LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اہم سمریوں کی منظوری دے دی نیویارک سے 36 نایاب اور چوری شدہ پاکستانی نوادرات کی واپسی، امریکہ اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی ملائیشیا کا اسرائیلی فوج کیلئے امداد کو اپنے ملک سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان اقوام متحدہ کا معائنہ کاروں کو غزہ کے تمام حصوں تک رسائی دینے کا مطالبہ ٹرمپ انتظامیہ کا اسرائیل کو تباہی کیلئے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم فروخت کرنے کا منصوبہ صومالی صدر کی رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات، انسانی خدمات پر تبادلہ خیال جاپانی وزیراعظم کا حکمراں جماعت اور کابینہ میں ردوبدل کا اعلان روسی حملے روکنے پر یوکرین کا بھی بعض اہداف پر حملے روکنے کا اعلان پاکستان کا حوثی حملوں کے خلاف سعودی دفاعی اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان آئندہ چند ماہ میں ایران جنگ بالکل مختلف مرحلے میں داخل ہو جائے گی، جے ڈی وینس لیتھوانیا کی فضائی حدود میں داخل ہونے والا ڈرون تباہ کر دیا گیا جرمنی میں طیارہ حادثے کا شکار، 3 ڈچ شہری ہلاک کولمبیا میں 5.2 شدت کا زلزلہ امریکی ایوان نمائندگان میں روس پر پابندیاں سخت کرنے کا بل منظور

کانگو میں ایبولا وائرس کے علاج کے ممکنہ طریقوں پر آزمائشی تحقیق کا آغاز

Web Desk

4 July 2026

عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے ایک تاریخی اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں پھیلے مہلک ایبولا وائرس کے علاج کے لیے ممکنہ ادویات کی آزمائشی تحقیق (Clinical Trials) کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس اہم سائنسی تحقیق کے تحت پہلے مریض کو شامل کر کے دوا دینے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جسے طبی ماہرین اس موذی وبا پر قابو پانے کی جانب ایک انقلابی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ کے مطابق، جمہوریہ کانگو میں اب تک 1 ہزار 460 سے زائد مریضوں میں ایبولا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ اس جان لیوا وائرس کے باعث 452 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ ایبولا وائرس کی اس مخصوص قسم کے لیے تاحال دنیا میں نہ تو کوئی منظور شدہ حفاظتی ٹیکہ (ویکسین) موجود ہے اور نہ ہی کوئی باقاعدہ علاج دستیاب ہے۔

یہ آزمائشی تحقیق عالمی ادارۂ صحت کی براہِ راست سرپرستی میں انجام دی جا رہی ہے۔ اس کی نگرانی جمہوریہ کانگو کا قومی طبی تحقیقی ادارہ، بیلجیم کا ادارۂ امراضِ استوائی (Institute of Tropical Medicine) اور برطانیہ کی معروف آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دان مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔ تحقیق کے دوران مریضوں پر وائرس کے خلاف مؤثر سمجھی جانے والی دو مختلف تجرباتی ادویات آزمائی جائیں گی تاکہ ان کے محفوظ ہونے اور وائرس کو ختم کرنے کی صلاحیت کا موازنہ کیا جا سکے۔

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس وقت بھی کچھ مریض مضبوط مدافعتی نظام کے باعث علاج کے بغیر صحت یاب ہو رہے ہیں، تاہم اگر سائنسی طور پر محفوظ اور مؤثر ادویات سامنے آ گئیں تو مستقبل میں ہزاروں قیمتی جانیں بچائی جا سکیں گی۔ جمہوریہ کانگو کے وزیرِ صحت نے اس پیش رفت کو متاثرہ مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے امید کی نئی کرن قرار دیا ہے۔