LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مغرب ممالک نے روسی تجارتی جہاز قبضے میں لئے تو بھرپور جواب دیں گے: پوتن مال روڈ واقعہ اس بات کا اشارہ ہے کہ 27 ستمبر کو بھی ایسا ہی ہوسکتا ہے، طلال چوہدری پاکستان، بیلاروس کا اقتصادی و تجارتی تعاون نئی سطح پر لے جانے پر اتفاق امریکی فوج ہماری توقع سے کہیں زیادہ کمزور نکلی: مشیر ایرانی کمانڈر کا بڑا دعویٰ اسحاق ڈار کی حوثیوں کے حملے میں 3 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، باب المندب میں تجارتی جہاز پر حوثی حملہ قابلِ مذمت: ترجمان دفتر خارجہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی قیادت سے اہم ملاقات، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا خصوصی پیغام پہنچا دیا نوجوان پاکستان کا انمول سرمایہ اور روشن مستقبل کے معمار ہیں: صدر، وزیراعظم ٹرمپ نے امریکا کو ایک غیر ضروری اور خطرناک جنگ میں جھونک دیا: چک شومر آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں تیزی آ گئی: امریکی حکام کا دعویٰ بلوچستان کے اضلاع ژوب اور چمن میں 4.8 شدت زلزلے کے جھٹکے ایران کے حوالے سے صورتحال بہتر، امریکا کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے: ٹرمپ چین کا بھارت کے غیر قانونی قائم کردہ ’’اروناچل پردیش‘‘ کو تسلیم کرنے سے انکار سہ فریقی سکیورٹی معاہدہ آسٹریلیا کو مزید غیر محفوظ بنا دے گا: سابق وزیراعظم میلکم ٹرن طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد 24 لاکھ افغان لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم

بھولی ہوئی یادیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں، تحقیق میں اہم انکشاف

Web Desk

12 August 2026

ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بظاہر بھولی ہوئی کچھ یادیں دماغ سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں بلکہ خاموش حالت میں محفوظ رہتی ہیں، جنہیں مناسب ماحول یا کسی خاص یاددہانی کے ذریعے دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے۔ پھلوں کی مکھیوں پر کیے گئے تجربات سے معلوم ہوا کہ جس ماحولیاتی پس منظر میں کوئی یاد تشکیل پاتی ہے، اسی سے ملتا جلتا ماحول دوبارہ فراہم کرنے سے وہ یاد ذہن میں واپس آ جاتی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یادیں مٹنے کے بجائے ایک ایسی غیر فعال حالت اختیار کر لیتی ہیں جہاں سے انہیں فوری طور پر یاد کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

ماہرین کے مطابق انسانی یادداشت کا نظام انتہائی پیچیدہ ہے جہاں کچھ یادیں وقت کے ساتھ کمزور ہو جاتی ہیں، جبکہ بعض بظاہر غائب ہونے کے باوجود کسی مخصوص منظر، جگہ، بو یا اشارے سے اچانک تازہ ہو جاتی ہیں۔ تاہم، محققین کا کہنا ہے کہ حقیقی یادوں کی بحالی اور دماغ کی جانب سے غلط یا جھوٹی یادیں تشکیل دینے کے پیچھے موجود عصبی عمل (Neural Mechanisms) کو ابھی پوری طرح سمجھنا باقی ہے۔ یہ تحقیق اس بات کو سمجھنے کے لیے ایک نیا راستہ فراہم کرتی ہے کہ یادیں دماغ میں کس طرح محفوظ رہتی ہیں اور انہیں دوبارہ فعال کرنے میں بیرونی اشارے کیا کردار ادا کرتے ہیں۔