LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حرمین شریفین کی حرمت، سعودی عرب کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: دفتر خارجہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کردی حوثیوں کا سعودی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، اتحادی افواج کے کمیونیکیشن ٹاورز پر حملے ہونہار اور مستحق طلبہ کو میرٹ پر معیاری تعلیم کی فراہمی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم ایران کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے، جنگ کے خاتمہ کے قریب ہیں: ٹرمپ مکہ مکرمہ کی حفاظت کیلئے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں: خواجہ آصف سفارتی حل کیلئے تیار، قومی خود مختاری کا دفاع کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ ایران جنگ: امریکی وزیر جنگ کا مواخذہ کرنیکی قرارداد ایوان میں پیش اقوام متحدہ اجلاس: امریکی صدر کی خلیج تعاون کونسل رکن ممالک سے ملاقاتیں متوقع جنرل اسمبلی اجلاس: امریکا کا فلسطینی صدر اور حکام کو ویزے دینے سے انکار ایران کے جوابی حملے: امریکی فوجی اڈوں، طیاروں، دیگر نقصانات کی تصاویر سامنے آگئیں اماراتی وزیر خارجہ کی امریکی مشیر مسعد بولس سے ملاقات، سٹریٹجک تعلقات پر تبادلہ خیال صدر ٹرمپ کا امریکا میں شرح سود ایک فیصد یااس سے کم کرنے کا مطالبہ معرکہ حق میں عظیم فتح سے پاکستان کو دنیا میں نئی پہچان ملی: احسن اقبال امریکی فیڈرل ریزرو نے بنیادی شرح سود میں اضافہ کردیا

وٹامن ڈی نہیں لیا تو اس خطرے سے باخبر رہیں، نئی تحقیق

Web Desk

5 July 2026

آسٹریلیا میں ہونے والی ایک جدید طبی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جسم میں وٹامن ڈی کی کمی نہ صرف ہڈیوں کو کمزور بناتی ہے بلکہ دل کی شریانوں کے امراض اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرے میں بھی نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی اور دل کی بیماریوں کے درمیان انتہائی مضبوط تعلق پایا گیا ہے۔ محققین نے جینیاتی شواہد کی مدد سے معلوم کیا ہے کہ جن افراد میں وٹامن ڈی کی سطح کم ہوتی ہے، ان میں مناسب مقدار رکھنے والے افراد کے مقابلے میں امراضِ قلب (Cardiovascular Diseases) کا خطرہ دو گنا سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں دل کی شریانوں سے متعلق بیماریاں اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہیں، اس لیے اس اہم وٹامن کی کمی پر قابو پا کر ان بیماریوں کے عالمی بوجھ میں نمایاں حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ اگرچہ اس وٹامن کی شدید کمی نسبتاً کم افراد میں دیکھی جاتی ہے، تاہم اس کی معتدل کمی بہت عام ہے جس پر بروقت توجہ دینا انتہائی ضروری ہے۔ خصوصاً ایسے افراد جو زیادہ تر وقت گھروں یا دفاتر کے اندر گزارتے ہیں اور سورج کی روشنی میں کم نکلتے ہیں، وہ اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

محققین کے مطابق وٹامن ڈی کو مچھلی، انڈوں اور فورٹیفائیڈ (وٹامن سے بھرپور) غذاؤں اور مشروبات کے ذریعے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن صرف غذا کے ذریعے اس کی مطلوبہ مقدار پوری کرنا اکثر ممکن نہیں ہوتا۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ سورج کی روشنی وٹامن ڈی حاصل کرنے کا سب سے آسان، مؤثر اور مفت ذریعہ ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی وجہ سے دھوپ میں مناسب وقت گزارنا ممکن نہ ہو، تو ڈاکٹر کے مشورے سے روزانہ وٹامن ڈی سپلیمنٹس کا استعمال لازمی کیا جائے تاکہ ہڈیوں کے ساتھ ساتھ دل کی صحت کو بھی توانا رکھا جا سکے۔