مریضوں کا مفت علاج خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں 4 ارب 29 کروڑ روپے کی گیس چوری دوا فروخت کرنے کیلئے ڈاکٹر بھی لائسنس کا پابند ہے، وفاقی آئینی عدالت خیبر پختونخوا حکومت نے لانگ مارچ کے ذریعے بدامنی کا منصوبہ بنا لیا: خواجہ آصف فرانس میں طلبہ کا احتجاج، پولیس سے جھڑپیں، 1,747 افراد گرفتار حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات کا اگلا دور آج ہوگا، حتمی فیصلے متوقع جموں و کشمیرنہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اورنہ ہوگا، پاکستان آن لائن گیمز کے منفی اثرات، برطانیہ پلٹ نوجوان نے لاہور میں بینک لوٹ لیا سعودی عرب کے شہر نجران میں حوثیوں کا داغا گیا میزائل سکول سے ٹکرا گیا آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے کے راستے پر گامزن آئل ٹینکر پر میزائل حملہ

ماہرین کا اے آئی چیٹ بوٹس پر اندھا اعتماد خطرناک قرار

Web Desk

16 April 2026

نیویارک: عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیشِ نظر قانونی اور تکنیکی ماہرین نے صارفین کے لیے ایک سنگین وارننگ جاری کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو طبی، قانونی اور مالی نوعیت کے حساس معاملات میں اے آئی چیٹ بوٹس پر ہرگز مکمل اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔ امریکہ میں قانونی ماہرین نے اپنے مؤکلین کو واضح کیا ہے کہ وہ ان بوٹس کو ‘قابلِ اعتماد رازدار’ نہ سمجھیں، کیونکہ ایسے معاملات جہاں قانونی ذمہ داری یا انسانی آزادی داؤ پر ہو، وہاں اے آئی کا مشورہ یا ڈیٹا شیئرنگ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ خدشات اس وقت حقیقت بن کر سامنے آئے جب نیویارک کی ایک وفاقی عدالت نے سکیورٹیز فراڈ کے الزام میں ایک سابق سی ای او کے خلاف اہم فیصلہ سنایا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مذکورہ شخص اپنی اے آئی چیٹ گفتگو کو استغاثہ سے خفیہ نہیں رکھ سکتا اور اسے بطور ثبوت پیش کیا جائے گا۔ اس فیصلے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وکیل اور مؤکل کے درمیان ہونے والی روایتی گفتگو کے برعکس، اے آئی کے ساتھ کی گئی بات چیت کو قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے اور اسے کسی بھی فوجداری یا دیوانی مقدمے میں بطور ثبوت استعمال کیا جا سکتا ہے۔