LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور سیاسی جماعتیں عوامی ریلیف اور عملی اقدامات پر توجہ دیں: شرجیل میمن پولٹری سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کیلئے پاکستان اور ڈنمارک کے ادارے میں معاہدہ چار ملکی اجلاس خطے میں امن و سلامتی کے لیے اہم موقع ہے، عباس عراقچی وزیراعظم آزاد کشمیر کا وادی سیماری میں ایکو ٹورازم منصوبے کا دورہ، حکومتی سرپرستی کا اعلان نیتن یاہو فتح کے قریب، میری حمایت نے بہت مدد کی: ٹرمپ کا دعویٰ اسحاق ڈار کا عمانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ملکی ترقی کا راز مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن میں مضمر ہے: شہباز شریف سپین میں دو تیز رفتار ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں، 30 افراد ہلاک وزیراعلیٰ مریم نواز کے کاشتکاروں کیلئے بڑے اعلانات، اپنا کسان بینک قائم کرنے کا فیصلہ

میڈیکل کالجز میں سیٹیں خالی رہنے پر پاسنگ مارکس 50 فیصد کرنے کی تجویز

Web Desk

10 August 2026

میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں میرٹ کا معیار کم کرنے کے باوجود نشستیں خالی رہنے کے سنگین معاملے پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت نے ایم ڈی کیٹ (MDCAT) میں پاسنگ مارکس 50 فیصد مقرر کرنے اور انٹری ٹیسٹ کے مشکل سوالات کی پرسنٹیج کم کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس مہیش کمار کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں ملک بھر کے بعض پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی جانب سے زائد فیسوں کی وصولی کی شکایات اور نشستوں کے خالی رہنے سے متعلق معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی مہیش کمار نے ہدایت کی کہ طے شدہ حد (سالانہ 18 لاکھ روپے) سے زائد فیسیں وصول کرنے والے میڈیکل کالجز کی تفصیلات فوری طور پر کمیٹی کے ساتھ شیئر کی جائیں۔

وفاقی وزیر صحت نے اجلاس کو بتایا کہ مجموعی طور پر 61 میڈیکل کالجز نے فیسوں میں اضافے کی درخواستیں جمع کرائی تھیں، تاہم کوئی بھی ادارہ اپنی مرضی سے فیسیں نہیں بڑھا سکتا۔ کڑے جائزوں کے بعد صرف 35 میڈیکل کالجز ہی فیس میں اضافے کے لیے مقرر کردہ لازمی شرائط پوری کر سکے ہیں، جبکہ باقی کالجز کو فیس بڑھانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے صدر نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ جن کالجز کے خلاف طے شدہ حد سے زیادہ فیسیں لینے کی شکایات موصول ہوئی ہیں، انہیں باقاعدہ نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔ ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیٹیں خالی رہنے کی بنیادی وجہ صرف فیسیں نہیں ہیں، کیونکہ جن کالجز کی سالانہ فیس 35 لاکھ روپے تک ہے وہاں کی کوئی بھی سیٹ خالی نہیں رہی۔ صدر پی ایم ڈی سی نے مزید بتایا کہ پنجاب کے سرکاری کالجز میں 468 نشستیں اور فاٹا کی 315 نشستیں بڑھا دی گئی ہیں، تاہم سندھ کی نشستیں اس لیے نہیں بڑھائی گئیں کیونکہ وہاں سے اس کے لیے باضابطہ اپلائی ہی نہیں کیا گیا تھا۔