LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان آئی ایل او سے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے: وزیراعظم روسی افواج کے یوکرینی ریڈارز، ڈیٹا سینٹرز اور فوجی تنصیبات پر حملے آزاد کشمیر اسمبلی کے ارکان نے حلف اٹھا لیا، مسائل باہمی تعاون سے حل کیے جائیں گے: وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر کابینہ میں تین وزراء کے محکموں میں ردوبدل ایران جنگ: برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی قطر کا سعودی خودمختاری کے تحفظ اور ایران امریکا مذاکرات میں پیش رفت کی حمایت کا اعلان ایرانی افواج کی انگلیاں ٹرگر پر،دشمن کی غلطی کے منتظر ہیں: ابراہیم عزیزی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، حرمین شریفین کے دفاع کیلئے مسلم امہ کا مضبوط اتحاد اپوزیشن اتحاد کی آج مولانا فضل الرحمان سے ملاقات طے، خیبرپختونخوا کی صورتحال اور پارلیمانی امور پر مشاورت ہوگی مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار وفاقی وزراء ہیں: شوکت یوسفزئی وزیراعظم کی موسم سرما میں گیس لوڈ مینجمنٹ کا لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت آزاد جموں و کشمیر میں پیپلز پارٹی کی تنظیم نو، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ڈی آئی خان میں فائرنگ کے دو واقعات میں ایف بی آر اور پولیس کے 5 اہلکار شہید اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا دورہ پاکستان، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس اپوزیشن جان بوجھ کر مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ ڈال رہی ہے، وزیراعلیٰ کے پی کی آخری وقت کی شرائط نے مذاکرات ناکام بنائے: حکومتی مؤقف

اسلام آباد ہائیکورٹ: راول جھیل کنارے نیول فارمز اور نیول سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دینے کا 2022ء کا فیصلہ کالعدم

Web Desk

2 September 2026

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے راول جھیل کے کنارے واقع پاکستان نیول فارمز اور نیول سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دینے اور کلب کی عمارت گرانے سے متعلق 2022ء کا سنگل بنچ کا فیصلہ منسوخ کر دیا ہے۔

جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شاہ رخ ارجمند پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سابق چیف جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کے خلاف وزارتِ دفاع، سابق نیول چیف ایڈمرل (ر) ظفر محمود عباسی اور دیگر کی اپیلوں پر سماعت کرتے ہوئے یہ محفوظ فیصلہ سنایا۔ عدالت عالیہ نے نیول سیلنگ کلب مسمار کرنے کے حکم کے ساتھ ساتھ سابق نیول چیف ظفر محمود عباسی کے خلاف مس کنڈکٹ اور فوجداری کارروائی شروع کرنے کے سابقہ فیصلے کو بھی باضابطہ طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے۔

اس کے علاوہ عدالت نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو قومی خزانے کے نقصان کا تخمینہ لگانے اور متعلقہ افسران سے رقم برآمد کرنے کا حکم بھی منسوخ کر دیا ہے۔ نیول فارمز کو پاکستان نیوی ہیڈ کوارٹر کے نام زمین کا انتقال غیر قانونی قرار دینے کی شق کو بھی سیٹ سائیڈ کر دیا گیا ہے۔ سماعت کے دوران سابق نیول چیف کی جانب سے سینئر قانون دان اشتر اوصاف جبکہ اپیل کنندگان کی طرف سے سردار احمد جمال اور عبدالواحد قریشی پیش ہوئے، جبکہ وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور سی ڈی اے کے وکلاء نے نمائندگی کی۔