LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اہم سمریوں کی منظوری دے دی نیویارک سے 36 نایاب اور چوری شدہ پاکستانی نوادرات کی واپسی، امریکہ اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی ملائیشیا کا اسرائیلی فوج کیلئے امداد کو اپنے ملک سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان اقوام متحدہ کا معائنہ کاروں کو غزہ کے تمام حصوں تک رسائی دینے کا مطالبہ ٹرمپ انتظامیہ کا اسرائیل کو تباہی کیلئے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم فروخت کرنے کا منصوبہ صومالی صدر کی رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات، انسانی خدمات پر تبادلہ خیال جاپانی وزیراعظم کا حکمراں جماعت اور کابینہ میں ردوبدل کا اعلان روسی حملے روکنے پر یوکرین کا بھی بعض اہداف پر حملے روکنے کا اعلان پاکستان کا حوثی حملوں کے خلاف سعودی دفاعی اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان آئندہ چند ماہ میں ایران جنگ بالکل مختلف مرحلے میں داخل ہو جائے گی، جے ڈی وینس لیتھوانیا کی فضائی حدود میں داخل ہونے والا ڈرون تباہ کر دیا گیا جرمنی میں طیارہ حادثے کا شکار، 3 ڈچ شہری ہلاک کولمبیا میں 5.2 شدت کا زلزلہ امریکی ایوان نمائندگان میں روس پر پابندیاں سخت کرنے کا بل منظور

بھارت میں سور کا گوشت کھانے کے بعد خاتون کے دماغ میں 38 کیڑے پیدا ہوگئے

Web Desk

2 July 2026

برطانیہ کے علاقے ویلز سے تعلق رکھنے والی 42 سالہ خاتون لاؤری ڈینمین اپنی زندگی کے ایک عجیب و غریب اور انتہائی تکلیف دہ طبی دور سے گزر رہی ہیں، جس کا تاریک لنک سال 2007 میں ان کے دورۂ بھارت سے جڑا ہوا پایا گیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، لاؤری ڈینمین کو پہلی بار 2010 میں اس وقت ایک غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب بیت الخلا استعمال کرنے کے بعد انہوں نے تقریباً ایک میٹر لمبا کیڑا دیکھا۔ اس وقت بنیادی طبی ٹیسٹس نارمل آنے پر انہوں نے اسے زیادہ اہمیت نہ دی، لیکن کچھ عرصے بعد مسلسل رہنے والے شدید سر درد نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی اور اگلے ہی سال 2011 میں انہیں مرگی کا پہلا شدید دورہ پڑا، جس کے باعث وہ بے ہوش ہو گئیں اور بولنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوئی۔

ہسپتال میں سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی ٹیسٹ کے بعد ڈاکٹروں نے یہ ہولناک انکشاف کیا کہ خاتون کے دماغ میں 38 لاروا (Larvae) موجود ہیں۔ مزید طبی معائنے کے بعد تصدیق ہوئی کہ وہ “نیورو سسٹیسرکوسس” (Neurocysticercosis) نامی نایاب بیماری کا شکار ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ بیماری تب ہوتی ہے جب سور کے ٹیپ ورم کے انڈے انسانی جسم میں داخل ہو کر دماغ سمیت مختلف اعضا میں ٹھکانہ بنا لیتے ہیں۔

خاتون کا طویل عرصے تک اینٹی پیراسائٹ ادویات اور اسٹیرائیڈز کے ذریعے علاج کیا گیا، جس کے مضر اثرات (سائیڈ ایفیکٹس) کے باعث وہ شدید ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی ساخت میں تبدیلی کا شکار بھی رہیں۔ طویل علاج کے بعد اب ان کے دماغ کے تمام لاروا مر کر ختم ہو چکے ہیں اور خوش قسمتی سے سرجری کی ضرورت نہیں پڑی، تاہم احتیاط کے طور پر انہیں زندگی بھر مرگی کی دوا کھانا ہو گی۔ ان کے معالج ڈاکٹر برینڈن ہیلی کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں یہ بیماری انتہائی نایاب ہے اور انہوں نے اپنے پورے کیریئر میں ایسا صرف ایک کیس دیکھا ہے۔

صحت یابی کے بعد لاؤری ڈینمین نے بتایا کہ وہ 2007 میں 3 ماہ کے لیے بھارت گئی تھیں جہاں انہوں نے فوڈ پوائزننگ سے بچنے کے لیے گوشت سے پرہیز تو کیا تھا، البتہ سور کے گوشت (Pork) سے بنے کچھ کھانے کھائے تھے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق یہ بیماری ناقص صفائی، آلودہ پانی یا سور کے ٹیپ ورم کے انڈے جسم میں جانے سے پھیلتی ہے۔ لاؤری اب اپنی اس کہانی کے ذریعے دنیا بھر میں صفائی ستھرائی اور اچھی طرح پکے ہوئے گوشت کے استعمال سے متعلق شعور بیدار کرنا چاہتی ہیں۔