LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی و سیاسی صورتحال پر مشاورت بارشیں اور سیلابی صورتحال: وزارت ریلوے ہائی الرٹ، افسران کی چھٹیاں منسوخ دہشتگردی کی منصوبہ بندی میں ملوث کالعدم تنظیم کے تین ملزمان کو 7، 7 سال قید کی سزا آزاد کشمیر انتخابات: ملتان میں دوسرے مرحلے کی پولنگ کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل، کانٹے دار مقابلے کا امکان شمالی وزیرستان: سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 5 دہشت گرد ہلاک، میجر شہید ہر گھرغریب، معیشت بدترین بحران کا شکار ہے: شاہد خاقان عباسی حکومت پر برس پڑے عرفان صادق تارڑ پراسکیوٹر جنرل پنجاب تعینات افواجِ پاکستان اور پیپلز لبریشن آرمی حقیقی شراکت دار، امن و استحکام کیلئے پرعزم ہیں: فیلڈ مارشل امن منصوبے پر مثبت پیش رفت: 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے: دفتر خارجہ سندھ میں نئے صوبے کی ضرورت نہیں، یہ پنجاب کی عوام کا مطالبہ ہے، سعید غنی خطے کے ممالک امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کریں: ایرانی فوج پنجاب میں ماتحت عدلیہ کے ججز پر مونیٹائزیشن پالیسی نافذ آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: 21 نشستوں پر پولنگ کل، 12 لاکھ سے زائد ووٹرز شامل پیٹرول پر لیوی بھتہ ٹیکس، فارم 45 کی بنیاد پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے,حافظ نعیم الرحمٰن امریکا اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ میں ایران کامیاب رہا: باقر قالیباف

ملک میں پہلی بار مقامی سطح پر ادویات کی تیاری کیلئے’ ویکسین فنڈ قائم‘ کرنے کا فیصلہ

Web Desk

4 January 2026

لک میں پہلی بار مقامی سطح پر ادویات اور ویکسین کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے ویکسین فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ مقامی ادویات تیاری پالیسی کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد ویکسین کی درآمد پر انحصار کم کرنا اور قومی سطح پر پیداواری صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔

پالیسی دستاویز کے مطابق آئندہ چند برسوں میں ویکسین کا درآمدی بل ایک ارب 20 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرنے کا خدشہ ہے، جبکہ مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری سے سالانہ تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی بچت ممکن ہو سکے گی۔ اسی تناظر میں پہلی بار ریاست کی ملکیت میں ویکسین فنڈ قائم کیا جائے گا، جو تجارتی اصولوں کے تحت پیشہ ورانہ انداز میں چلایا جائے گا۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پالیسی کے تحت ایک سے دو سال کے لیے قلیل المدتی ایکشن پلان بھی شامل کیا گیا ہے۔ ویکسین فنڈ کو ویکسین کی تیاری سے لے کر کلینیکل ٹرائلز تک تمام مراحل میں استعمال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ادویات کے شعبے میں سرمایہ کاری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بھی اسی فنڈ سے معاونت فراہم کی جائے گی۔

پالیسی میں ای پی آئی ویکسین کی تیاری کے لیے درآمدی مشینری پر ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز شامل ہے۔ اسی طرح ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی استعداد بڑھانے اور نیشنل کنٹرول لیبارٹری فار بائیولوجیکلز کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ بھی پالیسی کا حصہ ہے۔

دستاویز کے مطابق ویکسین فنڈ مارکیٹ میں مناسب سرمایہ کی دستیابی یقینی بنانے کا ایک اہم مالیاتی ذریعہ ہوگا، جو ملک کو ویکسین کی درآمد سے نکال کر برآمدی صلاحیت رکھنے والے مقامی مینوفیکچرنگ نظام کی جانب لے جائے گا۔

مزید برآں، ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں کو سپر ٹیکس میں 10 سال تک چھوٹ دینے، کارپوریٹ ٹیکس اور انکم ٹیکس میں ریلیف فراہم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ پالیسی کے تحت ویکسین مینوفیکچررز کو برآمدی آمدن کا 35 فیصد ڈالر میں رکھنے کی اجازت دینے کی تجویز شامل ہے۔

ماہرین کے مطابق مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری نہ صرف زرِ مبادلہ کی بچت کا ذریعہ بنے گی بلکہ صحت کے شعبے میں خود کفالت اور برآمدات کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔