LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا میں بس حادثے کی لائیو کوریج کرنے والا نیوز ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 3 افراد ہلاک پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں عملے کی بھرتیوں کا 150 سالہ پرانا نظام ختم پی آئی اے کی جدہ پہنچنے والی پرواز میں آگ کی اطلاع پر مسافروں کا ہنگامی اخراج بشری بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی اپیل پر جلد سماعت کیلئے آئینی عدالت سے رجوع ملک میں طبقاتی کشمکش اور پی ٹی آئی رہنماؤں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے، سپریم کورٹ میں بے بسی دیکھی: سلمان اکرم راجہ افغانستان سے دہشتگردی کے خطرات پر دفاع میں کارروائی کریں گے: عاصم افتخار حرمین شریفین کی حرمت، سعودی عرب کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: دفتر خارجہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کردی حوثیوں کا سعودی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، اتحادی افواج کے کمیونیکیشن ٹاورز پر حملے ہونہار اور مستحق طلبہ کو میرٹ پر معیاری تعلیم کی فراہمی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم ایران کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے، جنگ کے خاتمہ کے قریب ہیں: ٹرمپ مکہ مکرمہ کی حفاظت کیلئے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں: خواجہ آصف سفارتی حل کیلئے تیار، قومی خود مختاری کا دفاع کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ ایران جنگ: امریکی وزیر جنگ کا مواخذہ کرنیکی قرارداد ایوان میں پیش اقوام متحدہ اجلاس: امریکی صدر کی خلیج تعاون کونسل رکن ممالک سے ملاقاتیں متوقع

بلدیاتی نظام کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، فنڈز محلے تک پہنچائے جائیں؛ وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال

Web Desk

7 July 2026

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے پمز (PIMS) ہسپتال میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی اور پرائمری ہیلتھ سسٹم کی کمزوری کو صحت کے مسائل کی اصل وجہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پمز ہسپتال 1984 میں صرف 7 لاکھ کی آبادی کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن آج اسلام آباد کی آبادی 50 لاکھ ہو چکی ہے اور روزانہ 7 سے 9 ہزار مریض یہاں آ رہے ہیں، جس سے ہسپتال پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ 28 بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) کا غیر فعال ہونا ہماری کوتاہی ہے، تاہم اب پمز میں ‘فیرا پلس’ مشین فعال کر دی گئی ہے جس کے تحت دل کے مریضوں کا مفت علاج ہو گا۔ وفاقی وزیر نے آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیملی پلاننگ پر زور دیا اور کہا کہ صرف ہسپتال بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے 18ویں ترمیم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاق سے 8,848 ارب روپے کے فنڈز لے کر چاروں وزرائے اعلیٰ کو تو دے دیے گئے لیکن نیچے محلے کی سطح پر فنڈز منتقل کرنے کا کوئی نظام نہیں، جس کے باعث عوام صاف پانی اور بنیادی صحت جیسی سہولیات سے محروم ہیں۔