بلدیاتی نظام کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، فنڈز محلے تک پہنچائے جائیں؛ وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال
Web Desk
7 July 2026
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے پمز (PIMS) ہسپتال میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی اور پرائمری ہیلتھ سسٹم کی کمزوری کو صحت کے مسائل کی اصل وجہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پمز ہسپتال 1984 میں صرف 7 لاکھ کی آبادی کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن آج اسلام آباد کی آبادی 50 لاکھ ہو چکی ہے اور روزانہ 7 سے 9 ہزار مریض یہاں آ رہے ہیں، جس سے ہسپتال پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ 28 بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) کا غیر فعال ہونا ہماری کوتاہی ہے، تاہم اب پمز میں ‘فیرا پلس’ مشین فعال کر دی گئی ہے جس کے تحت دل کے مریضوں کا مفت علاج ہو گا۔ وفاقی وزیر نے آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیملی پلاننگ پر زور دیا اور کہا کہ صرف ہسپتال بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے 18ویں ترمیم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاق سے 8,848 ارب روپے کے فنڈز لے کر چاروں وزرائے اعلیٰ کو تو دے دیے گئے لیکن نیچے محلے کی سطح پر فنڈز منتقل کرنے کا کوئی نظام نہیں، جس کے باعث عوام صاف پانی اور بنیادی صحت جیسی سہولیات سے محروم ہیں۔
متعلقہ عنوانات
پمز ہسپتال کی آتشزدگی میں زندہ بچ جانے والی نومولود بچی انتقال کر گئی
17 September 2026
جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرنے والوں میں نایاب بیماری کا انکشاف
17 September 2026
خیبر پختونخوا صحت پروگرام میں سی سیکشن کی شرح 47 فیصد سے تجاوز کرگئی
17 September 2026
وزیراعظم کی 3 ماہ میں پمز ہسپتال میں فائر سیفٹی سمیت نظام بہتر کرنے کی ہدایت
16 September 2026
ملک بھر میں 20 ستمبر کو ایم ڈی کیٹ کا انعقاد: 1 لاکھ 38 ہزار سے زائد طلبہ امتحان دیں گے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال
16 September 2026
حالتِ سکون میں پاؤں کی ہڈیوں میں درد دل کی خطرناک بیماری کی علامت، ماہرین
16 September 2026
سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جا سکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات
15 September 2026
خواتین میں مصنوعی پلکوں کا استعمال، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
15 September 2026