LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور سیاسی جماعتیں عوامی ریلیف اور عملی اقدامات پر توجہ دیں: شرجیل میمن پولٹری سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کیلئے پاکستان اور ڈنمارک کے ادارے میں معاہدہ چار ملکی اجلاس خطے میں امن و سلامتی کے لیے اہم موقع ہے، عباس عراقچی وزیراعظم آزاد کشمیر کا وادی سیماری میں ایکو ٹورازم منصوبے کا دورہ، حکومتی سرپرستی کا اعلان نیتن یاہو فتح کے قریب، میری حمایت نے بہت مدد کی: ٹرمپ کا دعویٰ

کبیر والا میں خسرہ سے ایک ہی خاندان کے 3 بچے جاں بحق

Web Desk

12 August 2026

خانیوال کی تحصیل کبیروالا کے نواحی علاقے موضع شکروالا قتالپور میں مبینہ طور پر خسرہ کی وبا پھیلنے سے ایک ہی خاندان کے تین کمسن بچے تین روز کے اندر جاں بحق ہو گئے۔ تین معصوم بچوں کی اچانک ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں خوف و ہراس اور شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی محکمہ صحت کی ٹیمیں فوری طور پر موضع شکروالا پہنچیں اور تمام علاقے میں گھر گھر جا کر جامع سکریننگ کا عمل شروع کر دیا۔ ڈپٹی ڈی ایچ او کے مطابق سکریننگ کے دوران اسی خاندان اور جوار کے مزید پانچ بچوں میں بھی بیماری کی علامات پائی گئیں، جنہیں فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر (THQ) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ تمام متاثرہ بچوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ تاہم، حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ بچوں کی ہلاکتوں کی اصل وجہ اور خسرہ کی حتمی تصدیق طبی معائنہ مکمل ہونے اور لیبارٹری رپورٹس موصول ہونے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گی