LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا فلسطینی خاندانوں کے گھروں کا محاصرہ بادامی باغ میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ، 2 پولیس اہلکار شہید وزیراعظم شہباز شریف سے ناروے کے وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال پنجاب حکومت کا انتظامی اخراجات کم کرنے کیلئے 101 آسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ اسحاق ڈار سے صدر ن لیگ آزاد کشمیر کی ملاقات، حکومت سازی سے متعلق امور پر گفتگو ناروے کے وزیر خارجہ کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 8 اہلکاروں کو اغوا کرلیا: آزاد کشمیر پولیس قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس 17 اگست کو طلب کرنے کا فیصلہ براڈ پیک حادثے میں لاپتہ ہونے والے پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش مل گئی پاکستان کی پہلی چاند گاڑی کا نام جناح-1 رکھ دیا گیا اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں بڑا اضافہ اسرائیلی فورسز جنوبی لبنان میں گھروں کو تباہ اور نذرِ آتش کر رہی ہے: لبنانی میڈیا ملک بھر کیلئے فی یونٹ بجلی مسلسل 3 ماہ تک مہنگی ہونے کا امکان کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 8 اہلکاروں کو اغوا کرلیا: آزاد کشمیر پولیس

وزن کم کرنے والی ادویات نشے کی طلب کم کرنے میں بھی مددگار!

Web Desk

13 August 2026

وزن کم کرنے اور ذیابیطس کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دنیا کی معروف ادویات اوزیمپک (Ozempic) اور ویگووی (Wegovy) سے متعلق ایک نئی سائنسی تحقیق نے ان کے حیران کن فوائد کا نیا پہلو پیش کیا ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق یہ ادویات نہ صرف بھوک پر قابو پا کر وزن گھٹاتی ہیں، بلکہ الکوحل (شراب) اور دیگر نشہ آور اشیا کے استعمال کی شدید خواہش (Cravings) کو بھی نمایاں حد تک کم کر سکتی ہیں۔

یہ ادویات جی ایل پی-1 (GLP-1) ایگنسٹس کے گروپ سے تعلق رکھتی ہیں، جو اصل میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے لیے تیار کی گئی تھیں۔ یہ جسم کے قدرتی ہارمون GLP-1 کی نقل کرتے ہوئے انسولین کی مقدار بڑھاتی ہیں اور ہاضمے کا عمل سست کر کے پیٹ بھرے رہنے کا احساس برقرار رکھتی ہیں۔

دماغ کے ‘ریوارڈ سسٹم’ پر اثرات سائنسدانوں کے مطابق جب انسان کسی پسندیدہ کھانے یا نشہ آور شے کے بارے میں سوچتا ہے تو دماغ کا ریوارڈ سسٹم متحرک ہو کر شدید طلب پیدا کرتا ہے۔ یہی طلب زیادہ فعال ہو جائے تو موٹاپے اور نشے کی لت جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جی ایل پی-1 ادویات دماغ کے اسی ریوارڈ سسٹم کو اعتدال میں لاتی ہیں۔ جانوروں پر کیے گئے تجربات اور انسانوں کے مشاہداتی ڈیٹا سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان ادویات کے استعمال سے الکوحل کے علاوہ کوکین، افیون، نکوٹین (سگریٹ) اور ایمفیٹامین جیسی اشیا کی طلب میں بھی واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں یہ ادویات نشے کی بیماریوں کا علاج ڈھونڈنے میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہیں۔