LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان، کرغزستان کا تجارت، سرمایہ کاری اور سٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق شام میں فرانسیسی صدر کی قیام گاہ کے قریب دو دھماکے، 18 افراد زخمی وفاقی وزیرِ خزانہ کا بڑا اقدام؛ اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں ‘ایس ایم ای فنانس ٹاسک فورس’ قائم چین: 325 ملین ڈالرز رشوت لینے پر سرکاری عہدیدار کو سزائے موت کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، بی ایل اے کے 2 دہشت گرد گرفتار حکومت پیٹرول پر لیوی کا بھتہ وصول کر رہی ہے، قیمت 225 روپے ہونی چاہیے؛ حافظ نعیم الرحمن ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی آسان بنائی جائے؛ وزیرِ اعظم معیشت مضبوط استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جی ڈی پی 3.7 فیصد ریکارڈ؛ وزیرِ خزانہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان کے باعث ریکارڈ ٹوٹنے کا سلسلہ برقرار اقوام متحدہ کا ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید یو اے ای میں ‘ویزا آن ارائیول’ کی شرائط تبدیل، کیا اب آپ اہل ہیں؟ انسانی سمگلنگ کیخلاف 59 ممالک میں عالمی کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد ملزم گرفتار اسرائیل کا امریکا سے ترکیہ کو ایف 35 جنگی طیارے اور پرزے فروخت نہ کرنے کا مطالبہ دہشتگردی کا مقابلہ جاری، ریاست کی رٹ ہر صورت قائم ہوگی: سرفراز بگٹی

ماہرین کا اے آئی چیٹ بوٹس پر اندھا اعتماد خطرناک قرار

Web Desk

16 April 2026

نیویارک: عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیشِ نظر قانونی اور تکنیکی ماہرین نے صارفین کے لیے ایک سنگین وارننگ جاری کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو طبی، قانونی اور مالی نوعیت کے حساس معاملات میں اے آئی چیٹ بوٹس پر ہرگز مکمل اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔ امریکہ میں قانونی ماہرین نے اپنے مؤکلین کو واضح کیا ہے کہ وہ ان بوٹس کو ‘قابلِ اعتماد رازدار’ نہ سمجھیں، کیونکہ ایسے معاملات جہاں قانونی ذمہ داری یا انسانی آزادی داؤ پر ہو، وہاں اے آئی کا مشورہ یا ڈیٹا شیئرنگ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ خدشات اس وقت حقیقت بن کر سامنے آئے جب نیویارک کی ایک وفاقی عدالت نے سکیورٹیز فراڈ کے الزام میں ایک سابق سی ای او کے خلاف اہم فیصلہ سنایا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مذکورہ شخص اپنی اے آئی چیٹ گفتگو کو استغاثہ سے خفیہ نہیں رکھ سکتا اور اسے بطور ثبوت پیش کیا جائے گا۔ اس فیصلے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وکیل اور مؤکل کے درمیان ہونے والی روایتی گفتگو کے برعکس، اے آئی کے ساتھ کی گئی بات چیت کو قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے اور اسے کسی بھی فوجداری یا دیوانی مقدمے میں بطور ثبوت استعمال کیا جا سکتا ہے۔