LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے ریلیف سے قبل قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں پمز ایم سی ایچ سے نومولود چوری کی کوشش ناکام، دو خواتین اور لڑکی گرفتار پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا: حافظ نعیم الرحمان انڈونیشین نیوی کے سربراہ کی نیول چیف سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے کا عزم ملائیشین وزیراعظم سے من گھڑت بیانیہ نکلوانے کی بھارتی کوشش ناکام، انٹرویو پھر سرخیوں میں اسحاق ڈار سے لبنانی وزیر داخلہ کی ملاقات ہوئی، تمام شعبوں میں تعاون پر اتفاق پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف، حکومت اور جماعت اسلامی میں اہم ملاقات خیبرپختونخوا دو دن سے لاوارث، سہیل آفریدی سیر سپاٹے کر رہے ہیں: عظمیٰ بخاری سینیٹ کمیٹی میں ایم ڈی کیٹ اور میڈیکل داخلہ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی سفارشات افغان میڈیکل طلبہ کی پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کی درخواست پر فیصلہ جاری پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کی جائے، حکومت ہوش کے ناخن لے: شرجیل میمن امریکا خلا میں فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ بند کرے، چین کا مطالبہ باب المندب کی بندش پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوگی: قطر کا اظہارِ تشویش ازبکستان کا 10 رکنی میڈیا وفد 7 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا حکومت ریلیف کا ڈرامہ بند اور پٹرولیم لیوی کا بھتہ ختم کرے: حافظ نعیم

ملک میں کاروباری اوقات کار میں اضافے کی سفارش

Web Desk

2 September 2026

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کی ذیلی کمیٹی نے ملک میں تجارتی و صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے کاروباری اوقات کار میں ابتدائی طور پر 30 منٹ اضافے کی سفارش کی ہے، تاہم پاور ڈویژن نے اس کی سخت مخالفت کر دی ہے۔

سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت منعقدہ ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں تاجر برادری نے مؤقف اختیار کیا کہ انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی وصولی میں اضافہ اسی صورت ممکن ہے جب کاروبار کو معمول کے مطابق چلنے دیا جائے۔ اس کے برعکس، پاور ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کاروباری اوقات میں اضافے کے لیے ملک کو روزانہ 600 میگاواٹ اضافی بجلی درکار ہوگی۔ حکام کے مطابق اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اگر فرنس آئل پلانٹس چلائے گئے تو فی یونٹ فیول کاسٹ میں 5 روپے تک کا اضافہ ہو جائے گا۔ پاور ڈویژن نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اس وقت ملک کے پاس صرف ایک دن کا ایل این جی (LNG) اسٹاک باقی ہے اور اسپاٹ مارکیٹ سے کارگوز منگوانے کی صورت میں بجلی مزید مہنگی ہوگی۔

اجلاس کے دوران پاکستان سے صنعتوں کی نقل مکانی، ایف بی آر کی گورننس، افسران کی دہری شہریت، اور کاروباری برادری کے مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ایف بی آر حکام نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر چیئرمین ایف بی آر ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی اور لاہور میں کیمپ آفس قائم کریں گے تاکہ تاجروں کے مسائل موقع پر حل کیے جا سکیں۔ مزید برآں، ذیلی کمیٹی نے آئی ایم ایف (IMF) کی ایکسپورٹ پراسیسنگ زونز اور اسپیشل اکنامک زونز کو 2035 تک مرحلہ وار ختم کرنے کی شرط پر دوبارہ مذاکرات کی سفارش بھی کی تاکہ ملکی صنعتی و سرمایہ کاری مفادات کا تحفظ ممکن ہو سکے۔