LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
قیدِ تنہائی کے الزامات سنگین، نظر انداز نہیں کر سکتے، اسلام آباد ہائیکورٹ کا بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر تحریری حکم نامہ جاری امریکی صدر ٹرمپ نیٹو اجلاس میں شرکت کیلئے ترکیہ پہنچ گئے وفاقی حکومت نے نیشنل پاپولیشن کونسل تشکیل دے دی، وزیر اعظم چیئرمین اور آرمی چیف رکن مقرر پاکستان، کرغزستان کا تجارت، سرمایہ کاری اور سٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق شام میں فرانسیسی صدر کی قیام گاہ کے قریب دو دھماکے، 18 افراد زخمی وفاقی وزیرِ خزانہ کا بڑا اقدام؛ اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں ‘ایس ایم ای فنانس ٹاسک فورس’ قائم چین: 325 ملین ڈالرز رشوت لینے پر سرکاری عہدیدار کو سزائے موت کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، بی ایل اے کے 2 دہشت گرد گرفتار حکومت پیٹرول پر لیوی کا بھتہ وصول کر رہی ہے، قیمت 225 روپے ہونی چاہیے؛ حافظ نعیم الرحمن ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی آسان بنائی جائے؛ وزیرِ اعظم معیشت مضبوط استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جی ڈی پی 3.7 فیصد ریکارڈ؛ وزیرِ خزانہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان کے باعث ریکارڈ ٹوٹنے کا سلسلہ برقرار اقوام متحدہ کا ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید یو اے ای میں ‘ویزا آن ارائیول’ کی شرائط تبدیل، کیا اب آپ اہل ہیں؟

بلدیاتی نظام کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، فنڈز محلے تک پہنچائے جائیں؛ وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال

Web Desk

7 July 2026

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے پمز (PIMS) ہسپتال میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی اور پرائمری ہیلتھ سسٹم کی کمزوری کو صحت کے مسائل کی اصل وجہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پمز ہسپتال 1984 میں صرف 7 لاکھ کی آبادی کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن آج اسلام آباد کی آبادی 50 لاکھ ہو چکی ہے اور روزانہ 7 سے 9 ہزار مریض یہاں آ رہے ہیں، جس سے ہسپتال پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ 28 بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) کا غیر فعال ہونا ہماری کوتاہی ہے، تاہم اب پمز میں ‘فیرا پلس’ مشین فعال کر دی گئی ہے جس کے تحت دل کے مریضوں کا مفت علاج ہو گا۔ وفاقی وزیر نے آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیملی پلاننگ پر زور دیا اور کہا کہ صرف ہسپتال بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے 18ویں ترمیم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاق سے 8,848 ارب روپے کے فنڈز لے کر چاروں وزرائے اعلیٰ کو تو دے دیے گئے لیکن نیچے محلے کی سطح پر فنڈز منتقل کرنے کا کوئی نظام نہیں، جس کے باعث عوام صاف پانی اور بنیادی صحت جیسی سہولیات سے محروم ہیں۔