LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے ریلیف سے قبل قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں پمز ایم سی ایچ سے نومولود چوری کی کوشش ناکام، دو خواتین اور لڑکی گرفتار پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا: حافظ نعیم الرحمان انڈونیشین نیوی کے سربراہ کی نیول چیف سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے کا عزم ملائیشین وزیراعظم سے من گھڑت بیانیہ نکلوانے کی بھارتی کوشش ناکام، انٹرویو پھر سرخیوں میں اسحاق ڈار سے لبنانی وزیر داخلہ کی ملاقات ہوئی، تمام شعبوں میں تعاون پر اتفاق پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف، حکومت اور جماعت اسلامی میں اہم ملاقات خیبرپختونخوا دو دن سے لاوارث، سہیل آفریدی سیر سپاٹے کر رہے ہیں: عظمیٰ بخاری سینیٹ کمیٹی میں ایم ڈی کیٹ اور میڈیکل داخلہ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی سفارشات افغان میڈیکل طلبہ کی پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کی درخواست پر فیصلہ جاری پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کی جائے، حکومت ہوش کے ناخن لے: شرجیل میمن امریکا خلا میں فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ بند کرے، چین کا مطالبہ باب المندب کی بندش پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوگی: قطر کا اظہارِ تشویش ازبکستان کا 10 رکنی میڈیا وفد 7 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا حکومت ریلیف کا ڈرامہ بند اور پٹرولیم لیوی کا بھتہ ختم کرے: حافظ نعیم

اسلام آباد ہائیکورٹ: راول جھیل کنارے نیول فارمز اور نیول سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دینے کا 2022ء کا فیصلہ کالعدم

Web Desk

2 September 2026

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے راول جھیل کے کنارے واقع پاکستان نیول فارمز اور نیول سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دینے اور کلب کی عمارت گرانے سے متعلق 2022ء کا سنگل بنچ کا فیصلہ منسوخ کر دیا ہے۔

جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شاہ رخ ارجمند پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سابق چیف جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کے خلاف وزارتِ دفاع، سابق نیول چیف ایڈمرل (ر) ظفر محمود عباسی اور دیگر کی اپیلوں پر سماعت کرتے ہوئے یہ محفوظ فیصلہ سنایا۔ عدالت عالیہ نے نیول سیلنگ کلب مسمار کرنے کے حکم کے ساتھ ساتھ سابق نیول چیف ظفر محمود عباسی کے خلاف مس کنڈکٹ اور فوجداری کارروائی شروع کرنے کے سابقہ فیصلے کو بھی باضابطہ طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے۔

اس کے علاوہ عدالت نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو قومی خزانے کے نقصان کا تخمینہ لگانے اور متعلقہ افسران سے رقم برآمد کرنے کا حکم بھی منسوخ کر دیا ہے۔ نیول فارمز کو پاکستان نیوی ہیڈ کوارٹر کے نام زمین کا انتقال غیر قانونی قرار دینے کی شق کو بھی سیٹ سائیڈ کر دیا گیا ہے۔ سماعت کے دوران سابق نیول چیف کی جانب سے سینئر قانون دان اشتر اوصاف جبکہ اپیل کنندگان کی طرف سے سردار احمد جمال اور عبدالواحد قریشی پیش ہوئے، جبکہ وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور سی ڈی اے کے وکلاء نے نمائندگی کی۔