LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
قومی و صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتی نشستیں بڑھانے کیلئے درخواست دائر ایران نے چین سے سیکڑوں فضائی دفاعی میزائل خریدنے کا معاہدہ کر لیا، رائٹرز کا دعویٰ روزگار کیلئے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام کیا جائے: وزیراعظم آبنائے ہرمز کے انتظام پر صرف ایران اور عمان کا حق ہے: سینئر ایرانی عہدیدار عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 2 ڈالرز سے زائد اضافہ مون سون کے نئے سپیل کی انٹری، لاہور سمیت جڑواں شہروں میں بادل برس پڑے پنجاب بھر سے غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کے انخلا کا عمل جاری جاپان میں 7.1 شدت کے زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 13 ہوگئی، متعدد لاپتہ پی ٹی آئی نے آزاد کشمیر انتخابات کو مسترد کر دیا، بانی چیئرمین کے بنیادی و انسانی حقوق کی بحالی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام سے متعلق عمان کی تجویز مسترد کردی سعودی عرب اور سینٹ کام کے عراق میں ایران نواز گروپوں کے ٹھکانوں پر حملے گزشتہ 15 روز کے دوران امریکا سے مذاکرات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا، کاظم غریب آبادی جنگ کے باعث ایران میں لاکھوں افراد کو روزگار اور معاشی مشکلات کا سامنا ایرانی میزائل حملے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ اسرائیلی فوج کی جنوبی لبنان کے ضلع صور میں ایک بار پھر بمباری

کانگو میں ایبولا وائرس کے علاج کے ممکنہ طریقوں پر آزمائشی تحقیق کا آغاز

Web Desk

4 July 2026

عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے ایک تاریخی اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں پھیلے مہلک ایبولا وائرس کے علاج کے لیے ممکنہ ادویات کی آزمائشی تحقیق (Clinical Trials) کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس اہم سائنسی تحقیق کے تحت پہلے مریض کو شامل کر کے دوا دینے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جسے طبی ماہرین اس موذی وبا پر قابو پانے کی جانب ایک انقلابی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ کے مطابق، جمہوریہ کانگو میں اب تک 1 ہزار 460 سے زائد مریضوں میں ایبولا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ اس جان لیوا وائرس کے باعث 452 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ ایبولا وائرس کی اس مخصوص قسم کے لیے تاحال دنیا میں نہ تو کوئی منظور شدہ حفاظتی ٹیکہ (ویکسین) موجود ہے اور نہ ہی کوئی باقاعدہ علاج دستیاب ہے۔

یہ آزمائشی تحقیق عالمی ادارۂ صحت کی براہِ راست سرپرستی میں انجام دی جا رہی ہے۔ اس کی نگرانی جمہوریہ کانگو کا قومی طبی تحقیقی ادارہ، بیلجیم کا ادارۂ امراضِ استوائی (Institute of Tropical Medicine) اور برطانیہ کی معروف آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دان مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔ تحقیق کے دوران مریضوں پر وائرس کے خلاف مؤثر سمجھی جانے والی دو مختلف تجرباتی ادویات آزمائی جائیں گی تاکہ ان کے محفوظ ہونے اور وائرس کو ختم کرنے کی صلاحیت کا موازنہ کیا جا سکے۔

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس وقت بھی کچھ مریض مضبوط مدافعتی نظام کے باعث علاج کے بغیر صحت یاب ہو رہے ہیں، تاہم اگر سائنسی طور پر محفوظ اور مؤثر ادویات سامنے آ گئیں تو مستقبل میں ہزاروں قیمتی جانیں بچائی جا سکیں گی۔ جمہوریہ کانگو کے وزیرِ صحت نے اس پیش رفت کو متاثرہ مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے امید کی نئی کرن قرار دیا ہے۔