LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ورلڈ الٹیمیٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ، ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا: حافظ نعیم الرحمٰن ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ عراق کا ایران کے ساتھ 3 سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کرنے کا اعلان سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ، عراقی فورسز نے لانچنگ سائٹ کا سراغ لگا لیا وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے: سلمان اکرم راجہ ہرنائی میں پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن، 5 کان کن زندہ نکال لیے پٹرولیم لیوی کیخلاف جدوجہد سے حکومت ریلیف دینے پر مجبور ہوئی: حافظ نعیم وزیراعظم کا عوام کیلئے خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کا اعلان پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف: حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات منگل تک موخر صوبوں کی تقسیم سے انتظامی یونٹس یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ نکل سکتا ہے: رانا ثناءاللہ سعودیہ سے جنگ نہیں، امریکا میں ہمت ہے تو ایرانی فوج کا سامنا کرے: مسعود پزشکیان ملائیشین وزیراعظم کا پاکستان پر دہشت گردی کا الزام ماننے سے صاف انکار پٹرولیم لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں: حافظ نعیم الرحمٰن

میڈیکل کالجز میں سیٹیں خالی رہنے پر پاسنگ مارکس 50 فیصد کرنے کی تجویز

Web Desk

10 August 2026

میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں میرٹ کا معیار کم کرنے کے باوجود نشستیں خالی رہنے کے سنگین معاملے پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت نے ایم ڈی کیٹ (MDCAT) میں پاسنگ مارکس 50 فیصد مقرر کرنے اور انٹری ٹیسٹ کے مشکل سوالات کی پرسنٹیج کم کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس مہیش کمار کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں ملک بھر کے بعض پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی جانب سے زائد فیسوں کی وصولی کی شکایات اور نشستوں کے خالی رہنے سے متعلق معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی مہیش کمار نے ہدایت کی کہ طے شدہ حد (سالانہ 18 لاکھ روپے) سے زائد فیسیں وصول کرنے والے میڈیکل کالجز کی تفصیلات فوری طور پر کمیٹی کے ساتھ شیئر کی جائیں۔

وفاقی وزیر صحت نے اجلاس کو بتایا کہ مجموعی طور پر 61 میڈیکل کالجز نے فیسوں میں اضافے کی درخواستیں جمع کرائی تھیں، تاہم کوئی بھی ادارہ اپنی مرضی سے فیسیں نہیں بڑھا سکتا۔ کڑے جائزوں کے بعد صرف 35 میڈیکل کالجز ہی فیس میں اضافے کے لیے مقرر کردہ لازمی شرائط پوری کر سکے ہیں، جبکہ باقی کالجز کو فیس بڑھانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے صدر نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ جن کالجز کے خلاف طے شدہ حد سے زیادہ فیسیں لینے کی شکایات موصول ہوئی ہیں، انہیں باقاعدہ نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔ ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیٹیں خالی رہنے کی بنیادی وجہ صرف فیسیں نہیں ہیں، کیونکہ جن کالجز کی سالانہ فیس 35 لاکھ روپے تک ہے وہاں کی کوئی بھی سیٹ خالی نہیں رہی۔ صدر پی ایم ڈی سی نے مزید بتایا کہ پنجاب کے سرکاری کالجز میں 468 نشستیں اور فاٹا کی 315 نشستیں بڑھا دی گئی ہیں، تاہم سندھ کی نشستیں اس لیے نہیں بڑھائی گئیں کیونکہ وہاں سے اس کے لیے باضابطہ اپلائی ہی نہیں کیا گیا تھا۔