LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ورلڈ الٹیمیٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ، ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا: حافظ نعیم الرحمٰن ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ عراق کا ایران کے ساتھ 3 سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کرنے کا اعلان سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ، عراقی فورسز نے لانچنگ سائٹ کا سراغ لگا لیا وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے: سلمان اکرم راجہ ہرنائی میں پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن، 5 کان کن زندہ نکال لیے پٹرولیم لیوی کیخلاف جدوجہد سے حکومت ریلیف دینے پر مجبور ہوئی: حافظ نعیم وزیراعظم کا عوام کیلئے خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کا اعلان پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف: حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات منگل تک موخر صوبوں کی تقسیم سے انتظامی یونٹس یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ نکل سکتا ہے: رانا ثناءاللہ سعودیہ سے جنگ نہیں، امریکا میں ہمت ہے تو ایرانی فوج کا سامنا کرے: مسعود پزشکیان ملائیشین وزیراعظم کا پاکستان پر دہشت گردی کا الزام ماننے سے صاف انکار پٹرولیم لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں: حافظ نعیم الرحمٰن

دماغ میں پیوند لگانے کا مختصر اور نسبتاً آسان طریقہ تیار

Web Desk

12 August 2026

چین کی ایک بائیو ٹیک اسٹارٹ اپ کمپنی ‘اسٹیر میڈ ٹیکنالوجی’ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دماغ میں چپ یا پیوند (Brain-Computer Interface) لگانے کا ایسا جدید اور کم سے کم جراحی والا طریقہ تیار کر لیا ہے جس میں سر کی ہڈی (کھوپڑی) کھولنے یا روایتی سرجری کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ کمپنی کے مطابق یہ پورا عمل محض 10 منٹ کے مختصر وقت میں انجام دیا جا سکے گا۔

اسٹیر میڈ کے شریک بانی ژاؤ ژینگ تو کے مطابق، اس نئے طریقے میں آلہ گردن کی ایک رگ کے ذریعے جسم میں داخل کیا جاتا ہے اور خون کی نالیوں کے قدرتی راستے سے ہوتا ہوا دماغ تک پہنچتا ہے۔ دیگر روایتی طریقوں کے برعکس، جہاں برقی آلات سیدھے دماغی بافتوں کے اندر لگائے جاتے ہیں، یہ چپ خون کی نالی کی بیرونی دیوار کے ساتھ خود کو قائم کرتی ہے۔ شنوو اسپتال کے ڈاکٹر دوان وان رو کا کہنا ہے کہ درمیانے درجے کی مہارت رکھنے والا جراح بھی اسے تقریباً 10 منٹ میں نصب کر سکتا ہے، جبکہ نیورلنک جیسے آلات لگانے کے لیے سرجیکل روبوٹ اور 2 گھنٹے کا وقت درکار ہوتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ٹینسنٹ اور علی بابا جیسے بڑے چینی ٹیکنالوجی اداروں کی جانب سے اسٹیر میڈ کو گزشتہ ایک سال میں 1.1 ارب یوآن (تقریباً 16 کروڑ 30 لاکھ ڈالر) سے زائد کی سرمایہ کاری حاصل ہوئی ہے۔ تاہم یہ ٹیکنالوجی فی الوقت بھیڑوں پر آزمائی جا رہی ہے اور انسانوں پر کلینیکل ٹرائلز شروع ہونا باقی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ 10 منٹ میں پیوندکاری کا یہ دعویٰ عملی طور پر ثابت ہونا باقی ہے۔ امریکی کمپنی ‘سنکرون’ (Synchron) بھی رگوں کے ذریعے برین چپ کی آزمائش کر چکی ہے، مگر چینی کمپنی کا نظام نالی کے باہر نصب ہو کر ایک نیا تجربہ پیش کرتا ہے۔