LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ناروے کے وزیر خارجہ کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 8 اہلکاروں کو اغوا کرلیا: آزاد کشمیر پولیس قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس 17 اگست کو طلب کرنے کا فیصلہ براڈ پیک حادثے میں لاپتہ ہونے والے پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش مل گئی پاکستان کی پہلی چاند گاڑی کا نام جناح-1 رکھ دیا گیا اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں بڑا اضافہ اسرائیلی فورسز جنوبی لبنان میں گھروں کو تباہ اور نذرِ آتش کر رہی ہے: لبنانی میڈیا ملک بھر کیلئے فی یونٹ بجلی مسلسل 3 ماہ تک مہنگی ہونے کا امکان کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 8 اہلکاروں کو اغوا کرلیا: آزاد کشمیر پولیس سعودیہ، ترکیہ اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ علاقائی استحکام کیلئے اہم ہے: فلسطینی صدر پاکستان کی قیادت نے امریکا ایران جنگ کے دوران جرأت مندانہ کردار ادا کیا: ناروے بلوچستان میں گیس کی فراہمی معطل، بولان میں پائپ لائن دھماکے سے متاثر پاکستان کی بڑی جیت، چاول برآمدگی کیس میں بھارت کی اپیل خارج یمنی حوثیوں کا سعودی عرب سے جارحیت روکنے اور ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ

بھولی ہوئی یادیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں، تحقیق میں اہم انکشاف

Web Desk

12 August 2026

ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بظاہر بھولی ہوئی کچھ یادیں دماغ سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں بلکہ خاموش حالت میں محفوظ رہتی ہیں، جنہیں مناسب ماحول یا کسی خاص یاددہانی کے ذریعے دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے۔ پھلوں کی مکھیوں پر کیے گئے تجربات سے معلوم ہوا کہ جس ماحولیاتی پس منظر میں کوئی یاد تشکیل پاتی ہے، اسی سے ملتا جلتا ماحول دوبارہ فراہم کرنے سے وہ یاد ذہن میں واپس آ جاتی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یادیں مٹنے کے بجائے ایک ایسی غیر فعال حالت اختیار کر لیتی ہیں جہاں سے انہیں فوری طور پر یاد کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

ماہرین کے مطابق انسانی یادداشت کا نظام انتہائی پیچیدہ ہے جہاں کچھ یادیں وقت کے ساتھ کمزور ہو جاتی ہیں، جبکہ بعض بظاہر غائب ہونے کے باوجود کسی مخصوص منظر، جگہ، بو یا اشارے سے اچانک تازہ ہو جاتی ہیں۔ تاہم، محققین کا کہنا ہے کہ حقیقی یادوں کی بحالی اور دماغ کی جانب سے غلط یا جھوٹی یادیں تشکیل دینے کے پیچھے موجود عصبی عمل (Neural Mechanisms) کو ابھی پوری طرح سمجھنا باقی ہے۔ یہ تحقیق اس بات کو سمجھنے کے لیے ایک نیا راستہ فراہم کرتی ہے کہ یادیں دماغ میں کس طرح محفوظ رہتی ہیں اور انہیں دوبارہ فعال کرنے میں بیرونی اشارے کیا کردار ادا کرتے ہیں۔