LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور سیاسی جماعتیں عوامی ریلیف اور عملی اقدامات پر توجہ دیں: شرجیل میمن پولٹری سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کیلئے پاکستان اور ڈنمارک کے ادارے میں معاہدہ چار ملکی اجلاس خطے میں امن و سلامتی کے لیے اہم موقع ہے، عباس عراقچی وزیراعظم آزاد کشمیر کا وادی سیماری میں ایکو ٹورازم منصوبے کا دورہ، حکومتی سرپرستی کا اعلان نیتن یاہو فتح کے قریب، میری حمایت نے بہت مدد کی: ٹرمپ کا دعویٰ

دماغ میں پیوند لگانے کا مختصر اور نسبتاً آسان طریقہ تیار

Web Desk

12 August 2026

چین کی ایک بائیو ٹیک اسٹارٹ اپ کمپنی ‘اسٹیر میڈ ٹیکنالوجی’ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دماغ میں چپ یا پیوند (Brain-Computer Interface) لگانے کا ایسا جدید اور کم سے کم جراحی والا طریقہ تیار کر لیا ہے جس میں سر کی ہڈی (کھوپڑی) کھولنے یا روایتی سرجری کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ کمپنی کے مطابق یہ پورا عمل محض 10 منٹ کے مختصر وقت میں انجام دیا جا سکے گا۔

اسٹیر میڈ کے شریک بانی ژاؤ ژینگ تو کے مطابق، اس نئے طریقے میں آلہ گردن کی ایک رگ کے ذریعے جسم میں داخل کیا جاتا ہے اور خون کی نالیوں کے قدرتی راستے سے ہوتا ہوا دماغ تک پہنچتا ہے۔ دیگر روایتی طریقوں کے برعکس، جہاں برقی آلات سیدھے دماغی بافتوں کے اندر لگائے جاتے ہیں، یہ چپ خون کی نالی کی بیرونی دیوار کے ساتھ خود کو قائم کرتی ہے۔ شنوو اسپتال کے ڈاکٹر دوان وان رو کا کہنا ہے کہ درمیانے درجے کی مہارت رکھنے والا جراح بھی اسے تقریباً 10 منٹ میں نصب کر سکتا ہے، جبکہ نیورلنک جیسے آلات لگانے کے لیے سرجیکل روبوٹ اور 2 گھنٹے کا وقت درکار ہوتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ٹینسنٹ اور علی بابا جیسے بڑے چینی ٹیکنالوجی اداروں کی جانب سے اسٹیر میڈ کو گزشتہ ایک سال میں 1.1 ارب یوآن (تقریباً 16 کروڑ 30 لاکھ ڈالر) سے زائد کی سرمایہ کاری حاصل ہوئی ہے۔ تاہم یہ ٹیکنالوجی فی الوقت بھیڑوں پر آزمائی جا رہی ہے اور انسانوں پر کلینیکل ٹرائلز شروع ہونا باقی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ 10 منٹ میں پیوندکاری کا یہ دعویٰ عملی طور پر ثابت ہونا باقی ہے۔ امریکی کمپنی ‘سنکرون’ (Synchron) بھی رگوں کے ذریعے برین چپ کی آزمائش کر چکی ہے، مگر چینی کمپنی کا نظام نالی کے باہر نصب ہو کر ایک نیا تجربہ پیش کرتا ہے۔