بھولی ہوئی یادیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں، تحقیق میں اہم انکشاف
Web Desk
12 August 2026
ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بظاہر بھولی ہوئی کچھ یادیں دماغ سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں بلکہ خاموش حالت میں محفوظ رہتی ہیں، جنہیں مناسب ماحول یا کسی خاص یاددہانی کے ذریعے دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے۔ پھلوں کی مکھیوں پر کیے گئے تجربات سے معلوم ہوا کہ جس ماحولیاتی پس منظر میں کوئی یاد تشکیل پاتی ہے، اسی سے ملتا جلتا ماحول دوبارہ فراہم کرنے سے وہ یاد ذہن میں واپس آ جاتی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یادیں مٹنے کے بجائے ایک ایسی غیر فعال حالت اختیار کر لیتی ہیں جہاں سے انہیں فوری طور پر یاد کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
ماہرین کے مطابق انسانی یادداشت کا نظام انتہائی پیچیدہ ہے جہاں کچھ یادیں وقت کے ساتھ کمزور ہو جاتی ہیں، جبکہ بعض بظاہر غائب ہونے کے باوجود کسی مخصوص منظر، جگہ، بو یا اشارے سے اچانک تازہ ہو جاتی ہیں۔ تاہم، محققین کا کہنا ہے کہ حقیقی یادوں کی بحالی اور دماغ کی جانب سے غلط یا جھوٹی یادیں تشکیل دینے کے پیچھے موجود عصبی عمل (Neural Mechanisms) کو ابھی پوری طرح سمجھنا باقی ہے۔ یہ تحقیق اس بات کو سمجھنے کے لیے ایک نیا راستہ فراہم کرتی ہے کہ یادیں دماغ میں کس طرح محفوظ رہتی ہیں اور انہیں دوبارہ فعال کرنے میں بیرونی اشارے کیا کردار ادا کرتے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
غریب گھرانوں کے نوجوانوں میں کھانے کی بیماریاں زیادہ عام ہونے کا انکشاف!
13 September 2026
صحت کیلیے ہمارا 14 ماہ کا کام پچھلے 30 سالوں سے بہتر ہے، مصطفی کمال
13 September 2026
بہت گرم چائے سے غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھنے کا انکشاف
13 September 2026
بنگلہ دیش میں خسرے سے ایک ہزار سے زائد بچے ہلاک
12 September 2026
ہیپاٹائٹس سی کے مریض ایک کروڑ 10 لاکھ سے تجاوز، اسلام آباد سے ملک گیر اسکریننگ پروگرام شروع
12 September 2026
روزانہ ایک انڈے کا استعمال وزن بڑھنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے
12 September 2026
بنوں میں 8 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق
11 September 2026
ملک بھر کے 115 مخصوص اضلاع میں 21 تا 27 ستمبر ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم کا اعلان
11 September 2026