LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم ’اپنا گھر اسکیم‘: دو ماہ میں منظور شدہ ہاؤسنگ فنانسنگ میں 117 فیصد کا ریکارڈ اضافہ اسلام آباد ہائیکورٹ: راول جھیل کنارے نیول فارمز اور نیول سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دینے کا 2022ء کا فیصلہ کالعدم ریاض: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اہم سائبر سیکیورٹی معاہدے پر دستخط یونٹی فوڈز کے شیئرز میں مبینہ انسائیڈر ٹریڈنگ، ایس ای سی پی کی تحقیقات میں تیزی امیر جماعت اسلامی کا کل ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان بھارت سندھ طاس معاہدے سے متعلق فیصلے کو مسترد نہیں کرسکتا، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نیوی کی میری ٹائم مشق ’سی سپارک 2026‘ کراچی میں شروع بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور بچوں سے بات نہ کروانے کا معاملہ، توہینِ عدالت کی درخواست دائر پاکستان کا کرغزستان کے ساتھ تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار ملک میں کاروباری اوقات کار میں اضافے کی سفارش صدر زرداری سے لندن میں محسن نقوی کی ملاقات، اہم پیغام پہنچایا وزیراعظم شہباز شریف کی بشکیک میں صدارتی محل آمد، گارڈ آف آنر پیش ایف سی بلوچستان ٹریننگ سینٹر خضدار میں بیسک ملٹری ٹریننگ بیچ 76 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ یوم دفاع و شہداء: پشاور کے تعلیمی اداروں میں پاک فوج کے زیراہتمام تقریبات ایئر ڈیفنس نے فضائی حدود میں داخل ہونے والے میزائلوں کو ناکام بنا دیا: اردن

نیتن یاہو ایران پر مزید حملوں کے لیے سرگرم، ٹرمپ کی ترجیحات نظر انداز

Web Desk

27 December 2025

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اتوار کو امریکہ کے دورے پر روانہ ہوں گے جہاں ان کی ملاقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متوقع ہے۔ اس ملاقات میں نیتن یاہو ایران کے خلاف مزید فوجی اقدامات پر زور دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں برس جون میں ایران کے جوہری پروگرام کو سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی، تاہم اس کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اس پیش رفت سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام اور ان کے امریکی اتحادی ایک بار پھر ایران کے خلاف جنگی بیانیہ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ تہران کے میزائل پروگرام کا فوری سدباب ضروری ہے۔ اس بار نیتن یاہو کی توجہ خاص طور پر ایران کے میزائل پروگرام پر مرکوز ہوگی۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک اور ممکنہ تصادم صدر ٹرمپ کی اعلان کردہ خارجہ پالیسی ترجیحات کے برعکس ہوگا۔ سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی کے سینئر رکن سینا توسی کے مطابق ٹرمپ ایک جانب اسرائیل اور عرب ریاستوں کے درمیان معاشی تعاون اور سفارتی تعلقات کے فروغ کے خواہاں ہیں، جبکہ دوسری جانب نیتن یاہو خطے میں فوجی بالادستی قائم رکھنا چاہتے ہیں۔

سینا توسی کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف مسلسل امریکی مداخلت اور طویل جنگوں کی خواہش، جن کا مقصد ایرانی ریاست کو کمزور کرنا ہے، دراصل اسرائیل کی اس خواہش کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے میں اس کی غیر چیلنج شدہ بالادستی، اجارہ داری اور توسیع پسندانہ عزائم برقرار رہیں۔ ان کے مطابق یہی نیتن یاہو کے اہداف کی بنیاد ہے، اور وہ امریکہ کو اسی سمت دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے اسرائیل اور امریکہ کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

ادھر کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو نائب صدر ٹریٹا پارسی کے مطابق چونکہ صدر ٹرمپ جوہری مسئلے کو درست یا غلط طور پر حل شدہ قرار دے چکے ہیں، اس لیے اسرائیل دباؤ برقرار رکھنے کے لیے اب ایران کے میزائل پروگرام کو مرکزی مسئلہ بنا رہا ہے۔